معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی بیویاں اور اولاد
علی محمد الصلابی1۔ میسون بنت بحدل الکلبی:
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس بیوی نے ان کے بیٹے یزید کو جنم دیا۔ اس نے ان کی ایک بیٹی کو بھی جنم دیا جس کا نام امۃ رب المشارق تھا اور جس کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔
(تاریخ طبری: جلد 16 صفحہ 246، 247)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی اس بیوی کا بڑا احترام کرتے تھے مگر وہ اس دیہی چراگاہ کے لیے ہمیشہ بے چین رہتی جہاں اس نے بچپن گزارا تھا۔ وہ اپنے گھر والوں اور ان کی سادہ زندگی کو یاد کرتی، اسے محلات کی زندگی اور ان میں موجود غلاموں اور لونڈیوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ایک دن جب اسے اپنے گاؤں، اس کی مٹی اور وہاں کے لوگوں کی شدت کے ساتھ یاد آئی تو وہ ٹھنڈی آہیں بھر کر رونے لگی۔ جب اس سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو وہ یہ اشعار پڑھنے لگی:
لبیت تخفق الأرواح فیہ
أحبّ إليّ من قصر منیف
وبکر یتبع الأظعان سبقاً
أحبّ إليّ من بَغْلِ زفوف
وکلب ینبح الطّراق عني
أحبّ إليّ من قطٍ ألیف
ولـبـسُ عباء ۃٍ و تـقـرّ عـیـنـي
أحبّ إليّ من لبس الشفوف
وأکل کـسیرۃ في کِسْر بیتي
أحبّ إليّ من أکل الرّغیف
وأصواف الرّیاح بکل فج
أحبّ إليّ من نقر الدفوف
وخِرق من بني عمي نحیف
أحبّ إليّ من عِلج کلیف
خشونۃ عیشي في البدو أشہی
إلی نفسي من العیش الطّریف
فما أبغي سوی وطني بدیلاً
فحسبي ذاک من وطن شریف
جب معاویہ اس کے پاس آئے تو ان کی ایک لونڈی نے انہیں اس سے آگاہ کیا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اسے یہ اشعار پڑھتے ہوئے خود سنا تو فرمانے لگے: بحدل کی بیٹی نے تو مجھے چارہ کھانے والا جنگلی گورخر بنا دیا ہے۔ اسے میری طرف سے طلاق ہے۔ اسے بتاؤ کہ محل میں جو کچھ بھی ہے وہ سب کا سب اسی کی ملکیت ہے۔ پھر آپ نے اسے گاؤں میں اس کے گھر والوں کے پاس بھیج دیا۔ وہ اپنے بیٹے یزید کو بھی اپنے ساتھ لے گئی۔ چونکہ وہ بادیہ میں پروان چڑھا تھا لہٰذا وہ بڑا فصیح اللسان تھا۔
(شاعرات العرب: صفحہ 396، 397، نساء من عصر التابعین احمد خلیل: صفحہ 43)
بغدادی رحمہ اللہ نے خزانۃ الادب میں ذکر کیا ہے کہ’’ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے طلاق دی تو کہنے لگے: تو ہمارا ساتھ چھوڑ کر جا رہی ہے۔ اس نے جواب دیا: جب ہم ایک ساتھ تھے تو خوش نہیں تھے اور اب جب ہم جدا ہو رہے ہیں تو اس جدائی کا کوئی غم نہیں ہے۔‘‘
(خزانۃ الادب: جلد 3 صفحہ 593، نساء من عصر التابعین: صفحہ 43)