Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے

  علی محمد الصلابی

الف: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ دعا کی:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا وَ اہْدِ بِہ

(الشریعۃ:  جلد 5 صفحہ 2437)

’’یا اللہ! انہیں ہدایت دہندہ اور ہدایت یافتہ بنا اور انہیں ذریعہ ہدایت بنا دے۔‘‘

ان کے حق میں آپﷺ کی ایک دوسری دعا کے الفاظ ہیں:

اَللّٰہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْکِتَابَ وَ الْحِسَابَ وَقِہِ الْعَذَابَ 

(موارد الظمان: ہیثمی: تحقیق حسین دارانی: جلد 7 صفحہ 249۔ اس کی سند حسن ہے)

’’اے اللہ! معاویہ( رضی اللہ عنہ ) کو حساب و کتاب سکھا اور انہیں عذاب سے بچا۔‘‘

ب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دفعہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے میں آپ کو دیکھ کر پردے کے پیچھے چھپ گیا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: ’’جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔‘‘ میں نے انہیں واپس آ کر بتایا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا اَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ

(صحیح مسلم: رقم الحدیث: 2604)

’’اللہ اسے سیر شکم نہ کرے۔‘‘

اس حدیث کے تحت امام نووی رقمطراز ہیں: امام مسلم کا اس حدیث کو اس باب (باب کا نام یہ ہے: من لعنہ النبي صلي الله عليه وسلم اوسبہ اودعا علیہ ولیس ہو اہلا)

کے تحت ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بددعا کو متضمن نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے۔

(شرح صحیح مسلم از نووی: جلد 16 صفحہ 165)

ابن عساکر مذکورہ بالا حدیث کے تحت لکھتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں وارد احادیث میں سے یہ صحیح ترین حدیث نبوی ہے۔ اس کے بعد مقام صحت اَللّٰہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْکِتَابَ

اور پھر اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا

(تاریخ دمشق: جلد 62 صفحہ 24)

کا ہے۔ اسی حدیث کے تحت امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: کہا جا سکتا ہے کہ یہ حدیث سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب پر مشتمل ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’میرے اللہ! میں جس پر لعنت کروں یا اسے برا کہوں تو اسے اس کے حق میں پاکیزگی اور رحمت بنا دینا۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 14 صفحہ 130 )

شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ایک فرقہ اس حدیث کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مطعون کرنے کے لیے ناجائز طور پر استعمال کرتا ہے، حالانکہ اس سے ان کے مذموم عزائم کو کوئی مدد نہیں ملتی۔ پھر آخر انہیں مطعون کرنے کا جواز بھی کیا ہے۔ وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی تھے۔‘‘

(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 165)

یہ بھی کہا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ’’اللہ اسے سیرشکم نہ کرے۔‘‘ ایسا کلمہ ہے جسے عرب اس کے لغوی معنی میں استعمال نہیں کرتے۔ جیسا کہ یہ کلمات: قاتلہ اللّٰہ و ما اکرمہ، ویل امہ و ابیہ ما اجودہ، و غیرہما…

(الناہیۃ عن طعن امیر المومنین معاویۃ: صفحہ 69)

ج: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ محترمہ ام حرام بنت ملحان کہتی ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سو گئے۔ جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی، تو آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا وہ سمندر میں شامی تختوں پر بیٹھے بادشاہوں کی طرح سفر کریں گے۔ میں نے کہا: دعا فرمائیں اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرما دے۔ آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی اور پھر دوبارہ سو گئے۔ آپ پھر دوبارہ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے وہی پہلے والا سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا، انہوں نے دوبارہ پہلے والی دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا: تم پہلے والوں میں سے ہو۔ پھر وہ دن بھی آیا کہ ام حرام بنت ملحان اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ سمندر کے جہادی سفر پر روانہ ہوئیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں جہاد کرنے کے لیے سمندری سفر پر روانہ ہونے والا یہ پہلا لشکر تھا۔

(یہ واقعہ شام پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت کے ایام کا ہے، یہ 27؛ھ کی بات ہے اور اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین تھے۔)

جب یہ لشکر واپس آنے کے لیے روانہ ہوا تو انہیں سواری پر سوار کیا گیا، سواری نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 22)

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے ضمن میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے کچھ لوگوں کو سمندری جہادی سفر پر روانگی کے منظر کو دیکھ کر مسکرانا انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف اور ان کے مقام و مرتبہ پر خوشی کا اظہار تھا۔

(فتح الباری: جلد 11 صفحہ 76)

د: ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:’’ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے آپ کے یہ الفاظ سماعت کیے: ’’میری امت کا پہلا لشکر جو سمندری جہاد کے سفر پر روانہ ہو گا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔‘‘ یہ سن کر میں نے دریافت کیا: کیا میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں گی؟ آپ نے فرمایا: ’’ان لوگوں میں تم بھی شامل ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ’’میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر میں جہاد کرے گا اس کی مغفرت فرما دی گئی ہے۔‘‘

(مدینہ قیصر سے مراد قسطنطنیہ ہے۔ ملاحظہ ہو: فتح الباری:  جلد 6 صفحہ 120)

میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں میرا بھی شمار ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 22)

مہلب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت بیان فرمائی گئی ہے، اس لیے کہ سب سے پہلے انہوں نے ہی سمندر میں جہادی سفر کیا تھا۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 120)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نہ صرف یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی تھے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 396)

بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مختلف قبائل کے زعماء کو خطوط بھی لکھا کرتے تھے۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 3 صفحہ 434)

کاتب وحی ہونے کے ناطے انہیں آنحضرت کا خصوصی قرب حاصل تھا۔ ان کے لیے کتابت وحی کے اعزاز کا یہ عرصہ فتح مکہ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک کو محیط ہے جس کا ضروری نتیجہ یہ نکلا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست استفادہ کا سنہری موقع ملا۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 145)