سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعض فوائد - دفاعِ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعض فوائد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

 مناصب اور عہدوں پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی کا استحقاق ہے بلکہ یہ صلاحیتوں، مخلصانہ کاوشوں اور ان میں کامیابیوں کے مرہون منت ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز اور بااختیار لوگوں کے فرائض میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر ان کے ماتحت لوگ سستی و کاہلی اور بدعملی کا مظاہرہ کریں تو وہ انہیں معزول کر دیں۔ اگر جواب دہی کا یہ تصور اجاگر ہو جائے تو وہ لوگ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی کاوشوں کو کئی گنا بڑھا دیں گے۔ لیکن اگر انہیں بہرصورت ان کے عہدوں کے تحفظ کی ضمانت دے دی جائے گی تو وہ فرائض کی ادائیگی میں سستی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں خلل ڈالے گا اور اپنے ماتحتوں کے بگاڑ، تنازعات اور بدامنی جیسے رویوں کو جنم دے گا۔

 خوف الہٰی کامیابیوں کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظاہر اور باطنی جملہ امور سے بخوبی آگاہ ہے۔ جب لوگ دل سے تقوی اختیار کریں گے تو وہ اپنے ظاہری معاملات میں بطریق اولی ایسا کریں گے۔ اسی طرح بااختیار اور ذمہ دار عہدے دار بگاڑ اور بگاڑ پیدا کرنے والے تمام مظاہر سے اجتناب کریں گے۔

آباء و اجداد اور قوم و قبیلہ کے لیے متعصب ہونا انسان کو صراط مستقیم سے انحراف کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ نیز اس سے اس واحد اسلامی رابطہ سے نسبت کمزور پڑ سکتی ہے جو اسلامی اخوت و مودت سے عبارت ہے۔

 پند و نصیحت میں اختصار سے کام لینا اس لیے کہ طویل گفتگو ذہن میں محفوظ نہیں رہتی جس کے نتیجہ میں وہ غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ طویل گفتگو سے اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے اور اگر متکلم فصیح اللسان ہو تو سامعین اس کی خوش کلامی کے سحر میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں اور اگر وہ اس وصف سے عاری ہے تو پھر سامعین اکتا جائیں گے اور جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے اسے ذہنوں میں محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔

جب ذمہ دار آفیسر اپنے آپ کی اصلاح کرتے ہوئے اپنے نقائص و عیوب کو دور کر لے اور اپنی ذات کو نمونہ بنا لے تو اس کا ایسا طرز عمل اس کے ماتحت لوگوں کی اصلاح کا مؤثر ترین ذریعہ ثابت ہو گا۔

ظاہری و باطنی ہر دو اعتبار سے اقامت صلاۃ کا اہتمام کرنا، یعنی اپنے اقوال و افعال میں کمال پیدا کرنا، نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا اور دلی طور سے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا، رب کائنات کی بندگی کا وہ بہترین انداز ہے جس کے ذریعے سے اللہ کی زمین پر اللہ کے ذکر کو عام کیا جا سکتا اور انسانی رویوں میں نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے اور دلوں کو تقویت دی جا سکتی ہے، اس قسم کی مخلصانہ عبادت سے بندوں کے نفوس میں مسرتیں پیدا ہوتی ہیں اور غم و فکر کے وقت بندہ مسلم کو جائے پناہ میسر آتی ہے۔

 دشمن کے سفراء اور قاصدین کا احترام دعوت الی اللہ کے احترام کے زمرے میں آتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب وہ مسلمانوں کے ان اخلاق عالیہ سے آگاہ ہوں گے جن سے وہ آراستہ ہیں۔ مگر یہ احترام و اکرام اس حد تک نہیں بڑھنا چاہیے جس سے وہ سپاہ اسلام اور عام مسلمانوں کے اندرونی معاملات تک رسائی حاصل کر سکتے ہوں۔ اس دوران انہیں اسلامی لشکر کی شان و شوکت اور عسکری قوت کا مشاہدہ کروانا چاہیے تاکہ وہ اس سے اپنی قوم و حکومت کو آگاہ کر سکیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 194 )

 قومی رازوں جیسی مقدس امانت کی حفاظت کرنا اور اس حوالے سے کسی سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ دانا شخص مخفی امور سے آگاہ ہونے کی بھرپور صلاحیت سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ قومی راز متعلقہ لوگوں کے ضمیر میں محبوس رہنے چاہئیں۔ ان کے افشاء کی صورت میں معاملات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور قوم سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے۔

ٹھوس مشورہ اس کے نتائج سے زیادہ اہم ہوا کرتا ہے، اس لیے کہ جس شخص سے مشورہ کیا جائے اگرچہ وہ بڑا بیدار مغز اور صائب الرائے ہی کیوں نہ ہو وہ مشورہ لینے والے کو اس وقت تک کوئی فائدہ پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا جب تک زیر نظر مسئلہ اس پر پوری طرح عیاں نہ کیا جائے۔ جب اس کے قضیہ کی بعض تفصیلات کو مخفی رکھا جائے گا تو ایسا کرنے والا اپنے خلاف جرم کا خود ارتکاب کرے گا اس لیے کہ اس قسم کی صورت حال میں دیا گیا مشورہ ضرر رساں بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ہر عسکری کمانڈر اور سول قائد کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ماتحت مختلف طبقات کے لوگوں کے ساتھ روابط میں رہے تاکہ وہ ان کے مسائل و معاملات سے گہری واقفیت حاصل کر سکے اس طرح اسے ان کی مشکلات کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے میں بڑی مدد ملے گی، جس با اختیار اور ذمہ دار شخص کو چند مخصوص لوگوں سے میل جول رکھنے اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے کی عادت ہوتی ہے اس تک ان چند گنے چنے لوگوں کی فراہم کردہ معلومات ہی پہنچ پائیں گی اور اس طرح وہ معاملات کی پوری تفصیل سے محروم رہے گا جس کا نتیجہ ان کے غیر مناسب حل کی صورت میں سامنے آئے گا۔

مسلمانوں کی حفاظت کا پورا پورا اہتمام کرنا خصوصاً جب انہیں خطرات کا سامنا ہو۔ اس حفاظتی نظام کو بہتر اور مربوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ذمہ دار لوگوں کی وقتاً فوقتاً جانچ پڑتال کی جائے، ان کی سخت نگرانی کی جائے اور ان پر مکمل اعتماد نہ کیا جائے تاکہ وہ کسی ایسی کوتاہی کا ارتکاب نہ کریں جس کی وجہ سے مسلمانوں کو کوئی نقصان اٹھانا پڑے۔

ذمہ دار حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ جرائم کے مرتکبین کو سزا دیتے وقت حد سے تجاوز نہ کریں اور اس کے لیے اعتدال کی راہ اپنائیں۔ اگر سزا کے مستحقین کو سزا دینے میں سستی کا مظاہرہ کیا جائے گا تو حکام کا یہ رویہ انہیں قانون شکنی پر دلیر بنا دے گا اور ان کی دیکھا دیکھی کئی دوسرے لوگ بھی ارتکاب جرائم کے لیے کمربستہ ہو جائیں گے جس کے نتیجہ میں بدامنی کا دور دورہ ہو گا اور معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔

صفحہ 1 از 3