سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور ان کے فضائل
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر اپنے باپ اور بھائی یزید کے ساتھ مسلمان ہوئے۔
(الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 433، التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 105)
مشہور روایت تو یہی ہے مگر ان سے ان کا یہ قول بھی مروی ہے کہ میں عمرۃ القضاء کے موقع پر 7ھ میں مسلمان ہوا مگر میں نے اسے اپنے باپ سے مخفی رکھا، جب انہیں کچھ دیر بعد اس کا علم ہوا تو وہ مجھ سے کہنے لگے: تمہارا بھائی یزید تم سے بہتر ہے جو اپنی قوم کے دین پر کاربند ہے۔ اس پر میں نے ان سے کہا: مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت میں آپ کی تصدیق کر چکا تھا۔ پھر جب آپ فتح مکہ کے موقع پر شہر میں داخل ہوئے تو میں نے اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے خوش آمدید کہا اور میں آپ کی خدمت میں رہ کر کتابت کرنے لگا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 396)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مال غنیمت کے ایک سو اونٹ اور چالیس اوقیہ سونا دیا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 396)
علماء نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعدد فضائل کا ذکر کیا ہے، جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ قرآن مجید کے حوالہ سے
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ حنین میں شرکت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 26)
ترجمہ: پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مؤمنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے ان کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے۔
چونکہ سیدنا معاویہؓ اس غزوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے، لہٰذا آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل کی۔
(الفتاوی: جلد 4 صفحہ 458)
اسی طرح ان کا شمار ان لوگوں میں بھی ہوتا ہے جن کے ساتھ اس نے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞ ( سورۃ الممتحنة آیت 10)
ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
ان سے الحسنیٰ کا وعدہ اس لیے ہے کہ انہوں نے غزوۂ حنین و طائف میں شرکت کی اور باقاعدہ طور سے دشمنان اسلام سے جنگ لڑی۔
(الفتاوی: جلد 4 صفحہ 495 )