عہد رسول اللہﷺ میں بنو امیہ کا کردار - دفاعِ اہلِ سنت |…

عہد رسول اللہﷺ میں بنو امیہ کا کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

دعوت اسلامیہ کے آغاز ہی سے بنو امیہ کے بہت سارے لوگ مشرف باسلام ہو گئے تھے۔ انہوں نے راہ اسلام میں گرانقدر قربانیاں پیش کیں اور ان میں سے بعض حضرات نے ہجرت حبشہ کی سعادت بھی حاصل کی۔ پھر فتح مکہ کے موقع پر جب بنو امیہ کے تمام لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے قبولِ اسلام پر دلی خوشی کا اظہار کیا۔ بڑے بڑے اہم معاملات میں ان پر اعتماد کیا اور انہیں ان کے مناسب حال مقام و مرتبہ پر فائز فرمایا تاکہ ان کی مساعی اور اہلیت سے استفادہ کیا جا سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو جس اعزاز سے نوازا وہ اہالیان مکہ میں سے کسی دوسرے کا مقدر نہ بن سکا۔ اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کوئی بھی ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امن حاصل ہو گا۔‘‘

(صحیح بخاری: 4280)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو عطا کردہ یہ عظیم اعزاز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے زعما اور بااثر لوگوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو نجران کا عامل مقرر کیا اور ان کے بیٹے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی الہٰی کے منصب پر فائز فرمایا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 834)

صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ مجھے کسی علاقے کا امیر مقرر کیا جائے تاکہ میں کفار کے ساتھ اس طرح جنگ کر سکوں جس طرح مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔ ان کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ میرے بیٹے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی مقرر کر دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 11)

فتح مکہ کے بعد جس شخص کو اس کا پہلا امیر مقرر کیا گیا تھا وہ بھی بنو امیہ کا ہی ایک فرد تھا، اور وہ تھا عتاب بن اسید بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس۔ ابن اسحاق زید بن اسلمؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید کو مکہ مکرمہ کا عامل مقرر کیا تو اس کا روزینہ ایک درہم مقرر فرمایا۔ اس پر وہ کہنے لگا: لوگو! جو ایک درہم پر بھوکا رہے اور وہ اسے بھوکا ہی رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا روزینہ ایک درہم مقرر فرمایا ہے۔ اب مجھے کسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

(صحیح مسلم مع شرح نووی: جلد 16 صفحہ 62)

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن سعید بن العاصؓ کو خیبر، وادی القریٰ، تیماء اور تبوک کا والی مقرر فرمایا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اس منصب پر قائم رہے۔

(السیرۃ النبویۃ لابن خثعم: جلد 4 صفحہ 149، 169۔ تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 97)

آپ نے ابان بن سعید بن العاصؓ کو بحرین کا عامل مقرر فرمایا وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت تک اس منصب پر کام کرتے رہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 173 ،تا 176)

آپ نے حکم بن سعید بن العاصؓ کو سوق مکہ

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 175، 176) 

اور ان کے بھائی خالد بن سعیدؓ کو صنعاء کا عامل مقرر فرمایا۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 97)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک بنو امیہ کے سرکردہ لوگ ولایت، کتابت اور تحصیل داری جیسے اعلیٰ مناصب پر فائز تھے، اور ان عہدوں پر ان کی تعداد دوسرے تمام قبائل کے افراد سے زیادہ تھی۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 175، العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 12)

اور یہ ان کی امانت و دیانت اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی دلیل ہے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 12)

رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: اِذْہَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ’’جاؤ کہ تم آزاد ہو‘‘

(الطبقات: جلد 2 صفحہ 141، 142)

تو بعض لوگوں نے ان کلمات کو گالی قرار دیتے ہوئے صرف بنو امیہ کی پیشانی پر چپکا دیا اور انہیں یہ کہہ کر عار دلانے لگے کہ وہ آزاد کردہ اور آزاد کردہ لوگوں کے بیٹے ہیں۔ مگر وہ اپنے خبث باطن کی وجہ سے یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ مشرف باسلام ہوئے بلکہ ان کا اسلام بہت خوب بھی رہا۔ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بھی اسلام کی نصرت و حمایت میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں خلفاء راشدینؓ کے دور مسعود میں بھی فتوحات اسلامیہ کے دوران بھی قابلِ قدر خدمات سر انجام دیں۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 8)

ہم اس جگہ وصف طلقاء کے بارے میں چند نکات کی طرف اشارہ کرنا چاہیں گے

1۔ یہ تہمت شدید گروہی اختلافات کے زمانہ کی پیداوار ہے۔ جب خلافت عثمانیہ کے آخری ایام میں بنو امیہ کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قسمت کا ستارہ بلندیوں کو چھونے لگا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا اختلاف سنگین صورت حال اختیار کر گیا تو اس دوران بنو امیہ کی طرف سے ان پر یہ تہمت لگا دی گئی کہ یہ لوگ ضعیف الایمان ہیں اور انہوں نے محض مالی مفادات کے لیے اور اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے اسلام قبول کیا تھا تاکہ اس طرح وہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشوں کے جال بچھا سکیں اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کو یقینی بنا سکیں۔

صفحہ 1 از 2