جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 1 از 5
اجتہادِ جہد سے بابِ افتعال ہے، لغت میں اس کا معنیٰ انتہائی محنت اور کوشش ہے، اسماعیل الجوہریؒ لکھتے ہیںبذل الوسع والمجهود و عبارة عن استفراغ الوسع في أي فعل كان
(الصحاح: جلد، 1 صفحہ، 460)
(المحصول: صفحہ، 3، 7، 8)
’’کسی کام کی انجام دہی میں تکلیف و مشقت اٹھاتے ہوئے اپنی پوری کوشش صرف کرنا۔‘‘
احناف کے ہاں اجتہاد کا مفہوم
احناف نے اصولِ اجتہاد کے ساتھ ساتھ دائرہ اجتہاد کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے اس سلسلے میں آئمہ احناف نے تفصیلی ابحاث کی ہیں جن میں اس بابت جملہ تصورات کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ابوبکر احمد بن الجصاصؒ (متوفی: 370ھ) اجتہاد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"فَهُوَ بَذْلُ الْمَجْهُودِ فِيمَا يَقْصِدُهُ الْمُجْتَهِدُ وَ يَتَحَرَّاهُ، إلَّا أَنَّهُ قَدْ اخْتَصَّ فِي الْعُرْفِ بِأَحْكَامِ الْحَوَادِثِ الَّتِي لَيْسَ لِلّٰهِ تَعَالَى عَلَيْهَا دَلِيلٌ قَائِمٌ يُوصِلُ إلَى الْعِلْمِ بِالْمَطْلُوبِ مِنْهَا، لِأَنَّ مَا كَانَ لِلّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ (عَلَيْهِ) دَلِيلٌ قَائِمٌ، لَا يُسَمَّى الِاسْتِدْلَال فِي طَلَبِه اجْتِهَادًا أَلَا تَرَى أَنَّ أَحَدًا لَا يَقُولُ: إنَّ عِلْمَ التَّوْحِيدِ وَتَصْدِيقَ الرَّسُولِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنْ بَابِ الِاجْتِهَادِ، وَكَذَلِكَ مَا كَانَ لِلّٰهِ تَعَالَى عَلَيْهِ دَلِيلٌ قَائِمٌ مِنْ أَحْكَامِ الشَّرْعِ، لَا يُقَالُ: إنَّهُ مِنْ بَابِ الِاجْتِهَادِ، لِأَنَّ الِاجْتِهَادَ اسْمٌ قَدْ اخْتَصَّ فِي الْعُرْفِ وَفِي عَادَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، بِمَا كُلِّفَ الْإِنْسَانُ فِيهِ غَالِبَ ظَنِّهِ، وَمَبْلَغَ اجْتِهَادِهِ، دُونَ إصَابَةِ الْمَطْلُوبِ بِعَيْنِهِ، فَإِذَا اجْتَهَدَ الْمُجْتَهِدُ، فَقَدْ أَدَّى مَا كُلِّفَ، وَهُوَ مَا أَدَّاهُ إلَيْهِ غَالِبُ ظَنِّه، وَعِلْمُ التَّوْحِيدِ وَمَا جَرَى مَجْرَاهُ، مِمَّا لِلّٰهِ عَلَيْهِ دَلَائِلُ قَائِمَةٌ كُلِّفْنَا بِهَا: إصَابَةَ الْحَقِيقَةِ، لِظُهُورِ دَلَائِلِه، وَوُضُوحِ آيَاتِهِ "
(الفصول فی الأصول: جلد، 11 صفحہ، 40)
’’اجتہاد مجتہد کے اپنے مقصود کی خاطر تلاش و جستجو اور طاقت سعی کرنے کو کہتے ہیں، جبکہ عرف علماء میں اجتہاد اس کاوش کا نام ہے جو پیش آمد مسائل میں مقصودِ خداوندی کے تعین میں کی جائے جس پر کوئی الہٰی دلیل پہ صراحتاً موجود نہ ہو کیونکہ جس مسئلہ پر دلیل خود باری تعالیٰ قائم کر دیں اس سے کیے گئے استدلات کو اجتہاد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے علمِ توحید اور تصدیق رسالتِ نبویﷺ کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ دائرہ اجتہاد کے پابند ہیں۔ ایسے ہی پردہ کے حکم جس کے بارے میں واضح دلیل شرعی موجود ہے اسے اجتہاد نہیں کہا جائے گا، لہٰذا عرف عام میں اور اہلِ علم کے ہاں انسان کا اپنے ظن و تخمین اور اتنہائی کوششوں کو صرف مطلوبِ الہٰی کے تعین میں صرف کرنے کو کہتے ہیں نہ کہ اس تک بعینہ پہنچ جانے کا نام ہے۔ چنانچہ اگر مجتہد نے اپنی کاوش و جدوجہد صرف کر دی تو اس نے اپنا مطلوب ذمہ داری ادا کر دی اور جس چیز کے درست اور حق ہونے کی طرف اس کا ظن غالب گیا وہ اس نے بیان کر دیا۔ علمِ توحید اور دیگر ایسے علوم جن کے دلائل خدا تعالیٰ نے خود بیان فرما دئیے ہیں اس سلسلے میں ہماری ذمہ داری فقط یہ ہے کہ ان کی روشنی میں اس حقیقت تک رسائی حاصل کریں۔‘‘
مذکورہ تعریف میں امام ابوبکر جصاصؒ نے چند ایک چیزوں پر روشنی ڈالی ہے:
اول: اجتہاد ان معاملات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں شریعت کے واضح دلائل موجود نہیں ہیں۔
دوم: جن امور کے متعلق شریعت نے دلائل ذکر کر دئیے ہیں وہ مجتہد کے دائرہ عمل سے خارج ہیں۔
سوم: مجتہد کا اجتہاد کے ذریعے مقصودِ خداوندی کو تعین کرنا ہوتا ہے۔
چہارم: مجتہد کی کدوکاوش کا لازمی نتیجہ یہ نہیں ہے کہ وہ مطلوب شریعت یا مقصود تعین میں کامیاب ہو گیا ہے بلکہ اس کا ظن غالب یہ ہوتا ہے جو اس نے معلوم کیا ہے وہ مقصودِ شارع ہے۔
(الصحاح: جلد، 1 صفحہ، 460)
پنجم: وہ امور کہ جن کے بارے میں شرعی رہنمائی موجود ہوتی ہے اس میں مطلوب اس حقیقت تک رسائی ہے جو ان دلائل میں بیان ہوئی ہوتی ہے۔
علامہ سعد الدین بن عمر تفتازانیؒ (متوفی 792 ھ) نے تعریف اجتہاد کے ساتھ ساتھ دائرہ اجتہاد بھی تعین کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ ان کا خصوصی امتیاز ہے۔ لکھتے ہیں:
" وَفِي الِاصْطِلَاحِ اسْتِفْرَاغُ الْفَقِيهِ الْوُسْعَ لِتَحْصِيلِ ظَنٍّ بِحُكْمٍ شَرْعِيٍّ، وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِمْ: بَذْلُ الْمَجْهُودِ لِنَيْلِ الْمَقْصُودِوَمَعْنَى اسْتِفْرَاغِ الْوُسْعِ بَذْلُ تَمَامِ الطَّاقَةِ بِحَيْثُ يَحُسُّ مِنْ نَفْسِهِ الْعَجْزَ عَنْ الْمَزِيدِ عَلَيْهِ فَخَرَجَ اسْتِفْرَاغُ غَيْرِ الْفَقِيهِ وُسْعَهُ فِي مَعْرِفَةِ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ فَبَذْلُ الْفَقِيهِ وُسْعَهُ فِي مَعْرِفَةِ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ قَطْعِيٍّ، أَوْ فِي الظَّنِّ بِحُكْمٍ غَيْرِ شَرْعِيٍّ لَيْسَ بِاجْتِهَادٍ. "
(شرح التلویح: جلد، 2 صفحہ، 277)
’’اصطلاح میں فقیہ اپنی تمام طاقت شرعی حکم کے سلسلہ میں ظن غالب تک پہنچنے میں صرف کر دینا (یہی مفہوم ہے) اصولین کے قول بذل المجھود نیل المقصود کا اور استفراغ الوسعۃ کا معنیٰ ہے اپنی تمام تر طاقت اس طرح خرچ کر دینا کہ یہ احساس بیدار ہو جائے کہ اس سے زیادہ کاوش سے عاجز ہوں۔ اس تعریف سے غیر فقیہ کی شرعی حکم کو معلوم کرنے کے لیے کی گئی کاوش بحث سے خارج ہو جاتی ہے، ایسے ہی فقیہ کی قطعی اور غیر شرعی احکام میں کی گئی کاوش بھی اجتہاد سے خارج ہے۔‘‘
ابن ہمام حنفیؒ (متوفی: 861ھ) نے اجتہاد کے حوالے سے اس کو ایک حکمِ ظنی بتلایا ہے کیونکہ فقیہ کی کوشش و سعی اس کو مقصودِ حقیقی تک پہنچا بھی سکتی ہے اور اس میں غلطی کا امکان بھی برابر موجود ہے۔
" واصطلاحا ذلك من الفقیه في تحصیل حکم شرعی ظنی. "
(التقریر والتحریر: جلد، 3 صفحہ، 291)
اصطلاحاً ایک شرعی ظنی حکم کے حصول کے لیے فقیہ کی کوشش کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔
صفحہ 1 از 5