مبتدعین کے دلائل سے امامیہ شیعہ کے دلائل کا ٹکراؤ: - ردِ…

مبتدعین کے دلائل سے امامیہ شیعہ کے دلائل کا ٹکراؤ:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

مبتدعین کے دلائل سے امامیہ شیعہ کے دلائل کا ٹکراؤ:مقصود یہاں یہ ہے کہ اس امامیہ شیعہ سے کہا جائے گا کہ تیرے بھائی تو یہ کہتے ہیں کہ ان کاعقیدہ ہی حق ہے؛ تیراعقیدہ نہیں ۔ اورتم نے اپنے قول پر اسی بات کو بطورِ دلیل پیش کیا ہے کہ وہ جسم نہیں ہے۔ اور یہ تیرے بھائی مبتدعین تو یہ کہتے ہیں کہ:’’ وہ جسم ہے۔‘‘ توتم ان کے ساتھ مناظرہ کر لو؛کیونکہ وہ امامت کے مسئلہ میں تیرے بھائی ہیں ۔ اور توحید کے مسئلہ میں تیرے خصم (مدمقابل )ہیں ۔ اور ایسے ہی چاہیے کہ تم ان خوارج سے مناظرہ کرو جو تیرے مخالفہیں ،رہے اہل سنت وہ تو تیرے اور تیرے خصوم کے درمیان حد فاصل ہیں ۔ اور تم اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ تو اپنے ان مخالفین کے دلائل کو رد کر دے؛ نہ یہ اور نہ یہ۔اگر تم یہ کہو کہ میری حجت ان لوگوں کے خلاف یہ ہے کہ:’’ ہر جسم حادث ہے۔‘‘تو وہ مد مقابل تمہارے بھائی یہ کہیں گے کہ:’’ جسم ہمارے ہاں دوا قسام میں منقسم ہوتاہے: ایک قدیم اور ایک حادث۔ جس طرح کہ قائم بنفسہ اور موجود اور حی اور عالم اور قادر ذات قدیم اور حادث میں تقسیم ہوتی ہے ۔اگرمنکرین صفات یہ کہیں کہ جسم حوادث سے خالی نہیں ۔ اور جو چیز حوادث سے خالی نہ ہو وہ خود حادث ہوتی ہے۔ تو اس کے مدِ مقابل اسے کہیں گے : ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ حوادث سے خالی نہیں ہوتا اور اگر ہم اس بات کو تسلیم کرلیں تو ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے کہ جو بھی چیز حوادث سے خالی نہ ہو وہ بھی حادث ہے۔ اورحوادث سے خالی نہ ہونے کی یہ ہے کہ وہ اعراض سے خالی نہیں ہوتا؛ اور اعراض تو حادث ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہ عرض دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا۔ا سے امتداد نہیں ہوتا۔ اور عالم کے حدوث کے مسئلہ میں بہت سے کلابیہ نے اس دلیل پراعتماد کیا ہے۔ امام آمدی نے بھی اس پر اعتماد کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ ہر دلیل پر اعتراض کیا ہے۔اورکہا ہے یہ اشعریہ کا طریقہ ہے۔ اور جس نے بھی آمدی کے کلام کا تعقب کیا ؛ اس نے اس کی دلیل کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے: یہ تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس اصلِ عظیم کی بنیاد اس ضعیف مقدمہ پر رکھی جائے ۔درحقیقت میں نے امام اشعری رحمہ اللہ کا کلام دیکھاہے ۔میں نے دیکھا ہے کہ اس کی معتمد دلیل یہ ہے کہ : اجسام اجتماع اور افتراق سے خالی نہیں ہوتے ؛اس لیے کہ اجسام جواہرِ فردہ سے مرکب ہوتے ہیں ۔ پس اس نے اعراض میں سے صرف اس نوع کے ساتھ اجسام کے استلزام سے استدلال کیا ہے۔ یہ نوع حادث ہے اس لیے کہ یہ عدم کے بعد وجود میں آئی ہے۔ لیکن یہ جواہر فردہ سے مرکب ہونے پر مبنی ہے ۔اور جمہورِ عقلاء خواہ وہ مسلمان ہوں یا کوئی دیگر ،وہ سبھی اس کی نفی کرتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 2