جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 5 از 5
جمہور علماء کی تعریفات کے مطالعہ سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اجتہاد کے نتیجے میں برآمد ہونے کا والا حکم اپنی نہاد میں ایک ظنی حکم ہوتا ہے نہ کہ قطعی، اس چیز کی طرف اگرچہ زیادہ توجہ علماء احناف نے کی ہے لیکن دیگر مذاہب کے ہاں بھی اس بات کا اثبات بہرحال موجود ہے جو ایک اہم نکتہ ہے۔ مثال کے طور پر احناف میں سے ابوبکر جصاصؒ، سعد الدین تفتازانیؒ، ابنِ ہمامؒ اور دیگر علماء نے حکم ظنی کی شرط لگائی ہے۔ جب کہ شوافع میں حضرت زکریا الانصاریؒ، مالکیہ میں سیف الدین آمدیؒ، ابو عمر و عثمان عمر نے اور حنابلہ میں شیخ احمد شاکرؒ نے یہ شرط لگائی ہے۔
حتیٰ الوسع کوشش و محنت
تمام مذاہب کے اصولیوں کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ بذریعہ اجتہاد شرعی حکم کے ادراک کے لیے ایسی کاوش کی جائے گی کہ اس سے زیادہ انسانی بساط میں نہ ہو گویا کہ اجتہاد بے انتہا محنت اور بے پناہ علمی و سعت کا تقاضا کرتا ہے۔
دائرہ اجتہاد عملی مسائل
اس اہم نکتے پر قریب قریب تمام اہلِ علم متفق ہیں بعض نے تو صراحت بھی کی ہے کہ اجتہاد کا دائرہ کار عملی مسائل ہیں، فکری اور عقیدے کے مسائل میں اجتہاد شریعت نے گوارہ نہیں کیا کیونکہ عقیدے میں ظنیات کا دخل نہیں ہوتا بلکہ وہاں تمام کے تمام معتقدات قطعی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کی کاوش صرف فقہی عملی مسائل پر ختم ہو جاتی ہے۔
جزوی دلائل
اجتہاد جہاں شریعت کے قواعد کلیہ کو بھی محیط ہے وہاں جزوی دلائل کو مسائل اجتہادیہ کے بیان میں بہت بنیادی دخل ہے کہ جس بھی مسئلہ کو اجتہاد کا محور و مرکز بنایا جائے گا اس کے جزوی دلائل دینا ضروری قرار پاتا ہے۔ ورنہ وہ مسئلہ فقیہات میں درجہ اعتبار کو نہیں پہنچ سکے گا۔

صفحہ 5 از 5