Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جامعہ قاسم العلوم ملتان کا فتویٰ شعیہ کے ساتھ مناکحت، ان کا ذبیحہ، ان سے مراسم رکھنا اور ان سے مسجد کے لیے چندہ وصول کرنا


جامعہ قاسم العلوم ملتان کا فتویٰ

سوال: ہمارے شہر جہانیاں میں الحمدللہ علمائے کرام کا آپس میں جوڑ اور محبت موجود ہے کبھی اختلاف و افتراق نہیں ہوا۔ سوائے اس مسئلہ کے جو اس وقت ملک میں موجود ہے کہ مسلم جماعتوں کا شیعہ اثناء عشری کو اپنے سیاسی و مذہبی اتحاد میں شامل کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ اور ان کو عہدے دینا کس حد تک شرعاً درست ہے اس پر دونوں حضرات اپنے اپنے دلائل دیتے ہیں۔

اتحاد کے عدمِ جواز والے حضرات خمینی اور اثناء عشری کے بارے میں علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ خصوصی اشاعت بینات کراچی کو پیش کرتے ہیں اور اس کے علاؤہ خیر الفتاویٰ جلد نمبر 2 صفحہ 365 پر کسی مستفتی کے جواب میں جو مفصل فتویٰ موجود ہے جس میں اکابرین علمائے دیوبند کے فتاویٰ جات کو مستفتی نے ذکر کیا ہے۔ جس میں اکابرین نے شعیوں کو بلا شک کافر ان کے ساتھ مناکحت نا جائز ان کا ذبیحہ حرام اور اُن کا چندہ نا جائز اور ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازے میں شریک کرنا قطعاً نا جائز حتیٰ کہ مولانا مسعود احمد صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند کی یہ تحریر بھی موجود ہے کہ جو شخص شیعوں سے ترکِ مراسم نہیں کرتا وہ اسلام سے خارج ہے اور ان ہی جیسا کافر ہے۔ خیر الفتاویٰ جلد نمبر دوم صفحہ نمبر 367 میں مفتی اعظم حضرت مولانا عبدالستار کا جواب بعینہٖ یہ ہے اہلِ تشیع سے امام صاحب کا (جن سے یہ فتویٰ طلب کیا گیا تھا کہ جو کہ شیعوں سے میل جول رکھتے تھے) اس قدر میل جول کسی صورت درست نہیں اہلِ محلہ کا مطالبہ صحیح ہے، جب تک امام صاحب کے بارے میں اطمینان نہ ہو جائے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتیاط کی جاوے جو ضروریاتِ دین کا منکر ہو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ۔ (سورۃ ہود: آیت، 113) علاوہ ازیں اس اتحاد سے دینی نقصانات واضح سامنے آ رہے ہیں۔ 

اول: شیعوں کے کفر کے بارے میں عوام الناس کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ 

دوم: اور اسی نرمی کی وجہ سے اور سنیوں کے مابین مناکحت کی خبریں بھی مل رہی ہیں۔ 

سوم: مقتدر لیڈر حضرات کی شیعہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی بھی خبر مشہور ہو چکی ہے۔

چہارم: شیعہ ہمارے اکابر علماء کرام کی موجودگی میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلانیہ اظہار کرتے ہیں اور دلیل میں یہ کہتے ہیں کہ دیکھو ہم سب مسلمان ایک ہیں ہمارا دینی جماعتوں کا اتحاد اس بات کی واضح دلیل ہے۔ 

ہمارے دوسرے ساتھی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ سیاسی مجبوری ہے اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے انہیں اپنے ساتھ شامل کرنا یہ بھی ایک ضروری مجبوری ہے۔ لہٰذا فَسۡــئَلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ۔ (سورۃ النحل: آیت، 43) پر عمل کرتے ہوئے دونوں فریق آپ حضرات کی طرف مراجعت کر رہے ہیں اس سلسلہ میں تفصیلی جواب دے کر اپنی عظیم دینی شرعی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر عنداللہ ماجور ہوں اور امتِ مسلمہ کے اطمینانِ قلب کا ذریعہ بنیں۔

جواب: صورتِ مسئولہ عنہا میں علماء کا اختلاف قابلِ قدر اور لائق تحسین ہے آنجناب نے شیعہ کے ساتھ عدمِ جواز کے بارے میں جن علماء کی تحقیقات پیش کی ہیں وہ سب صحیح بر حق ہیں بندہ کی بھی یہی رائے ہے اور انہی علماء کی تحقیقات کو حق سمجھتا ہے دوسرے فریق کے عزرات بندہ کے خیال میں کمزور قسم کے ہیں۔

مذکورہ استفتاء کے جواب میں دارالافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور یوں رقمطراز ہے:

اصل فتویٰ وہی ہے جو فریق اول نے ذکر کیا ہے دوسرا فریق بھی اسی کو تسلیم کرتا ہے کیونکہ جواب میں صرف سیاسی مجبوری کا ذکر ہے نا کہ ان کے مسلمان ہونے کی دلیل۔

معلوم ہوا کہ دونوں حضرات کے نزدیک سابق فتویٰ ہی معتبر اور حجت ہیں، کیونکہ ان سابقہ فتاویٰ سے کسی بھی عالم کا رجوع ثابت نہیں۔ اگر عمل اس کے خلاف ہے یا سیاسی مجبوری ہے تو یہ شرعاً حجت اور معتبر نہیں ہے۔

(فتویٰ امام اہلِ سنت مع تائید علماء اہلِ سنت: صفحہ، 48)