جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت - دفاعِ اہلِ…

جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت

  ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری

صفحہ 3 از 3
ترجمہ: یقیناً خدا نے اہل ایمان پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ان پر خدا کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں ان کا تزکیہ نفس کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم سے بہرہ مند کرتے ہیں۔
مزید فرمایا کہ اے نبیﷺ کی بیویوں خدا کی اس نعمت کا بھی تذکرہ کرو کہ تمھارے گھروں میں خدا کی آیات کی اور حکمت کی تلاوت ہوتی ہے۔ یہاں الکتاب سے قرآن کریم اور حکمت کی مراد سنت نبویﷺ ہے اور اس آیت کی علماء نے اس سے خوب صورت تشریح نہیں بیان کی۔ اور میں نے یہ وضاحت قرآن کی اپنی حد تک سب سے بہترین صاحب علم سے سنی ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ کہنا درست ہی نہیں ہے کہ یہاں سنت کے علاؤہ کسی دوسری چیز کو مراد لیا جائے۔
(الرسالہ: صفحہ، 73)
امام شاطبی مالکیؒ حجیت سنت کے سلسلہ میں اپنی معروف کتاب الموفقات میں رقم طراز ہیں:
سنت نبویﷺ پر عمل پیرا ہونے اور اس کی شرعیت پر اعتماد رکھنا یہ قرآن کی دلالت کی وجہ سے ہے، کیوں کہ وہ معجزہ ہے جو رسول اللہﷺ کی سچائی کی دلیل قطعی ہے۔ اور نبی اکرمﷺ نے بھی اسے بڑے ترین معجزے میں شمار کیا ہے۔ اور فرمایا میں تو صرف وہی وحی دیا گیا ہوں جو اللہ رب العزت نے میری طرف وحی کی ہے۔ اگرچہ نبی اکرمﷺ کے بے شمار معجزات ہیں لیکن معجزہ قرآن سب سے بڑا اور شاندار ہے ایسے ہی اطاعت نبوی میں قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت بجا لاؤ اور اپنے امرا کی اطیعو اللہ ورسولہ کے جملے کو کئی مقامات پر دہرایا گیا ہے۔ جس پر امام شاطبیؒ یوں تبصرہ کرتے ہیں کہ اطاعت رسولﷺ کے قرآن کریم میں بار ہا دہرایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپﷺ کی اطاعت مستقل اور مطلق ہے اور جو کتاب میں نہ ہو اُسے سنت میں تلاش کیا جائے۔ جیسا کی قرآن میں ہے کہ تمھیں رسولﷺ جو کچھ بھی دے دیں اسے لے لو۔ اور جس سے روک دیں اس سے باز آجاو۔ اور فرمایا لوگ رسول خداﷺ کے اوامر کی مخالفت سے ڈریں کہیں انھیں فتنہ اور درد ناک عذاب نہ آ لے۔
جیسا کہ قرآن کریم کے بعد سنت کا یہ مقام ہے کہ وہ ایک مستقل مآخذ شرع ہے ایسے سنت کا ایک یہ بھی مقام ہے کہ وہ شارح قرآن بھی ہے، جیسا کے قران کریم میں ہے۔
وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ (سورۃ النحل: آیت نمبر، 44)
ترجمہ: اور ہم نے آپﷺ کی طرف ذکر نازل کیا ہے، تا کہ آپﷺ لوگوں کو منزل من اللہ کی وضاحت کریں۔
دوسرے موقع پر فرمایا۔ اے رسول کریمﷺ پہنچا دیجئے جو آپﷺ کے پاس آپﷺ کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے، شاطبیؒ کہتے ہیں یہاں تبلیغ دو چیزوں کی مطلوب ہے ایک الکتاب اور دوسرے اس کی وضاحتِ معنیٰ!
(الموافقات: جلد، 3 صفحہ، 30/229)
سنت کو قرآن پر پیش کرنے کا مسئلہ:
منکرین حجیت سنت کی طرف سے مغالطہ دیا گیا ہے کہ سنت کی الگ کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بلکہ سنت جب بھی کسی کے سامنے آئے وہ اُسے قرآن پر پیش کرے۔ اگر قرآن میں اس کی موافقت ہو تو قبول ورنہ رد کر دی جائے گی اس سلسلہ میں ایک روایت کا سہارا لیا جاتا ہے کہ جس میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے ثوبان مولیٰ رسول اللہﷺ سے مروی ہے:
إذا روی لکم حدیث ماعرضوه على کتاب اللّٰه فان وافقه فأنا قلته وإن خالفه فلم أفله. (معرفۃ السنن والآثار: جلد، 1 صفحہ، 111) 
جب تمہیں کوئی حدیث بیان کی جائے تو اُسے کتاب اللہ پر پیش کرو اگر اس کے موافق ہو تو میری بات ہو گی اور اگر اس کے مخالف ہو تو میں نے نہیں کہا ہو گا۔ اس روایت کے بارے میں یحیٰ بن معینؒ کہتے ہیں کی یہ موضوع روایت ہے جس کو زنادقہ نے وضع کرنے کی جسارت کی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے میں جن لوگوں کی روایت کا اعتبار ہے ان میں سے کسی چھوٹے یا بڑے راوی کا یہ قول نہیں ہے۔ ابن عبدالبر نے اپنی کتاب جامع العلم میں عبدالرحمٰن بن مھدی کے حوالے سے کہا ہے کہ اس روایت کو گھڑنے کا سہرا نادقہ اور خوارج کے سر ہے۔ بعض اہلِ علم نے ایک لطیفہ بھی کہا ہے کہ ہم جب خود اس روایت کو قرآن پر پیش کیا تو یہ اس کے مخالف ٹھہری، کیوں کہ قرآن کریم میں ہے۔
وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌
امام اوزاعی سنت کی حجیت کے سلسلہ میں رقم طراز ہیں:
الکتاب أحوج إلى السنة من السنة إلى الکتاب.
کتاب اللہ بیان مطالب کے سلسلہ میں سنت کی نسبت زیادہ محتاج سنت ہے۔
ابن عبدالبرؒ کہتے ہیں:
انها تقضی علیه وتبین المراد.
ترجمہ: سنت مفاہیم قرآن کا فیصلہ کرتی ہے اور اس کی مراد کا تعین کرتی ہے۔
یحییٰ بن ابی کثیرؒ حجیت سنت کے بارے رقم طراز ہیں:
السنة قاضیة على الکتاب
ترجمہ: سنت مفاہم کتاب میں فیصلہ کن ہے۔
شوکانیؒ اس طویل بحث کے بعد حاصل مطالعہ کے طور پر فرماتے ہیں:
وَالْحَاصِلُ أَنَّ ثُبُوتَ حُجِّيَّةِ السُّنَّةِ الْمُطَهَّرَةِ وَاسْتِقْلَالَهَا بِتَشْرِيعِ الْأَحْكَامِ ضَرُورَةٌ دِينِيَّةٌ وَلَا يُخَالِفُ فِي ذَلِكَ إِلَّا مَنْ لَا حَظَّ لَهُ في دين الإسلام (ارشاد الفحول: جلد، 1 صفحہ، 97)
حاصل بحث یہ ہے کہ سنت مطہرہ کی حجیت اور اس کے مستقل مآخذ کی شریعت ہونے کو تسلیم کرنا ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اس کا وہی شخص انکار کر سکتا ہے جس کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے لہٰذا یہ بات کہ سنت اسی کو درست تسلیم کیا جائے جو موافق کتاب اللہ ہو یا سنت بھی کتاب اللہ کے مخالف ہوتی ہے یہ ایک لغو بات ہے۔

صفحہ 3 از 3