اللہ تعالی کے افعال میں حکمت و مصلحت
امام ابنِ تیمیہؒ[اللہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت و مصلحت ]رافضی مصنف نے کہا ہے: ’’اللہ تعالیٰ کے افعال محکم [حکمت سے بھر پور]ہوتے ہیں کسی مقصد اور مصلحت کی وجہ سے واقع ہوتے ہیں وگرنہ عبث ٹھہریں گے۔‘‘[جواب]: ....پہلے گزر چکا ہے کہ اہل سنت جوامامیہ میں سے نہیں ہیں ؛ان کے ہاں اللہ کے افعال و احکام کی تعلیل میں دو اقوال ہیں ۔ اکثرعلماء علت و حکمت والے قول پر ہیں ۔ اور حکمت رب سے جدا ہے ؛اس کے ساتھ قائم نہیں ہے۔ یا پھر الگ سے وجود قائم نہیں رکھ سکتی؛ اس کے ساتھ قائم ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی حکمت منفصلہ کا ثابت مانا جائے؟ اس میں دو قول ہیں ۔اور کیا حکمت کا تسلسل ہوتا ہے یا نہیں ؟ یا اس کا تسلسل مستقبل کے ساتھ ہوتا ہے ماضی کے ساتھ نہیں اس میں ان کے کئی اقوال ہیں ۔٭ جہاں تک لفظ ’’الغرض‘‘ کا تعلق ہے؛ تو اس لفظ کا اطلاق اھل کلام کی ایک جماعت مثلاً قدریہ کے ہوتا ہے اور قائلین تقدیر کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ:وہ کسی غرض کی وجہ سے کرتا ہے جیسا کہ قدر کو ثابت کرنے والے اہل تفسیر و اہل فقہ وغیرہ ذکر کرتے ہیں ۔ لیکن اکثر فقہاء اور قائلین تقدیر لفظ غرض کا استعمال نہیں کرتے۔ اگرچہ انہوں نے لفظ حکمت استعمال کیا ہے کیونکہ اس میں ظلم اور حاجت کا وھم پیدا ہوتا ہے۔ لوگ جب کہتے ہیں فلاں نے یہ کام فلاں غرض سے کیاہے۔ فلاں کو فلاں سے غرض ہے ۔اوربہت سے مذموم استعمالات ہیں جن سے مراد ظلم اور گناہ ہوتا ہے۔ اللہ اپنے ارادے سے کسی مذموم چیز کا ارادہ کرنے سے پاک ہے۔