امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے اپنی والدہ کی توہین کی۔ (کتاب روض الاحبار)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے اپنی والدہ کی توہین کی۔ (کتاب روض الاحبار)
️جواب اہلسنّت
1: خط کشیدہ واقعہ بالکل بے اصل اور من گھڑت ہے یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں بلا سند اس کو قتل کردیا گیا ہے۔
2: اس قصہ کے جھوٹے اور بے بنیاد ہونے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ جس شخص کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کا ذکر کیا گیا ہے وہ مجہول ہے اس کا نام وغیرہ کچھ بھی معلوم نہیں۔
3: یہ الزام کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کی توہین کی بالکل جھوٹ اور بہتان عظیم ہے بلکہ توہین آمیز حرکت اس بد بخت شخص نے کی تھی۔ جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے عبرانی زبان استعمال کی تھی کہ اپنی والدہ کا مجھ سے نکاح کر دے؟ لہذا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ بہتان باندھنا سراسر جھوٹ ہے۔
4: البتہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس توہین کرنے والے بدترین انسان کو سزا کیوں نہ دی تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ رویہ انتہائی مدبرانہ اور حکمت سے لبریز تھا کہ جس شخص میں حیاء نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی اس کو سزا دینے سے نہ تو وہ حیا والا بن سکتا تھا اور نہ ہی اس بدزبان شخص کی ایذا رسانی سے بچا جا سکتا تھا حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے تدبر نے حکیمانہ طرزِ عمل سے اس کی بدزبانی کا علاج کر دیا۔
5: اگر یہ کہا جائے کہ باوجود اختیار و قدرت کے اپنی والدہ کی توہین کرنے والے کو معاف کرنا اور سزا نہ دینا بھی جرم ہے جس کا حضرت امیر معاویہ نے ارتکاب کیا تو ہم جواباً عرض کرتے ہیں کہ قومی رہنماؤں کی سوچ و فکر محدود دائرہ کار میں کام نہیں کرتی بلکہ ان کے نزدیک لوگوں کی اصلاح اہم مسئلہ ہوا کرتا ہے۔ سکندر بادشاہ کو کسی نے کہا کہ فلاں شخص تیری بیٹی پر عاشق ہے لہٰذا اس کو قتل کر دو تو اس نے جواب دیا کہ اگر ہم اسی طرح قتل کا سلسلہ شروع کریں تو بچے گا کون! (عکسی صفحہ ) لہٰذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ھوا مگر سزا دینے کی بجائے انہوں نے درگزر کیا۔