عقل اور وہم سے متعلق گفتگو: - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقل اور وہم سے متعلق گفتگو:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2
٭ قائلین اثبات کی بڑی یہ دلیل ہے کہ اگر ایسے موجود کو ثابت کرنا جس کا جسم نہیں جو داخل اور خارج عالم میں نہیں ؛ ممکن ہے تو ایسی موجود کا اثبات جو عالم کے اوپر ہے اس کا جسم بھی ہے امکان کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اگریہ ممکن نہیں تو نفی کرنے والوں کا قول بھی باطل ہوا]۔٭ ثابت ہوا اللہ تعالیٰ داخل عالم میں ہے یا خارج میں چنانچہ ان کا قول ایسی موجود کے اثبات کا قول جو داخل عالم میں ہے نہ خارج میں دونوں حالوں میں حق سے کوسوں دور ہے۔ اور یہی مطلوب ہے۔٭ پھر یہ کہا جائے گا ایسی چیز کی رؤیت جس کا جسم ہے نہ جھت یہ عقلاً جائز ہے یا ممنوع۔ اگر جائز ہے تو بات ختم ہوئی۔ اگر ممنوع ہے تو عقل کا روکنا ایسے موجود کے لیے ہو گا جو داخل عالم میں ہے نہ خارج میں بلکہ وہ حی بلاحیات، علیم بلاعلم اور قدیر بلا قدرت ہے یہ شدید سے بھی شدید تر ہوا۔٭ اگر آپ کہیں :’’ یہ ممانعت وہم کے حکم کی ہے۔‘‘ تو کہاجائے گا بلاجھت نظر آنے والی چیز میں رؤیت کی ممانعت وھم کے حکم میں سے ہے۔ یہ تیسرا جواب ہوا۔٭ اس کی وضاحت یوں ہے کہ: ان کے ہاں وھم کا حکم باطل ہے یعنی محسوس امور کا حکم غیر محسوس پر لگانا۔دوسرا جواب:یہ کہاجائے گاکہ: رؤیت باری تعالیٰ ممکن ہے یا ناممکن۔ اگر ممکن ہے تو غیر محسوس موجود کے اثبات کا قول باطل ٹھہرا اور باطل وھم باقی نہ رہا جو غیر محسوس میں باطل حکم لگائے۔ تمہارا رؤیت باری تعالیٰ سے بھی جن اور فرشتوں کی رؤیت زیادہ ممنوع ٹھہری۔ اگر آپ اس کی رؤیت جائز قرار دیں تو فرشتوں اور جنوں کی رؤیت زیادہ حق رکھتی ہے اگر آپ کہیں اس کی رؤیت ناممکن ہے تو کہا جائے گا تو تب غیر محسوس میں وھم کا حکم ناقابل قبول ہے اور حکم یہ ہے کہ ہر مرتی چیز کے لیے لازم ہے کہ جھت میں ہو وھم کے حکم سے۔٭ ہاں اگر ہم فرض کریں غیر محسوس موجود دیکھا جاتا ہے مگر اس کی جھت نہیں ۔ یہ ایسی رؤیت ہے جو جھت والی رؤیت کے علاوہ ہے۔ یہ بھی باطل ہے جیسے خارج اور داخل عالم میں نہ ہونے والے موجود کا قول باطل ہے ورنہ جب اس موجود کا وجود ثابت ہوا اس سے متعلقہ رؤیت اس کے لیے مناسب ٹھہری اس کی رؤیت مھود اجسام کی رؤیت جیسی نہ ہوئی۔
٭ یہ اور اس جیسے دیگر طریقے عقلی مناظرہ کے ہیں ؛ جب اس پر چلیں گے تو واضح ہوگاکہ جو بھی سنت پر چلے گا اس کا قول عقل کے زیادہ قریب ہو گا۔ یہ طریقہ بھی سنت قریب ہونے والوں کی ضرور مدد کرتا ہے لیکن جب کچھ سنت کے قریب لوگوں نے بھی سنت سے دور ہونے والوں کے مقدمات کو درست مان لیا تو یہ بھی حقیقت میں باطل اور عقل و شرع کے مخالف ٹھہرا۔ ممکن نہیں کہ ان کا قول معاملہ کے مطابق ہو اور عقل صریح اور شرع متین کے ساتھ اس کی مدد کرنا ممکن نہیں ۔ یہ بات اسے سمجھ آنے کی جو حق کو جاننے کی کوشش کرے نہ کہ کسی قول کی طرف جھکاؤ رکھتا ہو۔ اگر کسی قول کا رجحان واضح کرنا مقصود ہو تو اگرچہ یہ ممکن ہے یہ وہ طریقہ ہے جس پر بہت سارے لوگ چلتے ہیں اسی وجہ سے رافضہ عیب ہے جنہوں نے اہل سنت کے خلفاء ثلاثہ کے اثبات کے معاملہ میں کیا انہوں نے بہت سے مذموم اقوال کے ساتھ عیب لگایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں تو حق اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ علم کے ساتھ بات کرنے کا امر دیا ہے، عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنایا ہے ہمارے لیے جائز نہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی (چہ جائے رافضی) کوئی حق کی بات کہے اور ہم اسے ترک کر دیں ہم فقط باطل کو رد کریں گے حق کو نہیں ۔ اسی وجہ سے یہ کتاب لکھی ’’منھاج أہل السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ۔‘‘٭ بہت سے اھل سنت کہلانے والوں نے معتزلہ، رافضہ اور دیگر اھل بدعت کلامیوں کی تراشیدہ بدعات اور باطل چیزوں سے رد کیا ہے۔ اس طریقہ کو بہت سے اھل کلام جائز سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں فاسد کا مقابلہ فاسد سے کرنا درست ہے۔ لیکن ائمہ سنت اور سلف اس کے خلاف ہیں ۔ یہ ایسے اھل کلام کی مذمت کرتے ہیں جو بدعت اور باطل کا رد بدعت اور باطل سے کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ: انسان کو حق ہی بیان کرنا چاہیے کسی صورت میں بھی سنت سے نہیں ہٹنا چاہیے۔ یہی درست بات ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ اسی وجہ سے ہم معتزلہ اور رافضہ کی تراشیدہ چیزوں کے باوجود حق کو نہیں چھوڑتے۔ لیکن ہم اپنے مخالفین پریہ واضح کرتے ہیں کہ انہوں نے جن اقوال کے ساتھ عیب لگایا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کے اقوال میں عیب ہے۔٭ شیخین رضی اللہ عنہماکی فضیلت اور خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم کی خلافت کے قائلین اگرچہ کچھ فاسد اقوال بھی رکھتے ہیں لیکن رافضہ کے اقوال کا فساد ان سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح فلاسفہ اور معتزلہ میں سے خود کو سنت کی طرف منسوب کرنے والوں کا معاملہ بھی ہے؛ جیسے اشعری اور دیگر حضرات؛ اگرچہ ان کے ہاں بھی باطل اور فاسد اقوال پائے جاتے ہیں ؛تو یقیناً معتزلہ اور فلاسفہ کے اقوال و عقائد اس سے بھی بڑے باطل اور فاسد ہیں ۔پس لازم آتا ہے کہ جب دو گروہوں میں بحث ہو؛ تو راجح وہی بات ہونی چاہیے جو عقل و نقل اور شرع کے زیادہ قریب ہو۔ ہم کبھی بھی عقل و شرع کے مخالف باطل قول کی نصرت نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنا حرام اور مذموم ہے۔ایسا کرنے والا قابل مذمت ہے اس سے ناقابل بیان شر پیدا ہوتا ہے۔ جیسے مبتدعہ کے اقوال سے پیدا ہوا۔ (ان امور کی وضاحت اور کسی موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں ) اللہ اعلم۔

صفحہ 2 از 2