سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعض فوائد
علی محمد الصلابیمناصب اور عہدوں پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی کا استحقاق ہے بلکہ یہ صلاحیتوں، مخلصانہ کاوشوں اور ان میں کامیابیوں کے مرہون منت ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز اور بااختیار لوگوں کے فرائض میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر ان کے ماتحت لوگ سستی و کاہلی اور بدعملی کا مظاہرہ کریں تو وہ انہیں معزول کر دیں۔ اگر جواب دہی کا یہ تصور اجاگر ہو جائے تو وہ لوگ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی کاوشوں کو کئی گنا بڑھا دیں گے۔ لیکن اگر انہیں بہرصورت ان کے عہدوں کے تحفظ کی ضمانت دے دی جائے گی تو وہ فرائض کی ادائیگی میں سستی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں خلل ڈالے گا اور اپنے ماتحتوں کے بگاڑ، تنازعات اور بدامنی جیسے رویوں کو جنم دے گا۔
خوف الہٰی کامیابیوں کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظاہر اور باطنی جملہ امور سے بخوبی آگاہ ہے۔ جب لوگ دل سے تقوی اختیار کریں گے تو وہ اپنے ظاہری معاملات میں بطریق اولی ایسا کریں گے۔ اسی طرح بااختیار اور ذمہ دار عہدے دار بگاڑ اور بگاڑ پیدا کرنے والے تمام مظاہر سے اجتناب کریں گے۔
آباء و اجداد اور قوم و قبیلہ کے لیے متعصب ہونا انسان کو صراط مستقیم سے انحراف کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ نیز اس سے اس واحد اسلامی رابطہ سے نسبت کمزور پڑ سکتی ہے جو اسلامی اخوت و مودت سے عبارت ہے۔
پند و نصیحت میں اختصار سے کام لینا اس لیے کہ طویل گفتگو ذہن میں محفوظ نہیں رہتی جس کے نتیجہ میں وہ غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ طویل گفتگو سے اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے اور اگر متکلم فصیح اللسان ہو تو سامعین اس کی خوش کلامی کے سحر میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں اور اگر وہ اس وصف سے عاری ہے تو پھر سامعین اکتا جائیں گے اور جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے اسے ذہنوں میں محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔
جب ذمہ دار آفیسر اپنے آپ کی اصلاح کرتے ہوئے اپنے نقائص و عیوب کو دور کر لے اور اپنی ذات کو نمونہ بنا لے تو اس کا ایسا طرز عمل اس کے ماتحت لوگوں کی اصلاح کا مؤثر ترین ذریعہ ثابت ہو گا۔
ظاہری و باطنی ہر دو اعتبار سے اقامت صلاۃ کا اہتمام کرنا، یعنی اپنے اقوال و افعال میں کمال پیدا کرنا، نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا اور دلی طور سے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا، رب کائنات کی بندگی کا وہ بہترین انداز ہے جس کے ذریعے سے اللہ کی زمین پر اللہ کے ذکر کو عام کیا جا سکتا اور انسانی رویوں میں نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے اور دلوں کو تقویت دی جا سکتی ہے، اس قسم کی مخلصانہ عبادت سے بندوں کے نفوس میں مسرتیں پیدا ہوتی ہیں اور غم و فکر کے وقت بندہ مسلم کو جائے پناہ میسر آتی ہے۔
دشمن کے سفراء اور قاصدین کا احترام دعوت الی اللہ کے احترام کے زمرے میں آتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب وہ مسلمانوں کے ان اخلاق عالیہ سے آگاہ ہوں گے جن سے وہ آراستہ ہیں۔ مگر یہ احترام و اکرام اس حد تک نہیں بڑھنا چاہیے جس سے وہ سپاہ اسلام اور عام مسلمانوں کے اندرونی معاملات تک رسائی حاصل کر سکتے ہوں۔ اس دوران انہیں اسلامی لشکر کی شان و شوکت اور عسکری قوت کا مشاہدہ کروانا چاہیے تاکہ وہ اس سے اپنی قوم و حکومت کو آگاہ کر سکیں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 194 )
قومی رازوں جیسی مقدس امانت کی حفاظت کرنا اور اس حوالے سے کسی سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ دانا شخص مخفی امور سے آگاہ ہونے کی بھرپور صلاحیت سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ قومی راز متعلقہ لوگوں کے ضمیر میں محبوس رہنے چاہئیں۔ ان کے افشاء کی صورت میں معاملات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور قوم سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے۔
ٹھوس مشورہ اس کے نتائج سے زیادہ اہم ہوا کرتا ہے، اس لیے کہ جس شخص سے مشورہ کیا جائے اگرچہ وہ بڑا بیدار مغز اور صائب الرائے ہی کیوں نہ ہو وہ مشورہ لینے والے کو اس وقت تک کوئی فائدہ پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا جب تک زیر نظر مسئلہ اس پر پوری طرح عیاں نہ کیا جائے۔ جب اس کے قضیہ کی بعض تفصیلات کو مخفی رکھا جائے گا تو ایسا کرنے والا اپنے خلاف جرم کا خود ارتکاب کرے گا اس لیے کہ اس قسم کی صورت حال میں دیا گیا مشورہ ضرر رساں بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ہر عسکری کمانڈر اور سول قائد کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ماتحت مختلف طبقات کے لوگوں کے ساتھ روابط میں رہے تاکہ وہ ان کے مسائل و معاملات سے گہری واقفیت حاصل کر سکے اس طرح اسے ان کی مشکلات کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے میں بڑی مدد ملے گی، جس با اختیار اور ذمہ دار شخص کو چند مخصوص لوگوں سے میل جول رکھنے اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے کی عادت ہوتی ہے اس تک ان چند گنے چنے لوگوں کی فراہم کردہ معلومات ہی پہنچ پائیں گی اور اس طرح وہ معاملات کی پوری تفصیل سے محروم رہے گا جس کا نتیجہ ان کے غیر مناسب حل کی صورت میں سامنے آئے گا۔
مسلمانوں کی حفاظت کا پورا پورا اہتمام کرنا خصوصاً جب انہیں خطرات کا سامنا ہو۔ اس حفاظتی نظام کو بہتر اور مربوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ذمہ دار لوگوں کی وقتاً فوقتاً جانچ پڑتال کی جائے، ان کی سخت نگرانی کی جائے اور ان پر مکمل اعتماد نہ کیا جائے تاکہ وہ کسی ایسی کوتاہی کا ارتکاب نہ کریں جس کی وجہ سے مسلمانوں کو کوئی نقصان اٹھانا پڑے۔
ذمہ دار حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ جرائم کے مرتکبین کو سزا دیتے وقت حد سے تجاوز نہ کریں اور اس کے لیے اعتدال کی راہ اپنائیں۔ اگر سزا کے مستحقین کو سزا دینے میں سستی کا مظاہرہ کیا جائے گا تو حکام کا یہ رویہ انہیں قانون شکنی پر دلیر بنا دے گا اور ان کی دیکھا دیکھی کئی دوسرے لوگ بھی ارتکاب جرائم کے لیے کمربستہ ہو جائیں گے جس کے نتیجہ میں بدامنی کا دور دورہ ہو گا اور معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
دوسری طرف کسی کو اس کے گناہ کی سزا دیتے وقت ناروا سختی سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ یہ روش اختیار کرنے سے رعیت متنفر ہو گی اور لوگ ناراض ہو کر جتھہ بندی پر اتر آئیں گے۔ سزا ہمیشہ حکمت کے ساتھ اور اعتدال کے دائرہ میں رہ کر دی جائے اور وہ بھی معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کے بعد، تاکہ سزا کا تربیتی مقصد بھی پورا ہو جائے اور تنقید و تنقیص اور ناراضی سے بھی بچا جا سکے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 195)
مسؤل اور ذمہ دار شخص کو اپنے دائرہ عمل میں وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات کے بارے میں مکمل طور سے آگاہ رہنا چاہیے اور ان سے نمٹنے کے لیے چوکنا اور خبردار بھی، تاکہ افراد رعیت کو یہ احساس ہو کہ ان کے مسائل کو اہمیت دی جاتی ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے اچھے لوگوں کی اچھائی میں مزید اضافہ ہو گا اور غلط کار لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ مگر اس کی بنیاد ان کی جاسوسی پر نہیں رکھنا چاہیے اس لیے کہ لوگ اسے اپنی توہین پر محمول کریں گے نیز اس سے تعلقات کی وہ ڈوری بھی منقطع ہو سکتی ہے جو راعی کو اسی کی رعیت کے ساتھ مربوط رکھتی ہے۔ جب تک یہ ڈوری قائم رہے گی لوگوں کو مخالفانہ روش اختیار کرنے سے باز رکھے گی اور یہ وہ روش ہے جس سے معاشرتی زندگی اجیرن ہوتی اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اگر یہ ڈوری ٹوٹ جائے اور لوگوں میں تقویٰ بھی کارفرما نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اہم ترین رکاوٹیں بھی ختم ہو گئیں جو لوگوں کو شہوات کے پیچھے بے باکانہ انداز میں دوڑانے کی راہ میں حائل رہا کرتی ہیں اور جب یہ صورت حال پیدا ہو جائے تو حالات کو صحیح ڈگر پر لانا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے کہ ایسے حالات میں بے رحم قوت کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے جس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ہوا کرتے ہیں۔
ذمہ دار شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل صدق و وفا اور دانا و بینا لوگوں کے ساتھ میل جول رکھا کرے اور ان سے تنقید و توجیہ پر مبنی ایسی باتیں بھی سنا کرے جنہیں عام طور سے پسند نہیں کیا جاتا۔ اس سے اس کا بھی فائدہ ہو گا اور اس کے ماتحت لوگوں کا بھی۔ دوسری طرف اسے لہو و لعب کے رسیا اور دنیوی اہداف و مقاصد رکھنے والوں کی ہم نشینی سے احتراز کرنا چاہیے۔ ان کی خوش گفتاری اور مدح سرائی میں دل آویزی کا سامان تو ہو سکتا ہے مگر وہ سنجیدہ اور اہم امور کے بارے میں سوچ و بچار کے راستے میں حائل ہو جائیں گے۔ پھر جب اس کی آنکھیں کھلیں گی تو کئی آفتیں اس کے اور اس کے ماتحت لوگوں کے سر کچل رہی ہوں گی اور بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہو گا۔
دشمن سے ٹکراؤ کی صورت میں قائد لشکر کو شجاعت و دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بزدلی وپست ہستی جیسی کسی چیز کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دینا چاہیے، اس لیے کہ قائد کی بزدلی لشکر میں بھی سرایت کر جائے گی جس کی وجہ سے سبھی کو ناکامی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قائد و مسؤل کو میدان جنگ کے علاوہ بھی ہر موقع پر حالات و واقعات کا بہادری کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے اس لیے کہ اس کی کمزوری کے اثرات اس کے ادارہ میں کام کرنے والے لوگوں پر پڑیں گے، اس سے ان کی کارکردگی متاثر ہو گی اور پیداوار میں کمی واقع ہو جائے گی۔
کمانڈر کو غلول سے اجتناب کرنا چاہیے۔ غلول سے مراد ہے: مال غنیمت کو تقسیم کرنے سے قبل اس میں سے کچھ مال پر قبضہ جما لینا، اس کا تعلق میدان جنگ کے ساتھ ہے۔ جبکہ اسے صلح کے میدانوں میں بھی دنیوی مفادات کے حصول سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جن کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ یہ شرعاً اس کے لیے جائز نہیں ہیں۔ مثلاً ایسے تحائف وصول کرنا جن سے مقصود ناجائز مفادات کا حصول ہو۔ اس لیے کہ یہ چیزیں بھی غلول کے ضمن میں آتی ہیں اور جیسا کہ اس حدیث میں وارد ہوا ہے غلول فقر و فاقہ کے قریب کرتا ہے اور نصرت باری تعالیٰ کا راستہ روک دیتا ہے۔
مذکورہ بالا نکات سیّمدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وصیت کی عظمت کی عکاسی کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے کمانڈر کو اسے محاذ جنگ پر بھیجتے ہوئے فرمائی تھی۔ اس گرانقدر وصیت سے یہ حقیقت بھی نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلمانوں کے مسائل اور ان کی مشکلات کا بڑی شدت کے ساتھ احساس تھا اور وہ ان امور سے بخوبی آگاہ تھے جن سے ان کے کمانڈروں کو واسطہ پڑ سکتا تھا، لہٰذا ان کی پوری کوشش ہوتی کہ انہیں ہر وہ مدد فراہم کی جائے جن سے وہ ان مشکلات کے وقوع پذیر ہونے سے محفوظ رہیں اور ان کے وقوع پذیر ہونے کی صورت میں ان کے ازالہ کے قابل ہو سکیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ اور اس جیسی دیگر وصیتیں ان کی طرف سے متعدد مواقع پر اختیار کردہ مواقف میں خوبصورت اور جدید اضافہ ہیں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 196)
بیان کردہ روایت میں واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید(بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ) کو جنگ کے حوالے سے وصیت کرتے وقت بھی انسانی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں فرمایا۔ آپ نے انہیں دس نکات پر مشتمل جنگی قوانین اپنانے کی وصیت فرمائی جو کہ اسلامی تہذیب کے انسانی پہلو اور رحمت و شفقت سے معمور اس کی روح کے عکاس ہیں۔ یہ وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ماخوذ ہے: ’’لوگو! میں تمہیں دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں انہیں اچھی طرح یاد کر لو۔ خیانت نہ کرنا، غلول نہ کرنا، فساد نہ مچانا، لاشوں کا مثلہ نہ کرنا، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، پھل داردرخت نہ کاٹنا، بکریوں اور اونٹوں کو ذبح نہ کرنا، الا یہ کہ انہیں کھانا مقصود ہو، گرجا گھروں میں بند لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا، اللہ کے کام پر روانہ ہو جاؤ۔
(صور من تسامح الحضارۃ الاسلامیۃ مع غیر المسلمین: صفحہ 62، تاریخ طبری: جلد غ صفحہ 227 )
سیدنا یزید بن ابو سفیان نے اس وصیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شام فتح ہوا تو انہوں نے یزید کو فلسطین اور اس کے گرد و نواح کا والی مقرر کیا۔ ان کی موت 18ھ میں طاعون عمواس کے دوران واقع ہوئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ 19ھ میں فتح قیساریہ کے بعد فوت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ وہ فتح قیساریہ سے قبل ہی رحلت فرما گئے تھے اور اسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح کیا تھا۔
(التبیین فی انساب القرشیین؛ صفحہ 205)
ابو اسماعیل محمد بن عبداللہ بصری فرماتے ہیں:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی موت پر بڑا صدمہ ہوا اور انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کی ولایت سنبھالنے کے لیے خط لکھا۔
(ایضاً صفحہ 207، قادۃ فتح شام و مصر: صفحہ 99)