ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور مسئلہ رؤیت کا بیان : - ردِ رافضیت…

ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور مسئلہ رؤیت کا بیان :

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2
’’تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح سورج اور چاند کو دیکھتے ہو۔‘‘آپ نے رؤیت کو رؤیت سے تشبیہ دی ہے اگرچہ دونوں دیکھنے میں برابر نہیں ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آنکھ اپنی کمزوری کی وجہ سے سورج کی روشنی کو دیکھنے سے عاجز ہے نہ کہ اس روشنی کا دیکھنا ناممکن ہونے کی وجہ سے ۔پس جب آخرت میں اللہ تعالیٰ انسانوں کو کامل کرے گا اور انہیں وہ قوت دے گا حتی کہ اس ذات کی رؤیت کی طاقت مل جائے گی۔ اسی وجہ سے جب اللہ رب العزت نے موسیٰ علیہ السلام کے لیے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ بے ہوش ہو گئے اور جب ہوش آئی تو فرمایا:﴿فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (اعراف 143)’’ پھر جب اسے ہوش آیا تو اس نے کہا تو پاک ہے، میں نے تیری طرف توبہ کی اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں ۔‘‘’’ اول المؤمنین ‘‘ اس لیے کہا کہ زندہ اسے نہیں دیکھ سکتا حتی کہ وفات پاجائے۔ اور تری جب تک خشک نہ ہو جائے؛ مخلوق میں یہ کمزوری موجود ہے۔ نہ کہ ذات باری تعالیٰ کا دیکھنا محال ہے بلکہ مانع خود انسان ہے۔ اس ممانعتکی وجہ اس کے وجود میں نقص ہے۔ حتی کہ معاملہ معدوم تک پہنچے جس کو دیکھنے والے کے باہر دیکھنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔اسی وجہ سے انسان فرشتے کو دیکھنے سے عاجز ہیں ہاں جس کو اللہ تعالیٰ قوت دے دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قوت دی ۔فرمان باری تعالیٰ ہے :﴿وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ O وَ لَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْھِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ ﴾ [الانعام۸۔۹]’’اور انھوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا؟ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو ضرور کام تمام کر دیا جاتا، پھر انھیں مہلت نہ دی جاتی۔اور اگر ہم اسے فرشتہ بناتے تو یقیناً اسے آدمی بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈالتے جو وہ شبہ ڈال رہے ہیں ۔‘‘ کئی سلف نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے:’’انسان فرشتے کو اصلی صورت میں دیکھنے کی قوت ہی نہیں رکھتے۔ اگرہم ان کی طرف فرشتہ نازل کرتے ؛ تو اسے بھی بشر کی شکل وصورت میں نازل کرتے۔ اور اس صورت میں پھر یہ شبہ ہی رہتا کہ یہ فرشتہ ہے یا انسان۔ یہ فرشتے کے مبعوث ہونے کے باوجود فائدہ نہ اٹھاتے۔ ہم نے ان میں انہی کی جنس میں سے رسول بھیج دیا جسے ان کے لیے دیکھنا اور اس سے سیکھنا آسان ہو جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مخلوق پر بڑا فضل اور رحمت ہے۔ اسی لیے ارشاد فرمایا :﴿وَمَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ﴾(تکویر 22)’’اور تمہارا ساتھی کوئی مجنوں نہیں ہے۔‘‘نیزارشاد فرمایا:﴿مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی﴾ (نجم 2) ’’تمہارا ساتھی نہ گمرا ہوا نہ بھٹکا ہے۔‘‘نیزارشاد فرمایا:﴿لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ﴾۔(توبہ 123) ’’یقیناً تمہارے پاس رسول آیا جو تم ہی میں سے ہے۔‘‘نیزارشاد فرمایا:﴿وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ﴾(ابرہیم 4) ’’ ہم نے ہر نبی اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے وضاحت کرے۔‘‘اس طرح کی دیگر آیات بھی ہیں ۔اگر آپ کہیں :’’ وہ کہتے ہیں کہ: ’’وہ بلاجھت دیکھا جائے گا۔‘‘ یہ تو ضد اور عناد ہے۔تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ: انہوں نے یہ بات ایک ایسی اصل کی بناء پر کہی ہے جو آپ اور ان کے درمیان متفقہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ وہ کسی جھت میں نہیں ۔ پھر جب کلام، اشعری اس کے اصحاب ائمہ اور ان کے ہم خیال (اھل الحدیث) اصحاب احمد، تمیمیین اور ابن عقیل وغیرہ کا بھی ہے؛ تو کہا جائے گاکہ : یہ کہتے ہیں :’’ وہ عالم کے اوپر بالذات ہے وہ نہ تو جسم ہے اور نہ ہی متحیز۔‘‘اگر آپ کہیں :’’ یہ قول عقل کے خلاف ہے۔‘‘کیونکہ جب وہ عالم کے اوپر ہے تو لازم آتا ہے کہ اس کی ایک جانب دوسری سے ممتاز ہو (جب ایک جانب دوسری سے ممتاز ہوئی) تو جسم ہوا۔ جب وہ عرش پر قائم بالذات موجود کو ثابت کرتے ہیں ؛تو وہ چھونے اور برابری سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی اس کی جانب دوسری سے ممتاز ہوتی ہے یہ تو عناد اور محض ِمخالفت ہی ہے۔‘‘رؤیت کی نفی کرنے والوں سے پوچھا جائے تم اور تمہارے ہمنوا قائلین رؤیت اس بات پر متفق ہو کہ وہ نہ عالم میں داخل ہے نہ عالم سے خارج؛ اور نہ ہی عالم سے جدا ہے اورنہ ہی عالم میں جگہ پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ 


صفحہ 2 از 2