Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں

  علی محمد الصلابی

 جب 13 ھ میں پہلے خلیفۂ اسلام صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور ان کی جگہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ منتخب ہوئے تو انہوں نے بنو امیہ پر مکمل اعتماد اور ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے نہ تو بنو امیہ کے کسی فرد کو اس کے منصب سے معزول کیا اور نہ کسی پر کوئی اعتراض ہی کیا۔ سب لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سخت مزاجی سے بخوبی آگاہ تھے اور اس امر سے بھی کہ آپ ہمیشہ اپنے عمال اور ذمہ داران کے معاملات کی ٹوہ لگاتے رہتے اور ان کے اعمال و اخبار کی حقیقت سے آشنا رہتے ہیں اور بڑے حزم و احتیاط اور باریک بینی سے ان کا محاسبہ کرتے رہتے ہیں، لہٰذا آپ کے زمانہ خلافت میں ان کا اپنے مناصب پر مسلسل فائز رہنا ان کی امانت و دیانت اور ذمہ داریوں کی کما حقہ ادائیگی پر دلالت کرتا ہے۔ اس دوران یزید بن معاویہؓ بدستور دمشق کے والی رہے۔ جبکہ شام میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے زیر ولایت علاقہ میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 15)