سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق غیر صحیح اور باطل روایات
علی محمد الصلابیغیر صحیح احادیث
ابن عساکر نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ضمن میں ضعیف اور باطل روایات کی طویل فہرست پیش کی ہے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3۔صفحہ 127، 128)
الف: واثلۃ سے مرفوعاً مروی ہے کہ سیدنا معاویہؓ اپنے حلم و حوصلہ اور میرے رب کے کلام کے امین ہونے کی وجہ سے نبی بنا کر اٹھائے جانے کے قابل ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 131)
ب: ابو موسیٰؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہوا۔ جب یہ سلسلہ رک گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ کو طلب کیا، جب انہوں نے آیۃ الکرسی کی کتابت کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاویہ اللہ تیری مغفرت فرمائے تو قیامت کے روز کس قدر میرے قریب ہو گا۔
( )
ت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل امین سونے کی قلم لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ فرماتا ہے: میں یہ قلم عرش کے اوپر سے سیدنا معاویہ کو تحفہ کے طور پر دے رہا ہوں، انھیں حکم دیں کہ وہ اس کے ساتھ آیۃ الکرسی لکھیں۔ اس پر زبر زیر ڈالیں اور نکتے لگائیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 128۔ یہ حدیث موضوع ہے۔)
ث: ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیۃ الکرسی اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ کو طلب کیا مگر انہیں کتابت کے لیے قلم نہ ملا، اس پر اللہ تعالیٰ نے جبریل امین کو حکم دیا کہ وہ اپنی دوات سے قلم پکڑے، اس پر جبریل قلم لانے کے لیے اٹھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قلم اپنے کان سے پکڑو‘‘ قلم کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا: ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ یہ رب کائنات کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے تحفہ ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 130 موضوع)
ج: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ روز قیامت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ انھوں نے نور ایمان کی چادر اوڑھ رکھی ہو گی۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 131۔ موضوع۔)
ح: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ’’میں قیامت کے روز معاویہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کو گم نہیں کرپاؤں گا، میں انہیں ستر سال تک دیکھ نہیں سکوں گا، اس کے بعد وہ کستوری کی اونٹنی پر بیٹھ کر آئیں گے۔ میں پوچھوں گا:
تم کہاں کھو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے: میں عرش کے نیچے ایک باغ میں تھا۔‘‘
خ: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے: ’’سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، مجھ سے تمھاری ملاقات جنت کے دروازے پر ہو گی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 131 موضوع۔)
امام ذہبی رحمہ اللہ مندرجہ بالا اور ان جیسی دیگر احادیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ان احادیث کا موضوع اور من گھڑت ہونا بالکل واضح ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 131) و اللہ اعلم
امام شوکانی نے ان میں سے زیادہ تر احادیث کو اپنی کتاب ’’الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ 403، 407)
ان میں سے ایک حدیث کو ذکر کرنے کے بعد ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: اس کے بعد ابن عساکر نے بہت ساری موضوع احادیث کو ذکر کیا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 409)
مگر تعجب ہے کہ انہوں نے اپنے حفظ و اطلاع کے باوجود ان کی نکارت اور ضعف کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 131)