Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست روایت کرنے کا شرف عظیم بھی حاصل ہے جس کی وجہ فتح مکہ کے بعد ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلسل ہم نشینی ہے۔ یاد رہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ان کی عمر تقریباً اٹھارہ برس تھی۔

(الطبقات الکبری: جلد 7 صفحہ 406۔ خلافۃ معاویۃ:  دیکھیے عمر العقیلی: صفحہ 14)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی سسرالی رشتہ داری نیز ان کے کاتب وحی ہونے کے اعزاز نے انہیں جو سنہری موقع فراہم کیا اس نے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست فیض یاب ہونے کا بھرپور موقع فراہم کیا اور انہوں نے آپﷺ سے ایک سو تہتر روایات اخذ و نقل کیں۔

(اسماء الصحابۃ الرواۃ لابن حزم: صفحہ 55)

ان میں سے چار بخاری و مسلم، چار بخاری اور پانچ مسلم نے روایت کی ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 162)

ان میں سے چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور ابن عامر کے پاس آئے، ان کے آنے پر ابن عامر تو کھڑے ہو گئے مگر ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایسا نہ کیا۔ اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ’’جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوا کریں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘

(الموسوعۃ الحدیثیۃ: مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 40۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

2۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔‘‘

(الموسوعۃ الحدیثیۃ: مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 48۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

3۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں قائم ایک حلقہ میں آئے اور ان سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا تمہیں واقعی اس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے اس کا جواب اثبات میں دیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تم سے قسم، تم پر تہمت لگانے کے لیے نہیں لی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر میں قریب تھا کوئی دوسرا نہیں تھا۔ مگر میں نے اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم روایات نقل کی ہیں، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حلقہ میں تشریف لائے اور ان سے دریافت فرمایا: تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے بتایا: ہم ادھر بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کا راستہ دکھایا اور آپ کی صورت میں ہم پر احسان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم، کیا واقعی تمہیں اس چیز نے بٹھایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم ہمیں اسی چیز نے بٹھایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے تم پر تہمت لگانے کے لیے تم سے قسم نہیں لی ہے۔ میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔

(مسند احمد: جلد 28 صفحہ 50۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

4۔ معبد جہنی کہتے ہیں: اگرچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم احادیث روایت کیا کرتے تھے مگر وہ حدیث ہر جگہ بیان کیا کرتے تھے: ’’اللہ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ یقیناً یہ مال شیریں اور تر و تازہ ہے جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اس کے لیے اس میں برکت پیدا کر دی جائے گی، ایک دوسرے کی مدح سرائی سے بچو یہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 28 صفحہ 52۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

5۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنین سب لوگوں سے لمبی ہوں گی۔‘‘

(مسند احمد: جلد 28 صفحہ 75۔ اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔)

6۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب نوشی کرنے والے کو کوڑے مارو، دوبارہ ایسا کرنے پر پھر کوڑے مارو، تیسری بار شراب نوشی کرے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی دفعہ یہی کام کرے تو اسے قتل کر دو۔‘‘

7۔ مجاہد اور عطاء ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپﷺ نے قینچی سے اپنے بال کاٹے۔ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: یہ حدیث ہمیں صرف معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے پہنچی ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت نہیں لگائی۔

(مسند احمد: جلد 28 صفحہ 61۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

8۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’یہ عاشورہ کا دن ہے، اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے، اگر کوئی روزہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے، اور میں روزے سے ہوں۔‘‘ اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 81۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

9۔ حکم بن نیساء سے مروی ہے کہ انہیں یزید بن جاریہ انصاری نے خبر دی کہ وہ انصار کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے کہ ان کے پاس سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے ان کی گفتگو کے بارے دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم انصارِ مدینہ کے بارے گفتگو کر رہے تھے۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت کی ہے؟ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! ضرور سنائیں۔ وہ گویا ہوئے: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’جو شخص انصار سے محبت کرے گا اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو انصار سے بغض رکھے گا اللہ اس سے بغض رکھے گا۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 8۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

10۔ ابو صالح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص امام کے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 89، صحیح لغیرہ۔)

11۔  محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ ضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَ لَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 100۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

’’یا اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمائے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو کچھ تو روک دے وہ کوئی دے نہیں سکتا، اور دولت والے کو تیرے بالمقابل دولت کوئی کام نہیں دے سکتی۔‘‘

12۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس بندہ مؤمن کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچے گی اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 107۔ اس کی سند صحیح ہے۔)

13۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، اس کے مخالفین اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور وہ لوگوں پر حاوی ہوں گے۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 116۔ اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔)

14۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنی نماز میں کچھ بھول جائے وہ بیٹھنے کی حالت میں دو سجدے کرے۔‘‘

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 118)

15۔ سیدنا امیر معاویہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ پر عمداً جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘

 (مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 118)

16۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت سے ایک جماعت اللہ کے حکم سے ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے والا یا ان کی مخالفت کرنے والا ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے گا اور وہ اس وقت لوگوں پر حاوی ہوں گے۔‘‘ یہ سن کر مالک بن یمار سکسکی کھڑا ہو کر کہنے لگا: امیر المؤمنین! میں نے معاذ بن جبل سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ ان سے مراد اہل شام ہیں۔ یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے کہا: مالک کا خیال ہے کہ اس نے معاذ بن جبل سے سنا کہ اس سے مراد اہل شام ہیں۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 129)

17۔ ایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ اس دوران آپ نے فرمایا: معاویہ! اگر تمہیں حکومت ملے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل و انصاف سے کام لینا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: اس کے بعد میں ہمیشہ یہ خدشہ محسوس کرتا رہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے مجھے آزمائش میں ڈالا جائے گا، یہاں تک کہ ایسا ہو کر ہی رہا۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 130۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔)

18۔ ابو عامر عبداللہ بن لحی سے مروی ہے کہ ہم نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ حج کیا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہود و نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے جبکہ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، یہ تمام فرقے جہنمی ہوں گے بجز ایک کے، اور وہ جماعت ہے، میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن میں نفسانی خواہشات اس طرح سرایت کر جائیں گی جس طرح سگ سگ گزیدہ آدمی میں سرایت کر جاتا ہے، وہ اس کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ کو متاثر کر جاتا ہے، اللہ کی قسم! اے گروہِ عرب! اگر تم اپنے نبی کی تعلیمات و ہدایات کو نہیں اپناؤ گے تو دوسرے بطریق اولیٰ انہیں اپنالیں گے۔

(مسند امام احمد: جلد 28 صفحہ 135۔ اس کی سند حسن ہے۔)