جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 3 از 5
"وَحَكَى صَاحِبُ" الْكِبْرِيتِ الْأَحْمَرِ"عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّ الْقِيَاسَ وَالِاجْتِهَادَ وَاحِدٌ، لِحَدِيثِ مُعَاذٍ:"أَجْتَهِدُ رَأْيِي" وَالْمُرَادُ الْقِيَاسُ بِالْإِجْمَاعِ. وَقَالَ إلْكِيَا: يَمْتَازُ الْقِيَاسُ عَنْ الِاجْتِهَادِ بِأَنَّهُ فِي الْأَصْلِ بَذْلُ الْمَجْهُودِ فِي طَلَبِ الْحَقِّ سَوَاءٌ طُلِبَ مِنْ النَّصِّ أَوْ الْقِيَاسِ. وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي "الرِّسَالَةِ" إنَّ الْقِيَاسَ الِاجْتِهَادُ، وَظَاهِرُ ذَلِكَ لَا يَسْتَقِيمُ، فَإِنَّ الِاجْتِهَادَ أَعَمُّ مِنْ الْقِيَاسِ، وَالْقِيَاسُ أَخَصُّ، إلَّا أَنَّهُ لَمَّا كَانَ الِاجْتِهَادُ فِي عُرْفِ الْفُقَهَاءِ مُسْتَعْمَلًا فِي تَعْرِيفِ مَا لَا نَصَّ فِيهِ مِنْ الْحُكْمِ، وَعِنْدَهُ أَنَّ طَرِيقَ تَعَرُّفِ ذَلِكَ لَا يَكُونُ إلَّا بِأَنْ يُحْمَلَ الْفَرْعُ عَلَى الْأَصْلِ فَقَطْ، وَذَلِكَ قِيَاسٌ عِنْدَهُ. وَالِاجْتِهَادُ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِينَ مَا اقْتَضَى غَلَبَةَ الظَّنِّ فِي الْأَحْكَامِ الَّتِي لَا يَتَعَيَّنُ فِيهَا خَطَأُ الْمُجْتَهِدِ وَيُقَالُ فِيهَا: كُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبٌ، وَالْقِيَاسُ مَا ذَكَرْنَاهُ وَالْأَمْرُ فِيهِ قَرِيبٌ. وَقَالَ ابْنُ السَّمْعَانِيِّ: هَلْ الْقِيَاسُ وَالِاجْتِهَادُ مُتَّحِدَانِ أَوْ مُخْتَلِفَانِ؟ اخْتَلَفُوا فِيهِ: فَقَالَ أَبُو عَلِيِّ بْنُ أَبِي هُرَيْرَةَ: إنَّهُمَا مُتَّحِدَانِ، وَنَسَبَ لِلشَّافِعِيِّ، وَقَدْ أَشَارَ إلَيْهِ فِي كِتَابِ. "
(البحر المحیط: جلد، 4 صفحہ، 9)
’’صاحب کبریت الاحمرؒ نے بعض اہلِ علم سے نقل کیا ہے کہ قیاس اور اجتہاد ایک ہی شے کے دو نام ہیں جس کا ثبوت حدیث حضرت معاذ بن جبلؓ سے ہوتا ہے کہ میں رائے سے استدلال کی کوشش کروں گا، لہٰذا اجماعاً اس سے مراد قیاس ہی ہے، سمعانیؒ کہتے ہیں کہ آیا قیاس اور اجتہاد ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں یا مختلف چیزیں ہیں جن میں اہلِ علم نے اختلاف کیا ہے؟ تو ابو علی کہنے لگے کہ یہ ایک ہی حقیقت کا اظہار ہے اور یہ بات امام شافعیؒ کی طرف منسوب ہے جو انھوں نے ’’الرسالۃ ‘‘میں کہی ہے۔‘‘
فخر الدین محمد بن عمر الرازیؒ (متوفی: 606ھ) اجتہاد کی تعریف میں عین وہی بات لائے ہیں جو ابنِ ہمامؒ کے ہاں گزر چکی ہے، یعنی حکم شرعی کو پانے کے سلسلے میں جہدوجہد سعی کی آخری حد تک جانا۔
" وأما فیعرف الفقهاء فهو استفراغ الوسع في النظر فیما لا یلحقه فیه لوم مع استفراغ الوسع فیه."
(المحصول للرازی: جلد، 6 صفحہ، 7)
’’عرف فقہاء میں اجتہاد کہتے ہیں غور و فکر میں اس طرح تمام کاوشوں کو صرف کرنا کہ اس کے بعد کدوکاوش کی کمی پر انسان خود کو ملامت نہ کر سکے۔‘‘
مالکیہ کے ہاں اجتہاد کا مفہوم
مالکیہ میں محمد بن عبداللہ العربی المعروف بابن العربیؒ (متوفی: 543ھ) تفسیر احکام القرآن نے اجتہاد کا اصطلاحی مفہوم یوں بیان کیا ہے:
"وهی بذل الجهد واستفاد الوسع في طلب الصواب، افتعال من الجهد."
(أصول الفقہ لابن العربی: صفحہ، 78 )
’’درست شرعی حکم کو معلوم کرنے کے لیے اپنی کاوش کو خرچ کرنا اور اپنی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے کا نام اجتہاد ہے۔‘‘
(الضروری فی أصول الفقہ: صفحہ،137)
’’ اجتہاد مجتہد کا اپنی صلاحیت کو شرعی حکم کے حصول کے لیے ان آلات کے ذریعہ خرچ کرنا جنھیں اجتہاد کے شرط ٹھہرایا گیا ہے۔‘‘
 ابوبکر و عمر و عثمان بن عمر بن ابی بکر رضی اللہ عنہم (متوفی: 646ھ) حکم اجتہادی کو ظنی بتلاتے ہیں:
"وفي الاصطلاح استفراغ الفقیه الوسع لتحصیل ظن بحکم شرعی."
(منتھی الوصول: صفحہ، 209)
’’اصطلاح میں فقیہ کا شرعی حکم کے بارے میں ظن غالب حاصل کرنے کے لیے سعی و جہد کرنا اجتہاد کہلاتا ہے۔‘‘
حنابلہ کے ہاں اجتہاد کا مفہوم
شمس الدین محمد بن مفلحؒ (متوفی: 763ھ) اجتہاد کی تعریف کے بارے میں فرماتے ہیں:
"استفراغ الفقیه وسعه لدرك حکم شرعی."
(أصول الفقہ لابن المفلح، جلد، 6 صفحہ، 1469)
’’شرعی حکم کے ادراک میں فقیہ کا اپنی تمام تر صلاحیت کھپا دینے کو اجتہاد کہتے ہیں۔‘‘
علامہ تقی الدین محمد بن احمدؒ (متوفی: 972ھ) اجتہاد کی تعریف میں رقم طراز ہیں:
"و مَعْنَاهُ" اصْطِلاحًا: اسْتِفْرَاغُ الْفَقِيهِ "أَيْ ذُو الْفِقْهِ وَتَقَدَّمَ حَدُّ الْفَقِيهِ، وَهُوَ قَيْدٌ مُخْرِجٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لأَنَّهُ لا يُسَمَّى فِي الْعُرْفِ فَقِيهًا، وَلِلْمُقَلِّدِ" وُسْعَهُ "بِحَيْثُ تَحُسُّ النَّفْسُ بِالْعَجْزِ عَنْ زِيَادَةِ اسْتِفْرَاغِهِ" لِدَرْكِ حُكْمٍ "يَسُوغُ فِيهِ الاجْتِهَادُ وَهُوَ الظَّنِّيُّ" شَرْعِيٍّ "لِيَخْرُجَ الْعَقْلِيُّ وَالْحِسِّيُّ، وَلَمْ يُقَيِّدْهُ جَمَاعَةٌ بِذَلِكَ لِلاسْتِغْنَاءِ عَنْهُ بِذِكْرِ الْفَقِيهِ؛ لأَنَّ الْفَقِيهَ لا يَتَكَلَّمُ إلاَّ فِي الشَّرْعِيِّ."
(قواعد الاصول ومعاقد الفصول: صفحہ، 27)
’’اجتہاد کا اصطلاحی معنیٰ یہ ہے کہ فقیہ کا اپنی تمام تر قوت و کاوش کو شرعی حکم کے ادراک کے لیے صرف کر دینا (کاوش سے مراد ہے یہ ہے کہ اس قدر محنت صرف کرے کہ اس زیادہ محنت سے عاجز آ جائے) اور حکم کے ادراک سے مراد ہے کہ اجتہاد سے ظن غالب حاصل ہو جائے ۔ اور اس طرح شرعی کی قید سے عقلی اور حسی احکام خارج ہو گئے اس پر اہلِ علم اس لیے قید نہیں لگاتے کہ فقیہ کے تذکرے سے ہی اس سے استغنیٰ حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ صرف شرعی احکام پر گفتگو کرتا ہے۔ فقیہ سے مراد ایسا صاحب تفقہ آدمی ہے جس کی تعریف گزر چکی ہے اس قید سے نبیﷺ کو کیونکہ وہ فقیہ نہیں ہوتا اور مقلد کو خارج کرنا مطلوب ہے۔‘‘
متاخرین حنابلہ میں شیخ احمد شاکرؒ نے اجتہاد کے سلسلے میں عملی احکام کا دائرہ کار مقرر کرنے کی رائے دی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عملی احکام ہی وہ احکام ہیں جن میں اجتہاد کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے جبکہ عقائد تو طے شدہ اور واضح ہیں اور ان کی جزئیات میں بہت ہی کم مواقع پر خال خال اجتہاد کیا جاتا ہے۔
"استفراغ الجهد (بالضم) ای الطاقة لتحصیل ظن بحکم شرعی عملي من الأدلة التفصیلیة."
(اتحاف ذوی البصائر: جلد، 8 صفحہ، 10)
صفحہ 3 از 5