Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قسمت کا ستارہ طلوع ہونے لگا

  علی محمد الصلابی

خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں سیاسی اور ادارتی میدان عمل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی قسمت کا ستارہ طلوع ہونے لگا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب سیدنا فاروق اعظمؓ نے 15 ھ میں انہیں قیساریہ

(قیساریہ: ساحل شام پر ایک بستی ہے جو کہ فلسطین کے زیر انتظام ہے۔ یاقوت: جلد 4 صفحہ 421)

کو فتح کرنے کی ذمہ داری تفویض کی۔

(اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ فی الدولۃ الامویۃ: صفحہ 59)

انہیں یہ ذمہ داری ایک خط کے ذریعے تفویض کی گئی جس کی عبارت یہ تھی: میں نے تمہیں قیساریہ کو فتح کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اس کی طرف روانہ ہو جائیں۔ ان پر فتح حاصل کرنے کے لیے اللہ سے نصرت کی درخواست کریں اور بکثرت ’’لا حول و لا قوۃ الا باللّٰه العلی العظیم‘‘ پڑھا کریں۔ اللہ ہمارا رب ہے، ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں وہی ہمارا مولیٰ ہے۔ وہ بڑا اچھا مولیٰ اور بہت اچھا مددگار ہے۔

(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 531)

انہیں اس انتہائی ذمہ دارانہ مہم، میدان عمل میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کا کڑا امتحان تھا جس میں وہ ہر اعتبار سے کامیاب رہے وہاں لشکر کے ساتھ قیساریہ کی طرف روانہ ہوئے جسے ان کے لیے ان کے بھائی سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے تیار کیا تھا۔ جو اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کے ایک والی تھے۔ یہ شہر انتہائی محفوظ تھا اور اس کے باسی بھی بڑے دلیر تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرصہ دراز تک اس کا محاصرہ کیے رکھا اور اس کے شہریوں سے بھی متعدد جھڑپیں ہوئیں، اگرچہ حالات بڑے کٹھن تھے مگر وہ اس سے مایوس نہ ہوئے۔ انہوں نے بھی اسے فتح کرنے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا۔ آپ نے اپنی سرتوڑ کوششیں جاری رکھیں یہاں تک اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح سے نواز دیا۔ شہر کو فتح کرنے کی مہم میں اس شہر کے باسیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے تقریباً ایک لاکھ لوگ اس جنگ میں مارے گئے۔

(البدایۃ النہایۃ: صفحہ 63، 64)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح قیساریہ کی مبارک بادی کا پیغام اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا مال غنیمت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ ارسال کیا

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 54 )

اس فاتحانہ معرکہ کے دوران معاویہ رضی اللہ عنہ نے توفیق ایزدی سے جس عزم صادق اور حسن قیادت کا مظاہرہ کیا اس سے انہیں سب لوگوں کا اعتماد حاصل ہوا۔ چنانچہ دمشق کے امیر اور ان کے بھائی یزید نے شام کے ساحلی علاقوں کو فتح کرنے کی مہم ان کے سپرد کر دی جس کے لیے انہوں نے اپنی بھرپور حربی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

(اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ فی الدولۃ الامویۃ: صفحہ 59)

انہوں نے کوئی قلعہ دو دنوں میں فتح کیا اور کوئی چند دنوں میں۔ کبھی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور کبھی صرف تیراندازی ہی اس کی فتح کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ وہ جس شہر کو بھی فتح کرتے اسے بعض مسلمانوں کے حوالے کر دیتے اور اگر کسی جگہ مزید دستوں کی ضرورت ہوتی تو اس کا بندوبست کرتے۔

(فتوح البلدان از بلاذری: صفحہ 134)

ڈاکٹر عبدالرحمٰن شجاع کی رائے میں ملک شام کے شہر مسلمانوں کے یکے بعد دیگرے حملوں کے نتیجے میں سرنگوں ہوتے چلے گئے اس لیے کہ شکست و ریخت کے اس عمل نے رومیوں کو جس مقام پر لا کھڑا کیا تھا اس نے ان سے کسی جگہ جم کر لڑنے کی سوچ کو بھی سلب کر لیا تھا۔ ان کی اسی پست ہمتی کے نتیجہ میں بیروت، صیدا، نابلس، لد، حلب اور انطاکیہ ان کے ہاتھوں سے نکل گئے۔ شام کے شہروں میں سے قیساریہ وہ آخری شہر تھا جو سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ہاتھوں فتح ہوا اور یہ القدس کی فتح کے بعد کا واقعہ ہے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ  355)

قیساریہ کے محاصرہ کے دوران مسلم سپاہ کے میمنہ (دائیں جانب کا دستہ) کی قیادت حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی۔وہ ایک دفعہ کھڑے ہو کر لوگوں کو نصیحت کرنے لگے اسی دوران سیدنا معاویہؓ نے انہیں جانوں کے نذرانے پیش کرنے اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی تلقین فرمائی اور پھر دشمن پر بھرپور وار کر کے کئی رومیوں کو موت کی نیند سلا دیا مگر اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سیدنا معاویہؓ اپنی روانگی کی جگہ پر واپس گئے اور اپنے ساتھیوں کو جنگ کرنے کی ترغیب دلائی اور حملہ کے مقاصد کے حصول میں ناکامی پر اپنی شدید حیرت کا اظہار کیا۔ وہ اپنی سپاہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: اے اہل اسلام! میں نقباء میں سے سب سے کم سن تھا پھر اللہ نے مجھے اتنی زندگی عطا فرمائی کہ آج میں تمہارے ساتھ مل کر اس دشمن سے برسر پیکار ہوں۔ و اللہ! میں جب بھی مؤمنین کی جماعت کے ساتھ مل کر مشرکین کی کسی جماعت پر حملہ آور ہوا انہوں نے ہمارے لیے میدان خالی کر دیا اور اللہ نے ہمیں کامیابی سے نواز دیا۔ مگر آج تمہیں کیا ہوا کہ تم لوگوں نے ان مشرکین پر حملہ کیا مگر تم انہیں پسپا نہ کر سکے۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 207)

پھر فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں دو چیزوں سے خائف ہوں: یا تو تم مال غنیمت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ہو یا پھر تم اس حملہ کے دوران اللہ کے لیے مخلص نہیں تھے۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 209)

انہوں نے انہیں صدق دل کے ساتھ طلب شہادت کی ترغیب دلائی اور انہیں اس بات سے مطلع کیا کہ میں ان کے آگے رہوں گا اور اپنی جگہ پر واپس نہیں جاؤں گا الّا یہ کہ اللہ مجھے فتح سے نوازے یا پھر خلعت شہادت عطا فرما دے۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 209)

پھر جب مسلمانوں اور رومیوں کی مڈبھیڑ ہوئی تو حضرت عبادہ اپنے گھوڑے سے نیچے اترے اور پیدل ہی دشمن سے لڑنے لگے۔ جب عمیر بن سعد انصاریؓ نے انہیں اس طرح جنگ کرتے دیکھا تو مسلمانوں کو آواز دے کر انہیں ان کے امیر کے اس کردار سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی اقتداء کرنے کی تلقین فرمائی۔ پھر انہوں نے رومیوں سے اس طرح جم کر لڑائی کی کہ انہیں شکست فاش سے دوچار کرتے ہوئے انہیں ان کے قلعہ میں دھکیل دیا۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 209 )

قیساریہ کی فتح اور سواحل دمشق کی فتح میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی کامیابی کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں اردن کی ولایت سونپ دی۔ یہ 17ھ کا واقعہ ہے۔ 

(الطبقات الکبری: جلد 7 صفحہ 406، اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ 61)