Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا شمار ان سرکش لوگوں میں ہوتا تھا جو قبل از اسلام اسلام کے خلاف برسرپیکار تھے، سیرت نبویﷺ پر مشتمل کتابیں اسلام اور صاحب اسلام کے خلاف ان کے اعمال و کردار کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں مگر جب اللہ نے انہیں رشد و ہدایت سے نوازنا چاہا تو وہ فتح مکہ سے تھوڑا عرصہ قبل مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خصوصی اعزاز سے نوازتے ہوئے فرمایا: ’’جو شخص ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہو گا اسے امن حاصل ہو گا۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4280)

سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی اپنے اندر ایک اہم تربیتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ امان کے لیے ان کے گھر کی تخصیص ہی ایک ایسی قابل قدر چیز تھی جس سے سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو ذہنی تسکین حاصل ہوئی۔ اسی چیز نے انہیں اسلام پر ثابت قدمی عطا کی اور انہیں ایمان کی تقویت بخشی۔

(قصص القرآن:جلد 2 صفحہ 403 سے ماخوذ)

یہ ترکیب نبوی کا کریمانہ انداز اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ اس سے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے دل و دماغ سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں نفرت و کینہ کے جراثیم کا خاتمہ ہو گیا اور ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اگر وہ مخلص رہے تو اسی سے انہیں اسلام میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہو گا وہ قریش مکہ کے ہاں انہیں حاصل شدہ اعزاز و اکرام سے کسی بھی طرح کم نہیں ہو گا۔

(قرأۃ سیاسیۃ للسیرۃ النبویۃ: محمد رووس: صفحہ 245)

یہی وہ کریمانہ منہج نبوی ہے جسے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت علماء کرام اور دعوت الی اللہ کا فریضہ سر انجام دینے والے حضرات کو پورے طور پر اپنانا اور اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

(السیرۃ النبویۃ: صلابی: 21497)

مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا اسلام بہت خوب رہا اور انہوں نے اسلام کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ آپؓ غزوہ حنین کے موقع پر اور طائف کا محاصرہ کرتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک عمل رہے۔ ان کی ایک آنکھ اسی دوران ضائع ہوئی جبکہ دوسری آنکھ سے جنگ یرموک کے موقع پر محروم ہو گئے تھے۔

(التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 203 )

بنو ثقیف پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لات نامی بت کو توڑنے کے لیے بھیجا۔ یہ بت اگرچہ بنوثقیف کا تھا مگر قریش مکہ بھی اس کی بڑی تعظیم کیا کرتے تھے۔ مذکورہ بالا واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے دل میں ایمان گھر کر چکا تھا اور ان کے رگ و ریشہ میں بس چکا تھا۔ قبل ازیں سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام میں جو چیز حائل تھی وہ ریاست و حکومت کے ساتھ ان کی دلی محبت تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ان نفسیاتی عوامل کو ملحوظ خاطر رکھا جن کا نہ صرف یہ کہ ابو سفیان پر گہرا اثر ہوا بلکہ فتح مکہ کے بعد قریش کے سرکردہ لوگوں پر بھی اس کے بڑے اثرات مرتب ہوئے۔ آپ نے نہ صرف یہ کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کو دارالامان قرار دیا بلکہ غزوۂ حنین کے موقع پر حاصل ہونے والے مال غنیمت سے بھی دوسرے مولفۃ القلوب کی طرح انہیں حصہ دیا گیا۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 142)

زمانۂ جاہلیت میں سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کارروائیاں کیں وہ انہیں بھولے نہیں تھے، لہٰذا انہیں شوق دامنگیر ہوا کہ وہ اس سے کہیں بڑھ کر اسلام کی خدمت کریں گے۔ اسی حوالہ سے مفسر ابن کثیر رقمطراز ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ان کا شمار سادات قریش میں ہوتا تھا جبکہ غزوۂ بدر کے بعد انہوں نے تن تنہا اس منصب کی ذمہ داریاں سنبھال لیں، پھر جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو ان کا اسلام بھی خوب رہا اور انہوں نے جنگ یرموک نیز اس سے ماقبل و مابعد بھی مختلف مواقع پر دفاع اسلام کے لیے قابل تعریف کردار ادا کیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 397)

سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے موقع پر مجھے ایک ایسے شخص کی آواز سنائی دے رہی تھی جو کہہ رہا تھا: نصرت الہٰی قریب ہے۔ اس وقت مسلمان اور رومی ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھے،

میں نے جب ادھر ادھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کے جھنڈے کے نیچے داد شجاعت دے رہے تھے۔

(التبـیـین فی انساب القرشیین: صفحہ 203)

یہ بھی مروی ہے کہ جنگ یرموک کے موقع پر وہ گھوڑوں کے مجمع میں کھڑے لوگوں سے کہہ رہے تھے: ’’اللہ اللہ تم عرب کے محافظ اور اسلام کے مددگار ہو۔‘‘ جبکہ وہ روم کے محافظ اور شرک کے مددگار ہیں، یا اللہ! یہ دن بھی تیرے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ یا اللہ! اپنے بندوں کی نصرت فرما۔ بااختلاف روایات سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے اکتیس، بتیس، تینتیس یا چونتیس ہجری میں وفات پائی،

(ایضاً: صفحہ 203)

اور ان کے بیٹے معاویہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ان کی نماز جنازہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تھی، اس وقت ان کی عمر اسی برس اور ایک دوسرے قول کی رو سے نوے برس سے کچھ زائد تھی۔

( ایضاً: صفحہ 204)