جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 4 از 5
’’تفصیلی دلائل کے ذریعہ عملی شرعی حکم کے بارے میں ظن غالب کے حصول کی خاطر اپنی طاقت کو صرف کرنا اجتہاد کہلاتا ہے۔‘‘
معاصر علماء کی آراء
ہمارے دور کے جید اہلِ علم نے سارے قدیم تراث کو سامنے رکھ کر مجموعی طور جامع تعریف وضع کرنے کی سعی کی ہے۔چنانچہ شیخ ابو زہرہؒ اجتہاد کی تعریف میں لکھتے ہیں:
"وفي اصطلاح علماء الأصول بذل الفقیه وسعة في استنباط الأحکام العلمیة من أدلتها التفصیلة ویعرف بعض العلماء الاجتهاد في اصطلاح الأصولیین بأنه استفراغ الجهد وبذل غایه والوسع أما في استنباط الأحکام الشرعیة وأما في تطبیقاتها وکان الاجتهاد على هذا التعریف قسمین: أحدهما خاص بإستنباط الأحکام وبیانها وألف، الثاني خاص بتطبیقها."
(اصول فقہ: صفحہ، 356)
’’علمائے اصول کی اصطلاح میں فقیہ کا اپنی تمام تر قوتوں کو برائے کار لاتے ہوئے عملی احکام کو تفصیلی دلائل کے ذریعہ مستنبط کرنا اجتہاد کہلاتا ہے ۔ بعض علماء نے اصولین کے نقطہ نگاہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ تمام تر جہد اور مکمل طاقت استنباط احکام اور تطبیق احکام میں صرف کرنا اجتہاد ہے ۔ اس تعریف کی رو سے اجتہاد دو چیزوں کا نام ہے ۔ اول استنباط احکام، دوم تطبیق احکام۔‘‘
شیخ ابو زہرہؒ کے ہاں مجموعی طور پر اجتہاد دو چیزوں کا ہی نام ہے۔ اول استنباط احکام اور دوم تطبیق مسائل۔ پروفیسر تقی امینیؒ بھی اجتہاد کے حوالے سے احکام کی تطبیق کا ذکر کرتے ہیں:
"استفراغ الجهد وبذل غایة الوسیع أما في درك الأحکام الشرعیة وأما في تطبیقها."
(اجتہاد: صفحہ، 21)
’’تمام تر جہد اور غایت درجہ سعی شرعی احکام کے معلوم کرنے اور انہیں تطبیق دینے میں صرف کرنے کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔‘‘
پروفیسر تقی امینیؒ کے نزدیک اجتہاد دو چیزوں کا نام ہے:
  1. احکام کے جاننے کے لیے سعی و جہد اجتہاد ہے۔
  2. احکام کی تطبیق کے لیے غور و فکر کرنا بھی دائرہ اجتہاد میں شامل ہے۔
صبحی صالح کی تعریف میں کافی وسعت دکھائی دیتی ہے:
"والاجتهاد تعریفات کثیرة تؤدل بجموعها إلى انه استفراغ الجهد في استنباط القضایا الدینیة شرعیة أو عقدیة وعقلیة أو نقلیة وقطعیة أو ظنیة من أدلتها التفصیلیة."
(اصول فقہ الاسلامی: جلد، 2 صفحہ، 938)
’’ بہترین تعریف تمام منقولہ تعریفات میں سے وہ ہے جو قاضی بیضاوی سے منقول ہے کہ احکام شرعیہ کے جاننے میں اپنی کاوش کو صرف کرنا اور استفراغ کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی وسعت بھر طاقت کو صرف کرنا اور درک الاحکام بھی عام ہے کہ آپ احکام کو ظنی یا قطعی طور پر معلوم کریں۔‘‘
عراق سے تعلق رکھنے والے عبدالکریم زیدانؒ جدید دور میں ممتاز فقیہ شمار ہوتے ہیں۔ اجتہاد کی تعریف میں کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:
"وفي اصطلاح الأصولیین، بذل المجتهد وسعه في الطلب بالأحکام الشرعیة بطریق الاستنباط."
(الوجیز فی أصول الفقہ: صفحہ، 302)
’’اصولین کی اصطلاح میں استنباط کے طریق پر مجتہد کا شرعی احکام کے حصول کے اپنے کاوش کو صرف کرنے کا نام اجتہاد ہے۔‘‘
ڈاکٹر زیدان نے بھی قریب قریب دیگر علماء والی تعریف ہی کی ہے لیکن اسلوب میں تبدیلی بہرحال نمایاں ہے کہ حصول احکام شرعی کے لیے کاوش کرنا۔شیخ عبداللہ بن صالح الفوزانؒ کے نزدیک مجتہد کا شرعی حکم کے بارے میں علم حاصل کرنے کی غرض سے استنباط کے اصول پر ادلہ شرعیہ میں اپنی صلاحیت صرف کرنے کا نام اجتہاد ہے۔
"واصطلاحا بذل المجتهد وسعه في طلب العلم بالحکم الشرعی بطریق الاستنباط من أدلة لاشرع."
(خلاصۃ الأصول: صفحہ، 28)
شیخ عبدالوہابؒ خلاف اجتہاد کی تعریف میں رقم فرماتے ہیں:
"الاجتهاد في اصطلاح الاصولیین هو بذل الجهد للوصول إلى الحکم الشرعی من دلیل التفصیلی من الأدلة الشرعیة."
(اصول الفقہ الاسلامی: صفحہ، 257)
’’اصولیوں نے اصطلاحاً اجتہاد یہ قرار دیا ہے کہ شرعی حکم تک رسائی کی خاطر اپنی کوشش کو بروئے کار لانا تفصیلی جرئی دلیل کے ذریعہ سے جو ادلہ شریعہ سے مستنبط ہو۔‘‘
شیخ یوسف القرضاویؒ نے علامہ شوکانیؒ کی رائے کو زیادہ بہتر قرار دیا ہے:
وأما في اصطلاح الأصولیین فقد عبروا عنه لعبارات مفاتة، لعل أقربها ما قا له الامام الشوکاني في کتابه" إرشاد الفحول "في تعریف لقوله" بذل الوسع في نیل حکم شرع عملی بطریق الاستنباط.
(تلخیص الاصول: صفحہ، 61)
’’اہلِ اصول کی اصطلاح میں اجتہاد کی تعریف میں کئی مختلف تعبیرات منقول ہیں البتہ اجتہاد کے عمل کے لیے اقرب ترین تعریف وہ ہے جسے شوکانیؒ نے ارشاد الفحول میں ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’عملی شرعی حکم و استنباط کے طریق پر معلوم کرنے کے لیے اپنی ہمت کو کھپا دینا اجتہاد ہے۔ ‘‘
خلاصہ بحث
گزشتہ صفحات میں مذاہب اربعہ کے نمائندہ علماء کی تعریفیں ذکر کی گئی ہیں اس میں ہر مذہب فقیہ کے الگ الگ علماء کا تذکرہ ہے جن کی اختصار کےساتھ بھی فہرست بنائی جائے تو قریباً پچاس سے زائد علماء کے مؤقف فکر و نظر کے سامنے آتے ہیں جن کا مختصراً تجزیہ یوں کیا جا سکتا ہے۔
مشترک تعریف مختلف الفاظ
تمام مذاہب کے جلیل القدر اہلِ علم اور اصولیوں کی تعریفات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکارہ ہوتی ہے کہ فقہی مذاہب اور وابستگی کے اعتبار سے تعریفات میں کوئی خاص فرق نہیں ہے کہ جس سے ایک مذہب کے اہلِ علم کہ فقہی نتائج مختلف ہونے کی وجہ عملِ اجتہاد یا طریقہ اجتہاد میں کوئی واضح فرق ہو۔ یوں احساس ہوتا ہے کہ تمام اہلِ علم ایک ہی شرعی اصطلاح کو واضح کرنے میں اپنی سعی و جہد ایک ہی طریق پر صرف کر رہے ہیں۔ یہ امر تعریفات پر ایک نظر ڈالنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ مذاہب اربعہ کے تمام نمائندہ علماء تعبیر کے ادنیٰ سے اختلاف کے ساتھ ایک ہی حقیقت کا اظہار کیا ہے جس سے یہ احساس قوی تر ہو جاتا ہے کہ جمہور امت کے ہاں اجتہاد کی تعریف میں بہت بڑا فرق نہیں ہے بلکہ ایک اجماعی حقیقت ہے۔اجتہاد حکم ظنی ہے
صفحہ 4 از 5