سیدنا عتبہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیابو الولید عتبہ بن ابوسفیان کی پیدائش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہوئی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں طائف کا والی مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا عمرو بن العاص کی وفات پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کا والی مقرر کیا۔ بیان کیا جاتا تھا کہ مکہ کی امارت کے ایام میں ایک بادیہ نشین خلیفہ کہہ کر ان سے مخاطب ہوا تو انہوں نے کہا: میں تو اس کا اہل نہیں ہوں۔ پھر وہ ان سے بھائی کہہ کر مخاطب ہوا، تو انہوں نے کہا: تو نے اپنی بات سنا لی، کچھ اور کہنا چاہے گا؟ اس نے کہا: بنو عامر کا شیخ تمہارا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے تمہارے ساتھ چچاؤں اور خالوؤں والے مراسم ہیں۔ وہ تمہارے سامنے کثرت عیال، قلت مال، زمانے کی سختی، فقر و فاقہ کی شدت اور نقصانات کی شکایت کرتا ہے، اس لیے کہ تمہارے پاس وہ کچھ موجود ہے جو اس کی ضروریات پوری کر سکتا ہے اور اس کی مشکلات کا ازالہ کر سکتا ہے۔
(ایضاً: صفحہ 207، قادۃ فتح شام و مصر: صفحہ 99)
عتبہ نے جواب دیا: ہم نے تجھے بے نیاز کرنے کا حکم دے دیا ہے کاش! ہم اپنی اس تاخیر کا ازالہ کر سکیں۔
(التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 208)
عتبہ بڑے قادر الکلام اور فصیح البیان خطیب تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بنو امیہ میں ان سے بڑھ کر کوئی خطیب نہیں ہوا۔
(التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 208)
عتبہ ایک سال تک مصر کے والی رہے، پھر مصر میں ہی ان کا انتقال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔ یہ 43ھ یا 44ھ کی بات ہے۔