جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 2 از 3
جمہور اہل السنۃ کے نمائندہ علماء کی تعریفات درج بالا سطور میں ذکر کی گئی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اہل السنت و الجماعۃ کے تمام مکاتب فکر سنت کی تعریف و تفہیم کے سلسلہ میں متفق ہیں۔ سوائے ایک دو نکات کے کہ جن سے تعریف میں مزید جامعیت پیدا ہوئی، مثلاً امام آمدی شوکانی اور حنابلہ نے سنت کی تعریف کرتے ہوئے قرآن کریم کو اس سے خارج کیا ہے کہ حدیث متعبد بالتلاوۃ نہیں ہے حدیث اپنے جملہ الفاظ اور محاورات میں بیان معجز کا درجہ نہیں رکھتی گویا کہ سنت اُسے کہا جائے گا جو آپ سے غیر قرآن چیز صادر ہو اسی طرح شوکانی حنابلہ اور حنفیہ نے آپﷺ کے اقوال و افعال اور تقریرات کے ساتھ یہ قید بھی لگائی ہیں کہ ایسے نصوص جن سے احکام شرعیہ پر استدلال ہوتا ہو۔ دیگر اقوال و افعال اور تقاریر کو اس سے خارج کر دیا ہے۔ مالکیہ میں صاحب مراقی السعود نے قول و فعل اور تقریر کے ساتھ وصف نبوی کا بھی اضافہ کیا ہے جسے خود مالکی اہلِ اصول نے مسترد کر دیا ہے، لہٰذا سنت کی جامع تعریف یہ ہوئی کہ قرآن کریم کے علاؤہ آپﷺ سے صادر ہونے والے وہ افعال و اقوال اور تقریرات جن سے استدلال احکام میں معاونت حاصل ہو وہ سنت عندالاصولیین کہلائیں گے۔
حجیت سنت کا شرعی مصداق متعین ہونے کے بعد اہم مسئلہ یہ ہے کہ سنت کا بہ طور شرعی دلیل و برہان اور حجیت کے کیا مرتبہ ہے؟ اس حوالے جمہور علماء امت کے افکار کا مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ سنت کے مستقل مآخذ شریعت ہونے کے حوالے سے قاضی شوکانی رقم طراز ہیں اس بات کا یقینی علم ہونا ضروری ہے کہ اہلِ سنت کے تمام ایسے علماء جن کے علمی قد و قامت کا اعتراف کیا جاتا ہے، اس پر متفق ہے کہ سنت پاک تشریحِ احکام میں قرآن کی طرح مستقل حیثیت کی حامل ہے۔ یہ قرآن کریم کی طرح حلال اشیاء کی حلت کا حکم بھی لگاتی ہے اور اشیائے محرمۃ کی حرمت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔ کیوں کہ نبی گرامی قدرﷺ کا ارشاد ہے خبردار مجھے قرآن اور اس کی مثل ایک اور شے بھی عنایت کی گئی ہے۔ یعنی قرآن بھی عنایت کیا گیا اور مجھے قرآن کی مثل سنت بھی عنایت کی گئی ہے جو ان اشیاء میں قاضی اور فیصل ہو گی جن میں قرآن خاموش ہے۔ جس طرح گھریلو گدھے کے گوشت کی تحریم میں پنجے والے پرندے کی حرمت میں اور اس کے علاوہ بے شمار اشیاء کی تحریم و تحلیل میں سنت مستقل ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
(الشوکانی ارشاد الفحول الی تحقیق الحق من علم الاصول: جلد، 1 صفحہ، 96)
حجیت سنت پر امام شافعیؒ کا نقطہ نظر:
امام شافعیؒ نے حجیت سنت پر الرسالۃ میں بہت خوبصورت بحث کی ہے اور پورے شرح و بسط سے ثابت کیا ہے کہ سنت نبویﷺ ایک مستقل مآخذ تشریح اسلامی ہے۔ ذیل میں آپ کے افکار کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں:
اللہ رب العزت کے دین میں رسول کریمﷺ کو فرائض نبوت اور تبین کتاب اللہ کے حوالے سے جس مقام رفیع پر جگہ دی ہے خود ہی قرآن کریم نے اس کی وضاحت کر دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپﷺ کو دین اسلام کی پہچان کا علم بنا کر بھیجا، آپﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کو فرض قرار دیا آپﷺ کی معصیت و نافرمانی کو حرام ٹھہرایا اور اس قدر بلند مقام پہ فائز کیا کہ آپﷺ پر ایمان کو اپنی ذات پر ایمان کےساتھ اس طرح منسلک کردیا کہ ایک ضیاع سے دونوں ہی ضائع ہوجاتے ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے
 فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ ‌ۚ وَلَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَةٌ‌ اِنْتَهُوۡا خَيۡرًا لَّـكُمۡ‌ ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗ وَلَدٌ‌
(سورۃ النساء: آیت نمبر، 171)
ترجمہ: خدا پہ اور اس کے رسول پر صدق دل سے یقین رکھو اور یہ بات کہنے سے باز آ جاو کہ خدا تین ہیں۔ یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے یاد رکھو معبود برحق صرف تنہا اللہ تعالیٰ ہیں وہ مبرا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔
دوسرے مقام پر فرمایا
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَاِذَا كَانُوۡا مَعَهٗ عَلٰٓى اَمۡرٍ جَامِعٍ لَّمۡ يَذۡهَبُوۡا حَتّٰى يَسۡتَاۡذِنُوۡهُ‌
(سورۃ النور: آیت نمبر، 62)
ترجمہ: مؤمن سراسر وہی ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ پر سچے دل سے اعتماد کیا۔ لہٰذا جب بھی کسی اجتماعی معاملے میں وہ (اہلِ ایمان) رسول خداﷺ کے ساتھ اکھٹے ہوں تو اس وقت تک نہ جائیں جب تک ان سے باقاعدہ اجازت نہ حاصل کر لیں۔
اس لیے ابتدائی درجہ میں ایمان کی تکمیل ممکن نہیں ہے جب تک اللہ کے ساتھ اس کے رسولﷺ پر ایمان نہ ہو۔ یعنی کہ اگر ایک شخص خدا پر ایمان کا دم بھرتا ہے لیکن رسولﷺ پر ایمان نہیں رکھتا تو محال ہے کہ اس کے تکمیل ایمان کو تسلیم کیا جائے یہاں تک کہ رسول گرامیﷺ پر ایمان لے آئے۔
ایسے ہی جناب رسالت گرامیﷺ کا بھی یہی اصول رہا ہے، کہ جب کبھی کسی شخص سے ایمان کی آزمائش کرتے تو خدا اور رسولﷺ دونوں کے بارے استفسار کرتے۔
سیدنا عمر بن حکمؓ سے روایت ہے کہتے ہیں میں رسول خداﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے ساتھ میری باندی تھی۔ میں نے عرض کیا میرے ذمہ ایک غلام کی آزادی ہے کیا میں اس بچی کو آزاد کر سکتا ہوں تو آپﷺ نے فرمایا بتاؤ اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا آسمان میں۔ پھر آپﷺ نے استفسار کیا میں کون ہوں؟ اس نے جواباً کہا آپ خدا کے رسول ہیں، آپﷺ نے فرمایا اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں جس طرح اللہ رب العزت نے آپﷺ پر ایمان فرض کیا ہے ایسے ہی اپنی وحی اور سنت کی اتباع بھی فرض قرار دی ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے 
رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَ يُزَكِّيۡهِمۡ‌ (سورۃ البقرہ: آیت نمبر، 129)
ترجمہ: اے ہمارے رب ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیا ت کی تلاوت کرے ان کا تزکیہ کرے اور کتاب وحکمت کی تعلیم دے۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ
(سورۃ آل عمران: آیت نمبر، 164)
صفحہ 2 از 3