جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 2 از 5
اجتہاد کے سلسلے میں متاخرینِ حنفیہ میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1172ھ) کا کلام قابلِ توجہ ہے جن کو آخری زمانے کے بڑے علماء میں شمار کیا جاتا ہے شاہ صاحب بیان کرتے ہیں:
" الإجتهاد على مَا يفهم من كَلَام الْعلمَاء استفراغ الْجهد فِي إِدْرَاك الْأَحْكَام الشَّرْعِيَّة الفرعية من أدلتها التفصيلية الراجعة كلياتها إِلَى أَرْبَعَة أَقسَام الْكتاب وَالسّنة وَالْإِجْمَاع وَالْقِيَاس وَيفهم من هَذَا أَنه أَعم من أَن يكون استفراغا فِي إِدْرَاك حكم مَا سبق التَّكَلُّم فِيهِ من الْعلمَاء السَّابِقين أَو لَا وافقهم فِي ذَلِك أَو خَالف وَمن أَن يكون ذَلِك بإعانة الْبَعْض فِي التَّنْبِيه على صور الْمسَائِل والتنبيه على مآخذ الْأَحْكَام من الْأَدِلَّة التفصيلية أَو بِغَيْر إِعَانَة مِنْهُ فَمَا يظنّ فِيمَن كَانَ مُوَافقا لشيخه فِي أَكثر الْمسَائِل لكنه يعرف لكل حكم دَلِيلا ويطمئن قلبه بذلك الدَّلِيل وَهُوَ على بَصِيرَة من أمره أَنه لَيْسَ بمجتهد ظن فَاسد وَكَذَلِكَ مَا يظنّ من أَن الْمُجْتَهد لَا يُوجد فِي هَذِه الْأَزْمِنَة اعْتِمَادًا على الظَّن الأول بِنَاء على فَاسد. "
(عقد الجید: صفحہ، 3)
’’علماء کے کلام سے اجتہاد کا جو مفہوم مجھ پر عیاں ہوا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت کے فرعی احکام کو ان کے تفصیلی اور جزئی دلائل کے ذریعہ معلوم کی کوشش کرنا ،جو چار بنیادی مآخذ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کے ذریعے معلوم ہوں، اجتہاد ہے۔ اس تعریف سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اجتہاد ان مسائل کے بارے میں عام ہے جن پر اہلِ علم گفتگو فرما چکے ہوں یا نہ کی ہو، یا وہ کاوش اسی نتیجے تک پہنچائے جس تک اہلِ علم پہلے ہی پہنچ چکے ہیں یا پھر اس کے مخالف نتیجہ نکلے، اسی طرح یہ بھی اجتہاد ہے کہ آپ مسائل کی وضاحت کے لیے دیگر اہلِ علم کی معاونت حاصل کریں یا اس کی معاونت کے بغیر ہی کدوکاوش کریں۔ ایسے ہی وہ شخص جس کی آراء بیش تر مسائل میں اپنے شیخ کے موافق ہی ہیں اور وہ اس کی دلیل سے علمی وجہ البصیرت وہ مطمئن ہے، ایسے شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ مجتہد نہیں ہے یہ ایک گمان فاسد ہے۔ ایسے ہی کوئی شخص یہ خیال کرے کہ اس دور میں کوئی مجتہد نہیں ہے تو یہ بھی ایک غلط خیال ہے۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی مذکورہ تعریف سے فکر و نظر کے سامنے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی شخص کی ایسی تمام کاوشیں جو مآخذ شریعت سے فرعی مسائل کو ضروری دلائل کے ذریعہ معلوم کرنے کے لیے کی جائیں وہ سب کی سب اجتہاد کے دائرہ میں آتی ہیں۔ حتی کہ ایک ایسا عالم جو اپنے آپ کو کسی خاص فقہی مذہب کی آراء کا پابند خیال کرتا ہے اور وہ مذہب کے دلائل میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کا یہ عمل بھی اجتہاد ہو گا۔ گویا شریعت کے احکام کے اخذ و استنباط کا کام ان دلائل کی روشنی میں کیا جائے جو شریعت نے بیان کر دیے ہیں تو وہ بھی اجتہاد ہے اور یہ ایک اجتہاد کا انتہائی وسیع مفہوم ہے جو دیگر اہلِ علم کی عبارات میں نہیں ملتا۔
شوافع کے ہاں اجتہاد کا مفہوم
شوافع کے ہاں اجتہاد کی مختصراً اور تفصیلی تعریفیں ملتی ہیں۔ مختصر تعریف قاضی بیضاویؒ (متوفی: 685ھ) نے ان الفاظ میں کی ہے:
" هواستفراغ الجهد في درك الأحکام الشرعیة."
(منہاج الاصول: جلد، 4 صفحہ، 524)
شرعی احکام کے ادراک کی خاطر اپنی سعی و جہد خرچ کرنے کا نام اجتہاد ہے۔
اجتہاد کی بابت تفصیلی کلام دیکھا جائے تو خود امام شافعیؒ الرسالہ میں اجتہاد کا مفہوم متعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
امام شافعیؒ (متوفی: 204ھ) اجتہاد کی تعریف میں کچھ اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
"قال: فما القياس؟ أهو الاجتهاد؟ أم هما مفترقان؟قلت: هما اسمان لمعنىً واحد.قال: فما جِماعهما؟قلت: كل ما نزل بمسلم فقيه حكم لازم، أو على سبيل الحقِّ فيه دلالةٌ موجودة، وعليه إذا كان فيه بعينه حكمٌ: اتباعُه، وإذا لم يكن فيه بعينه طُلِب الدلالة على سبيل الحق فيه بالاجتهاد. والاجتهادُ القياسُ."
(الرسالۃ: صفحہ، 477)
’’امام شافعیؒ سے مسائل پوچھتے ہیں کہ قیاس کیا ہے ؟ کیا یہ اجتہاد ہی ہے یا ان میں فرق ہے وہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں تو طالب علم نے کہا ان کے جمع ہونے کی شکل کیا ہے؟ (فرماتے ہیں) کسی بھی صاحبِ شعور مسلمان کے لیے جو کچھ نازل ہوتا ہے اس کی صورتیں یہ ہیں کہ یا تو وہ ایک لازمی سمجھنے آنے والا حکم ہے یا درست طریقہ پر استدلال کے ذریعے سمجھ آتا ہے، سو جب بعینہ حکم سمجھ آ رہا ہو تو اتباع ضروری اور جب بطریقِ استدلال حکم کو جاننے کی سعی و کاوش کی جائے تو وہ اجتہاد ہے اور اجتہاد ہی قیاس ہے۔‘‘
معروف شافعی اصولی سیف الدین علی بن ابی علی الآمدیؒ (متوفی: 631ھ) اجتہاد کی تعریف میں کچھ اس طرح رقم فرماتے ہیں:
"استفراغ الوسع في طلب الظن بشئ من الأحکام الشرعیة على وجه بحسن من النفس العجز عن المزیه فیه."
(الاحکام فی أصول الأحکام: جلد، 4 صفحہ، 169)
’’شرعی احکام میں ظن غالب تک پہنچنے کے لیے اس قدر محنت اور کوشش صرف کرنا کہ اس کے بعد انسان عاجز ہو جائے۔‘‘
مذکورہ تعریف میں دو باتیں بے حد خوبصورت ہیں۔
اول: شرعی مسائل میں مقصود یقین تک پہنچنا نہیں بلکہ غالب گمان کو پانا ہے۔ یہ اس لیے کیونکہ یہ انسان کی استطاعت ہے اور اللہ کسی کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا، دوسری بات یہ کہ حقیقی یقینی بات کا علم اللہ ہی کو ہے اور وہ اس دنیا میں نہیں کھل سکتا، اس لیے گمانِ غالب ہی وہ انتہا ہے جہاں تک پہنچنا اجتہاد کے ذریعے عملاََ ممکن ہے۔
دوم: جہدوجہد و کوشش کی حد یہ کہ پورے خلوص سے اتنی کوشش کرنا کہ انسان عاجز آ جائے۔
امام زرکشیؒ (متوفی: 791ھ) نے اجتہاد کو عین قیاس قرار دیا ہے اور اس مؤقف کو امام شافعیؒ کی طرف منسوب کیا ہے۔
صفحہ 2 از 5