سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعض فوائد - دفاعِ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعض فوائد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

 دوسری طرف کسی کو اس کے گناہ کی سزا دیتے وقت ناروا سختی سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ یہ روش اختیار کرنے سے رعیت متنفر ہو گی اور لوگ ناراض ہو کر جتھہ بندی پر اتر آئیں گے۔ سزا ہمیشہ حکمت کے ساتھ اور اعتدال کے دائرہ میں رہ کر دی جائے اور وہ بھی معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کے بعد، تاکہ سزا کا تربیتی مقصد بھی پورا ہو جائے اور تنقید و تنقیص اور ناراضی سے بھی بچا جا سکے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 195)

 مسؤل اور ذمہ دار شخص کو اپنے دائرہ عمل میں وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات کے بارے میں مکمل طور سے آگاہ رہنا چاہیے اور ان سے نمٹنے کے لیے چوکنا اور خبردار بھی، تاکہ افراد رعیت کو یہ احساس ہو کہ ان کے مسائل کو اہمیت دی جاتی ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے اچھے لوگوں کی اچھائی میں مزید اضافہ ہو گا اور غلط کار لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ مگر اس کی بنیاد ان کی جاسوسی پر نہیں رکھنا چاہیے اس لیے کہ لوگ اسے اپنی توہین پر محمول کریں گے نیز اس سے تعلقات کی وہ ڈوری بھی منقطع ہو سکتی ہے جو راعی کو اسی کی رعیت کے ساتھ مربوط رکھتی ہے۔ جب تک یہ ڈوری قائم رہے گی لوگوں کو مخالفانہ روش اختیار کرنے سے باز رکھے گی اور یہ وہ روش ہے جس سے معاشرتی زندگی اجیرن ہوتی اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اگر یہ ڈوری ٹوٹ جائے اور لوگوں میں تقویٰ بھی کارفرما نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اہم ترین رکاوٹیں بھی ختم ہو گئیں جو لوگوں کو شہوات کے پیچھے بے باکانہ انداز میں دوڑانے کی راہ میں حائل رہا کرتی ہیں اور جب یہ صورت حال پیدا ہو جائے تو حالات کو صحیح ڈگر پر لانا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے کہ ایسے حالات میں بے رحم قوت کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے جس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ہوا کرتے ہیں۔

ذمہ دار شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل صدق و وفا اور دانا و بینا لوگوں کے ساتھ میل جول رکھا کرے اور ان سے تنقید و توجیہ پر مبنی ایسی باتیں بھی سنا کرے جنہیں عام طور سے پسند نہیں کیا جاتا۔ اس سے اس کا بھی فائدہ ہو گا اور اس کے ماتحت لوگوں کا بھی۔ دوسری طرف اسے لہو و لعب کے رسیا اور دنیوی اہداف و مقاصد رکھنے والوں کی ہم نشینی سے احتراز کرنا چاہیے۔ ان کی خوش گفتاری اور مدح سرائی میں دل آویزی کا سامان تو ہو سکتا ہے مگر وہ سنجیدہ اور اہم امور کے بارے میں سوچ و بچار کے راستے میں حائل ہو جائیں گے۔ پھر جب اس کی آنکھیں کھلیں گی تو کئی آفتیں اس کے اور اس کے ماتحت لوگوں کے سر کچل رہی ہوں گی اور بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہو گا۔

دشمن سے ٹکراؤ کی صورت میں قائد لشکر کو شجاعت و دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بزدلی وپست ہستی جیسی کسی چیز کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دینا چاہیے، اس لیے کہ قائد کی بزدلی لشکر میں بھی سرایت کر جائے گی جس کی وجہ سے سبھی کو ناکامی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قائد و مسؤل کو میدان جنگ کے علاوہ بھی ہر موقع پر حالات و واقعات کا بہادری کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے اس لیے کہ اس کی کمزوری کے اثرات اس کے ادارہ میں کام کرنے والے لوگوں پر پڑیں گے، اس سے ان کی کارکردگی متاثر ہو گی اور پیداوار میں کمی واقع ہو جائے گی۔

کمانڈر کو غلول سے اجتناب کرنا چاہیے۔ غلول سے مراد ہے: مال غنیمت کو تقسیم کرنے سے قبل اس میں سے کچھ مال پر قبضہ جما لینا، اس کا تعلق میدان جنگ کے ساتھ ہے۔ جبکہ اسے صلح کے میدانوں میں بھی دنیوی مفادات کے حصول سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جن کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ یہ شرعاً اس کے لیے جائز نہیں ہیں۔ مثلاً ایسے تحائف وصول کرنا جن سے مقصود ناجائز مفادات کا حصول ہو۔ اس لیے کہ یہ چیزیں بھی غلول کے ضمن میں آتی ہیں اور جیسا کہ اس حدیث میں وارد ہوا ہے غلول فقر و فاقہ کے قریب کرتا ہے اور نصرت باری تعالیٰ کا راستہ روک دیتا ہے۔

مذکورہ بالا نکات سیّمدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وصیت کی عظمت کی عکاسی کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے کمانڈر کو اسے محاذ جنگ پر بھیجتے ہوئے فرمائی تھی۔ اس گرانقدر وصیت سے یہ حقیقت بھی نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلمانوں کے مسائل اور ان کی مشکلات کا بڑی شدت کے ساتھ احساس تھا اور وہ ان امور سے بخوبی آگاہ تھے جن سے ان کے کمانڈروں کو واسطہ پڑ سکتا تھا، لہٰذا ان کی پوری کوشش ہوتی کہ انہیں ہر وہ مدد فراہم کی جائے جن سے وہ ان مشکلات کے وقوع پذیر ہونے سے محفوظ رہیں اور ان کے وقوع پذیر ہونے کی صورت میں ان کے ازالہ کے قابل ہو سکیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ اور اس جیسی دیگر وصیتیں ان کی طرف سے متعدد مواقع پر اختیار کردہ مواقف میں خوبصورت اور جدید اضافہ ہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 196)

بیان کردہ روایت میں واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید(بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ) کو جنگ کے حوالے سے وصیت کرتے وقت بھی انسانی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں فرمایا۔ آپ نے انہیں دس نکات پر مشتمل جنگی قوانین اپنانے کی وصیت فرمائی جو کہ اسلامی تہذیب کے انسانی پہلو اور رحمت و شفقت سے معمور اس کی روح کے عکاس ہیں۔ یہ وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ماخوذ ہے: ’’لوگو! میں تمہیں دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں انہیں اچھی طرح یاد کر لو۔ خیانت نہ کرنا، غلول نہ کرنا، فساد نہ مچانا، لاشوں کا مثلہ نہ کرنا، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، پھل داردرخت نہ کاٹنا، بکریوں اور اونٹوں کو ذبح نہ کرنا، الا یہ کہ انہیں کھانا مقصود ہو، گرجا گھروں میں بند لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا، اللہ کے کام پر روانہ ہو جاؤ۔

(صور من تسامح الحضارۃ الاسلامیۃ مع غیر المسلمین: صفحہ 62، تاریخ طبری: جلد غ صفحہ 227 )

صفحہ 2 از 3