Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اموی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد خلافت میں

  علی محمد الصلابی

1۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کو مشکل ترین حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ پیروانِ اسلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے طور پر بالاتفاق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو انہوں نے مسلمانوں کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔ مرتدین سے مسلسل جنگ کرنے کے بعد انہیں اسلام اور جماعت کے ساتھ وابستگی کے لیے مجبور کر دیا اور اس کے بعد رومیوں اور ایرانیوں کے شہروں میں فتوحاتِ اسلامیہ کا آغاز ہوا۔

مرتدین کے خلاف جنگ کرنے کے حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلا خط مکہ مکرمہ کے اموی عامل عتاب بن اسیدؓ کے نام لکھا اور اس میں انہیں ہدایت کی کہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں جو ان کے زیرنگیں علاقوں سے مرتد ہو گئے ہیں، چنانچہ عتابؓ نے تہامہ میں ان کا مقابلہ کیا اور ان کے خلاف بھرپور کامیابی حاصل کی۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 319، الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 148)

پھر مکہ اور اس کے گرد و نواح سے پانچ سو لوگوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا اور اس کا امیر اپنے بھائی خالد بن اسیدؓ کو مقرر کیا اور پھر یمن میں مرتدین کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 322، 329، 330) 

اور حضرموت اور کندہ کے لوگوں کو دائرہ اسلام میں واپس لے آئے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 330، 342)

مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی جنگوں میں لشکر اسلام کے کمانڈر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے اپنے لشکر میں شامل مہاجرین کی قیادت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کو سونپی اس دوران زید بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے شریک عمل تھے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 381 )

اس جنگ میں حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بڑا شاندار کردار ادا کیا جب جنگ کے آغاز میں مسلمان ادھر ادھر بکھرتے نظر آئے تو ابو حذیفہؓ نے چلاتے ہوئے کہا: اے اہل قرآن! قرآن کو اپنے کردار سے مزین کرو اور پھر لڑتے لڑتے جام شہادت نوش فرمایا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 391) 

مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی یمامہ کی جنگوں میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود شرکت کی۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 391، 392۔ الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 148)

طلیحہ اسدی کے خلاف لڑی گئی جنگ میں بنو امیہ کے حلیف عکاشہ بن محصنؓ شریک ہوئے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 396)

اور ان کے ایک دوسرے حلیف العلاء الحضرمیؓ نے بحرین میں مرتدین کی طرف سے بھڑکائی گئی جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کے عمل میں بھرپور کردار ادا کیا اور آخر کار کامیابی سے نوازے گئے۔

(دیوان الردۃ: صفحہ 66)

ارتدادی جنگوں کے خاتمہ، مرتدین کو دائرہ اسلام میں واپس کرنے اور خلافتِ راشدہ کی ماتحتی قبول کرنے کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوچ پروان چڑھنے لگی کہ محکوم اقوام کو ان کی ظالم حکومتوں کے پنجہ استبداد سے رہائی دلائی جائے اور انہیں اسلام کی دعوت دی جائے، چنانچہ تاریخ کی زبان میں ایران و روم کے دو محاذوں پر ’’فتوحات کبریٰ‘‘ کی تحریک کا آغاز ہوا۔ اور ان جنگوں میں بھی بنو امیہ نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ جس سے اس مؤقف کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ان کی اسلام سے بڑی گہری وابستگی تھی اور یہ کہ انہوں نے اس عرصہ کے دوران بڑا اہم اور تاریخی کردار ادا کیا۔ اس عرصہ کی اسلامی فتوحات کی تحریک کے دوران دو امور خاص طور سے ابھر کر سامنے آئے:

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 301 تا 313، سیرۃ ابی بکر الصدیق از صلابی: صفحہ 225)

1۔ اس دور کی اسلامی فتوحات کے دوران فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہونے والوں اور اس موقع پر آزاد کردہ لوگوں نے بڑا عظیم کردار ادا کیا۔ ان میں بنو امیہ کے بعض لوگ بھی شامل تھے اور ان کا یہ کردار دو اسباب کی وجہ سے متوقع تھا:

ا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ کہ اسلام سے مرتد ہو کر دوبارہ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے والوں سے فتوحات کے دوران ہرگز کوئی تعاون حاصل نہ کیا جائے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 319 تا 347)

اس کی وجہ سیدنا صدیق اکبرؓ کا اس بات کا حریص ہونا تھا کہ ان فتوحات اسلامیہ کو دین کی کمزوری کے آثار اور ان لوگوں کی نفسانی شہوات سے صاف رکھا جائے جو دین اسلام کے لیے مخلص نہیں ہیں یا انہوں نے اس کے لیے اپنے مخلص ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ بنابریں ان اشراف و سادات کو یہ شوق دامن گیر ہوا کہ انہیں اسلامی خدمات کے حوالے سے اپنی تقصیر کا ازالہ کرنا اور ان کے جو بھائی ان سے پہلے مسلمان ہو کر عظیم مراتب حاصل کر چکے ہیں ان کی صفوں میں شامل ہونا ہے۔

(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

ب: فتوحات اسلامیہ کے سلسلہ میں شام کے محاذ پر اموی رجال کار کی گراں قدر سرگرمیاں ہیں۔ اس محاذ پر اہل مکہ میں سے فاتحین کی کثیر تعداد بھی ان کے ہم رکاب تھی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ بات خلیفۃ المسلمین صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیش نظر تھی جنہیں اس بات کا بخوبی ادراک تھا کہ بنو امیہ، اہل مکہ اور ان عرب قبائل کے درمیان بڑے گہرے تعلقات ہیں جو اس وقت سرزمین شام میں رہائش پذیر ہیں اور جو زمانہ جاہلیت میں مکہ اور شام کے درمیان مسلسل تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے مزید مستحکم ہو گئے تھے اور ان کی تجارت کی زیادہ تر باگ ڈور بنو امیہ کے ہاتھ میں تھی۔

(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

اسلامی فتوحات کی جنگوں میں بنو امیہ کی شرکت کا آغاز کافی دیر قبل ہی ہو چکا تھا اور وہ اس طرح کہ ولید بن عقبہ بن ابو معیط نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ عراق کی ابتدائی فتوحات میں شرکت کی۔ وہ ہرمز کے قتل کے واقعہ میں بھی ان کے ساتھ تھے اور بعد ازاں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں مال غنیمت، فتح کی بشارت اور ایرانیوں کی طرف سے نئی صف بندی پر مشتمل خبر کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 354)

مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد خلیفۃ المسلمینؓ نے انہیں عیاض بن غنم کی مدد کے لیے ان کے پاس بھیجا جنہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے شمال کی طرف سے عراق فتح کرنے کے لیے مامور کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے دومۃ الجندل کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انہیں اس کی فتح کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا تھا، ولید نے انہیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ان سے اس کی درخواست کی تو اسے قبول کر لیا گیا۔

اور پھر ان دونوں نے مل کر دومۃ الجندل کو فتح کر لیا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 390، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

اس کے بعد خلیفۃ المسلمینؓ نے انہیں دومۃ الجندل سے متصل قضاعہ سے نصف صدقات فریضہ وصول کرنے کی تولیت دے دی

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 390، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

مگر پھر تھوڑے ہی عرصہ بعد انہیں جہاد فی سبیل اللہ کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے ان کے نام خط لکھا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا، چنانچہ آپ نے انہیں شام روانہ کر دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 389، 390، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے شام کے محاذ پر جنگ کے لیے پہلا پرچم سیدنا خالد بن سعید بن العاص اموی کو دیا اور پھر انھیں معزول کر کے ان کی جگہ دوسرے اموی یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 387، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 149)

سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے لشکر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ وہ پہلا بڑا لشکر تھا جسے خلیفۃ المسلمینؓ نے شام کی طرف روانہ کیا اور اسے شہر کے باہر تک پیدل جا کر الوداع کہا۔

(فتوح الشام از واقدی: جلد 1 صفحہ 3، 4 )

پھر اس کے پیچھے مزید تین لشکر بھیجے اور ان کی قیادت عمرو بن العاص، شرحبیل بن حسنہ اور ابوعبیدہ بن جراحؓ کے سپرد کی۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 394)

یزید بن ابوسفیان کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: وہ ان چار امراء میں سے ایک ہیں جنہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے بلایا۔ یزید بن ابوسفیان کو خود خلیفہ نے پرچم دیا اور اس کے قافلہ کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے اسے الوداع کیا اور اسے پند و نصائح سے نوازا۔ اس کی وجہ اس کا عز و شرف اور دین میں کمال تھا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 328)

بعد ازاں خلیفۃ المسلمینؓ نے جہاد کا شوق رکھنے والے بعض اور لوگوں کو بھی یزید کے لشکر کے ساتھ شامل کر دیا اور ان پر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو امیر مقرر فرمایا۔

(سیر اغلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 328 )

شامی محاذ پر لڑی گئی جنگوں میں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے اگرچہ وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔

(وفات کے وقت ان کی عمر اٹھاسی سال تھی اور جب جنگ یرموک میں شامل ہوئے تو اس وقت ان کی عمر ستر سال سے زائد تھی

شام کے جہاد میں خالد بن سعید، ابان بن سعید اور عمرو بن سعید رضی اللہ عنہم بھی شامل رہے اور اعدائے اسلام سے لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کیا۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے کہہ دیا: شام کا جو علاقہ بھی فتح ہوا وہاں سعید بن العاصؓ کی اولاد سے کوئی نہ کوئی آدمی ضرور شہید ہوا۔

(النزاع و التخاصم: صفحہ 46، الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 150)

جنگ یرموک سے پہلے قائدین لشکر جولان میں جنگ کرنے کے بارے میں ایک مجلس مشاورت میں شریک تھے کہ اس دوران ابوسفیان بن حرب ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں گا کہ قریش کے چند کم سن لوگ میرے گھر میں بیٹھ کر جنگ کے بارے میں گفتگو کریں اور دشمن کے خلاف جنگی پلان تیار کرنے کے لیے باہم مشاورت کریں گے مگر مجھے اس مشاورت میں شریک ہونے کی دعوت بھی نہیں دیں گے۔ یہ سن کر انہوں نے ان کے لیے جگہ خالی کی اور پھر آپ نے ان کے ساتھ مل کر جنگی منصوبہ تیار کیا۔

(فتوح الشام از واقدی: جلد 1 صفحہ 99)

جب جنگ یرموک کی تیاریاں آخری مرحلہ میں داخل ہو گئیں تو فریقین کے قائدین اپنی اپنی سپاہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کے سامنے آئے۔ اگر ایک طرف رومیوں کے علماء اور پادری انہیں عیسائیت کا واسطہ دے کر میدان جنگ میں داد شجاعت دینے پر اکسا رہے تھے اور انہیں ایک ایسی جنگ میں شرکت کرنے کے لیے ابھار رہے تھے جس کی بعد ازاں مثال پیش کرنا بھی مشکل ہے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 395)

 تو مسلمان قائدین اپنی سپاہ کو بڑے دلنشین اور جذبات بھڑکانے والے خطبات سے آمادۂ جنگ کر رہے تھے۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 397، 398، 401)

بلکہ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنے بزرگوں میں سے ایک سرکردہ شخص کو متعین کر دیا تھا اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی شخصیت کا نام تھا: ابو سفیان بن حرب۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 397)

یقیناً انہیں یہ منصب تفویض کیا جانا دین اسلام کے لیے ان کے صدق و اخلاص کی بہت بڑی دلیل ہے، اس لیے کہ اگر اس وقت قائدین لشکر کے علم میں ان کے اخلاص و وفا کے علاوہ کوئی اور بات ہوتی تو انہیں یہ ذمہ داری تفویض نہ کی جاتی کہ انہوں نے لشکر اسلام کی اسلامی حمیت کو بھڑکانا اور ان کے جذبۂ شجاعت و بسالت کو برانگیختہ کرنا ہے۔ نیز اگر سپاہ اسلام میں ان کے صادق الایمان ہونے کے علاوہ کوئی اور بات ہوتی تو ان پر ان کے اس عمل کے اس قدر اچھے اثرات مرتب نہ ہوتے۔ ذمہ دارانِ لشکر اسلام کی طرف سے ابوسفیان کا انتخاب عملاً قابل تعریف اور لائق ستائش رہا جو اس لشکر کی تشکیل و ترتیب کے مزاج سے ہم آہنگ تھا اور جو اُن اہل مکہ اور دیگر عرب قبائل پر مشتمل تھا جو تاخیر سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے اور جنہیں عرصہ دراز سے اپنے زعیم و قائد ابوسفیان پر مکمل اعتماد تھا۔

(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 151)

یہ ذمہ داری نبھانے کے لیے ابوسفیان لشکر اسلام کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی دینی حمیت و غیرت کو اس طرح ابھارتے: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، تم عرب قوم کے محافظ اور اسلام کے معاون و مدد گار ہو۔ جبکہ تمہارے دشمن روم کے محافظ اور شرک کے انصار و معاونین ہیں۔ میرے اللہ! یہ دن تیرے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ یا اللہ! اپنے بندوں کی نصرت فرما۔

 (التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 203)