دمشق، بعلبک اور بلقاء پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت
علی محمد الصلابی18 ھ میں سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما عمواس کے طاعون میں فوت ہو گئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بھائی کی جگہ دمشق، بعلبک اور بلقاء کا والی مقرر فرما دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کا سیدنا معاویہ کے والد اور ان کی والدہ پر گہرا اثر ہوا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے ان کے بیٹے یزید کی وفات پر تعزیت کی تو وہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ نے یزید کی جگہ کس کو والی بنایا؟ تو انہوں نے فرمایا: اس کے بھائی معاویہ کو، یہ سن کر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ نے صلہ رحمی کا حق ادا کر دیا۔
جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد کام کا آغاز کیا تو سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ان کے نام خط لکھا جس میں دوسری باتوں کے علاوہ ایک بات یہ بھی تھی: میرے بیٹے! مہاجرین ہم سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے جبکہ ہم نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کر دی جس کی وجہ سے انہیں اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک بلند تر مقام و مرتبہ حاصل ہو گیا۔ جبکہ ہماری تاخیر نے ہمیں اس اعزاز سے محروم کر دیا۔ وہ سابق الاسلام ہونے کی وجہ سے قائد اور سردار بن گئے اور ہم ان کے پیروکار بن کر رہ گئے۔ اب انہوں نے تجھے بڑی اہم ذمہ داری تفویض کی ہے تو ان کی حکم عدولی نہ کرنا۔ اس دوران اگر تم کوئی قابل تحسین کام کرو گے تو اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 399 )
اسی طرح ان کی والدہ نے انہیں اس مضمون پر مشتمل خط لکھا: میرے بیٹے! اللہ کی قسم! تیرے جیسے بیٹے کو کسی ماں نے کم ہی جنم دیا ہو گا۔ خلیفۃ المسلمین نے تجھے یہ جو اتنا بڑا منصب عطا کیا ہے تو ان کی اطاعت کرنا، وہ کام تجھے پسند آئے یا نہ آئے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 399)
بعض لوگوں نے اور خاص طور سے ان کے بزرگوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی کم سنی کے باوجود منصب ولایت پر فائز کر دیا جبکہ ان سے بہتر اور بڑی عمر کے لوگ بھی موجود ہیں۔ جب اس کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے اس کا جواز پیش کرتے ہوئے فرمایا: تم لوگ اس کی ولایت کے حوالے سے مجھ پر اعتراض کرتے ہو، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ’’یا اللہ! اسے ہادی اور مہدی بنا اور اس راہ راست پر رکھنا۔‘‘
(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 4 صفحہ 615، رقم: 1969)