جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 1 از 3
جمہور علمائے اہلِ سنت و الجماعت کے ہاں اصول اجتہاد قرآن، سنت، اور اجماع ہیں۔ قیاس کو اسلوبِ اجتہاد کا نام دیا جا سکتا ہے۔ دیگر اسالیب میں استحسان، استصلاح، استصحاب وغیرہ شامل ہیں۔
ماخذ دوم سنت:
ماخذ شریعت میں اہلِ السنتہ و الجماعۃ کے ہاں بالاتفاق دوسرا ماخذ سنت نبویہ ہے۔ جمہور اہلِ علم کے ہاں سنت کا مفہوم ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
سنت کا لغوی مفہوم:
عربی زبان میں سنت کا اطلاق کئی ایک چیزوں پر ہوتا ہے جس میں الوجہ (چہرہ) بھی ہے کیونکہ اس کے خط و خال واضح ہوتے ہیں ایسے ہی صورت پر بھی اس کا طلاق ہوتا ہے۔ جبیہ اور جبین کو سنت کہا جاتا ہے جیسا کہ ذوالرمۃ کا شعر ہے۔
تریك سنة وجه غير مفرقة لیس لها خال ولاندب۔
ترجمہ: اس کے چہرے کے خط و خال غیر موزنیت سے مبرا ہیں نرم و سپاٹ چہرہ جس میں نہ کوئی عیب ہے نہ نشان ذخم۔ اعشی کہتے ہیں۔
کریماً شمائله من بنی معاوية الاکرمین السنین
ترجمہ: وہ (خوب صورت اوصاف) کا حامل ہے کیونکہ اس کا تعلق کا باعزت اور خوش شکل بنی معاویہ سے ہے۔
سنت کا اطلاق صورت اور ہر اس شے پر ہوتا ہے جو چہرے سے جھلکے جیسا کہ کہا جاتا سنة الخدصفحته۔
ترجمہ: اس کے گال کے خط کشادہ تھے۔
ابن منظور لسان العرب: جلد، 10 صفحہ، 224 بیروت سے)
ازہری سنت کے مفہوم کے سلسلہ میں رقم طراز ہیں
سنت ایک درست اور قابلِ ستائش راہ کا نام ہے، اسی سبب سے کہا جاتا ہے فلاں شخص اہلِ سنت میں سے یعنی کہ وہ ایک درست اور پسندیدہ منہج پر گامزن ہے۔
سنت طبیعت اور عادت کو بھی کہا جاتا ہے اس لیے بعض اہلِ لغت نے اعشی کے شعر کریماً شمائله من بنی معاوية الاکرمین السنین
ترجمہ: کا مفہوم بیان کیا ہے کہ وہ خوبصورت عادات کے مالک بنی معاویہ کا باعزت فرزند تھا۔ گزشتہ سطور بالا میں چہرے کے معنیٰ میں یہ شعر گزر چکا ہے۔
(الزبیدی،تاج العروس: جلد، 13 صفحہ، 344 ط بیروت)
راغب اصفہانی سنت کے مفہوم کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ سنتِ نبی اکرمﷺ کا معنیٰ آپ کا وہ طریقہ ہے جس کی آپ علیہ السلام جستجو کرتے رہے اور سنت اللہ کا مفہوم ہے طریقِ خداوندی، حکمت الٰہی اور اس کی فرمانبرداری کے طرق اظہار ہیں۔ایسے ہی سنت خوبصورت یا خوش خصال سیرت و زندگی کو بھی کہا جاتا ہے جیسے خالد بن عتبۃ ھذلی کا شعر ہے
فلا تجزعن من سیرة أنت سرتها فأوّل راض سنة من یسيره
ترجمہ: جس طریق زندگی کو اختیار کرے اس پر آہ و بکا کیسی۔ پہلا پسندیدہ شخص وہی ہے جس کی پیروی کی جائے۔
(اصفہانی،راغب،المفردات: صفحہ، 429)
سنت کی بے شمار تعریفیں کرنے کی کوشش کی گئی ہیں، لیکن سنت نبویہﷺ کے قریب لغوی معنیٰ طریقہ، سیرت اور روش حیات ہے۔
سنت کا اصطلاحی مفہوم:
سنت کے اصطلاحی مفہوم کے سلسلہ میں علمائے امت میں مقاصد کے باعث اختلاف ہوا ہے۔ علمائے حدیث کا مقصود سنت سے ہمیشہ یہ رہا کہ نبی گرامیﷺ کے اسوہ حسنہ تک رسائی حاصل کریں، تا کہ اسے رہنما بن کر نشانات زندگی کے حدود و قیود کا تعین کیا جا سکے۔ اصولیوں کا مطمع نگاہ یہ رہا ہے کہ ان مصادر و مآخذ تک اطلاع پانے کی کوشش و جستجو کی جائے، جن سے شریعت کے اخذ و استباط میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے سنت کے اس ذخیرہ کو تو جہات کا مرکز بنایا جو استباط احکام میں معاؤن ہو۔اسی طرح فقہاء کا مطلوب یہ رہا ہے کہ بندوں کے افعال کے حوالے سے سنت کی رہنمائی حرام مکروہ اور فرض واجب کے لحاظ سے کیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے سنت پر اس قبیل سے غور کیا ہے۔
زیر نظر مقالے میں اصول اجتہاد سے بحث مقصود ہے لہٰذا سنت کو یہ طور ماخذ احکام اہلِ اصول نے کس نظر سے دیکھا ہے ذکر کیا جائے گا۔ جس میں یہ لحاظ ضرور رکھا جائے گا کہ مکتب اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر احناف، شوافع، حنابلہ مالکیہ اور اہلِ الحدیث سنت کو بہ طور مآخذ شریعت کیا مفہوم پہناتے ہیں۔سیف الدین الآمدی الشافعی سنت کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں
وقد تطلق على ما صدر عن الرسول من الأدلته الشرعیة ممالیس بمتلو، ولاهو معجز و لا داخلً في المعجز وهذا النوع هو المقصود بالبیان هاهنا، وید خل في ذلك أقوال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم وأفعاله و تقاریره.
(آمدی،الاحکام فی اصول الاحکام: جلد، 1 صفحہ، 169 ط المکتب الاسلامی بیروت)
ترجمہ: سنت کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے جو نبی گرامی قدر سے بہ طور شرعی دلیل کے منقول ہو، جو تلاوت نہ کی جاتی ہو، کلام معجز بھی نہ ہو، اور معجزات نبوت میں شامل نہ ہو۔ جس میں نبی کریمﷺ کے اقوال افعال اور تقریرات داخل ہیں۔
ابن نظام الدین الانصاری الحنفی سنت کی تعریف سلسلے میں تحریر کرتے ہیں
أقوال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم و أفعاله و تقریراته التی یستدل بها على الأحکام الشرعیة۔
(الانصاری، ابن نظام الدین،فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت: جلد، 2 صفحہ، 96 ط دارالکتب العلمیۃ بیروت 2002)
ترجمہ: نبی اکرمﷺ کے اقوال افعال اور تقریرات جن سے احکام شرعیہ مستنبط کیے جاتے ہیں۔
مالکیہ کی کتب اصول میں وہی تعریف کی جاتی ہے جو دیگر کے ہاں منقول ہے، چنانچہ الشعلان رقم طراز ہیں
(فهی ما أضیف إلى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قول أوفعل أوتقریر. الشعلان: اصول فقہ الاعام مالک (ادلتہ النقلیۃ) جلد، 2 صفحہ، 617 ادارۃ العامہ للشقافۃ والنشر السودیۃ)
علمائے حنابلہ میں سے شارح روضۃ الناظر سنت کی تعریف یوں کرتے ہیں:
أن السنة ما صدر عن النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم غیر القرآن من قول أوفعل أو تقریر ممایخص الأحکام التشریعیة.
اتحاف دوی البصائر بشرح روضۃ الناصر فی اصول الفقہ: جلد، 3 صفحہ، 10ط دار العاصمۃ للشر و التوزیغ 1996)
بلاشبہ سنت وہ ہے جو نبی اکرمﷺ سے قرآن کے علاؤہ قول و فعل اور تقریرات ہیں جن کا تعلق تشریع احکام سے ہو۔
اہل الحدیث اور لامسلکیت کے ترجمان امام شوکانی سنت کی تعریف بارے ارشاد الفحول میں ترقیم فرماتے ہیں:
وفي الأدلة ماصدر عن البنی صلی اللّٰه علیہ وسلم من غیر القرآن من قول أو فعل أو تقریر وهذا هو المقصود بالبحث عنه في هذا العلم.
ترجمہ: ادلہ شرعیہ میں سنت اُسے کہا جاتاہے جو نبی کریمﷺ سے قرآن کے علاؤہ بہ طور قول فعل اور تقریر کے صادر ہو اور اصول کی کتب میں اسی سے ہی بحث مقصود ہے۔
صفحہ 1 از 3