ایک عظیم قافلہ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آمد اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی
علی محمد الصلابیسیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہیں دوسروں سے بڑھ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ان خوبیوں کا ادراک تھا جن کی وجہ سے وہ قیادت و سیادت کا پورا پورا استحقاق رکھتے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک بڑے جلوس کے ساتھ ان کا استقبال کیا مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے فرمایا: اس بڑے قافلے کے صاحب تم ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: اس امر کے باوجود کہ مجھے تمہارے بارے میں یہ اطلاع ملی ہے کہ ضرورت مند لوگ دیر تک تمہارے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: آپ کی یہ اطلاع درست ہے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ میرا ارادہ تو یہ ہے کہ میں تمہیں ننگے پاؤں چل کر سرزمین حجاز پہنچنے کا حکم دوں۔ اس پر وہ گویا ہوئے: امیر المؤمنین! ہم جس علاقہ میں رہتے ہیں وہاں دشمن کے جاسوس بڑی کثرت کے ساتھ موجود ہیں، لہٰذا ایسے اقدامات کرنا ضروری ہیں جن سے اسلام اور اہل اسلام کی شان و شوکت کا مظاہرہ ہو اور وہ اس سے مرعوب ہوں۔ اگر آپ مجھے حکم دیں گے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اگر آپ روک دیں گے تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔ اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہارا یہ کہنا درست ہے تو یہ ایک دانشمندانہ بات ہے اور اگر غلط ہے تو پھر یہ ایک ادیب کا دھوکہ ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 416)
اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہ تو میں تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ یہ سن کر ایک آدمی کہنے لگا: امیر المؤمنین! اس نوجوان نے تمہاری گرفت سے کتنی خوبصورتی کے ساتھ چھٹکارا حاصل کیا۔ اس کے جواب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کی انہی صلاحیتوں کی وجہ سے ہی تو ہم نے انہیں اتنی بڑی ذمہ داری کے لیے پابند کیا ہے۔
(ایضاً)
ایک روایت میں ہے کہ یہ بات کہنے والے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے، جو کہ اس وقت اس عظیم الشان قافلہ میں شامل تھے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے استقبال کے لیے آیا تھا۔
(ایضاً)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ جواب اس بات
پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بڑا گہرا سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ مختلف لوگوں کے احوال و ظروف سے بخوبی آگاہ تھے، رعیت کے سیاسی امور کا پورا ادراک رکھتے اور اپنے زیر نگین علاقہ میں امن و امان کی فضا قائم رکھنے کے طور طریقوں سے آشنا تھے۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کی سیاست کو بنظر استحسان دیکھا کرتے تھے اگرچہ وہ ان کی سیاست سے یکسر مختلف تھی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا ارشاد سے ہمارے اس مؤقف کی تائید ہوتی ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا امیر معاویہؓ کی سیاست کے انداز کو پسند کرتے تھے۔
(الامویون بین الشرق و الغرب: از محمد وکیل: جلد 1 صفحہ 90)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تربیت کرنے کے لیے انہیں اکثر پند و نصیحت سے نوازا کرتے اور اس کے لیے کبھی ان پر سختی بھی روا رکھتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام اسلم سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سفید رنگ کے اور بڑے خوبرو تھے۔ وہ ہمارے پاس آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر حج پر روانہ ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں دیکھتے تو ان کے حسن و جمال کی وجہ سے بڑے تعجب کا اظہار کرتے اور فرماتے: واہ، واہ، اگر اللہ ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں جمع کر دے تو اس صورت میں ہم سب لوگوں سے بہتر ہوں گے۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! ہم بڑے خوشحال علاقہ (شام) میں رہتے ہیں، جہاں جگہ جگہ خوشحالی کے مظاہر دیکھے جا سکتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے اس سے کہیں بہتر یہ ہے کہ تم دھوپ کی شدت میں ضرورت مندوں کی خبر گیری کرو اور ان کی مشکلات کے ازالے کے لیے ہر ممکن کوشش کیا کرو۔
پھر جب ہم طویٰ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خوبصورت لباس زیب تن کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس سے عمدہ خوشبو آئی تو فرمانے لگے: تم میں سے ایک آدمی حج کے لیے تو خستہ حالت میں نکلتا ہے مگر جب اللہ کے نزدیک بڑے حرمت والے شہر میں آتا ہے تو ایسا لباس زیب تن کرتا ہے گویا کہ وہ خوشبو میں بسا رہا۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے یہ پوشاک اپنے خاندان اور قوم کے پاس جانے کے لیے پہنی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی کی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ کپڑے اتار کر احرام والے کپڑے پہن لیے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 417)
عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا فاروق اعظمؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت انہوں نے سبز رنگ کا خوبصورت لباس پہن رکھا تھا، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کی طرف دیکھنے لگے۔ سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو انہیں درے سے مارنے لگے۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! میرے بارے میں اللہ سے ڈریں، میرے بارے میں اللہ سے ڈریں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی نشست گاہ پر واپس لوٹ گئے۔ لوگ کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ نے انہیں کیوں مارا، جب کہ آپ کی قوم میں ان جیسا کوئی اور شخص نہیں ہے؟ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے صرف خیر ہی دیکھی اور مجھ تک صرف خیر ہی پہنچی، مگر میں نے انھیں ذرا اونچا دیکھا تو چاہا کہ ان کے تفوق میں ذرا کمی کر دوں۔
( البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 418)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرماتے: یہ عرب کے کسریٰ ہیں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 417۔ الاستیعاب: صفحہ 668)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام پر امارت کے دوران شاہی شان و شوکت اور ہر طرح کی تیاری کی حالت میں رہتے۔ اس کے لیے وہ یہ جواز پیش کرتے کہ میں دشمن کے سامنے مورچہ بند ہوں جس کے لیے حربی اور جہادی شان و شوکت اور شاہانہ اندازِ زیست کے مظاہرہ کی شدید ضرورت ہے۔
(ابن خلدون اسلامیاً از عماد اللہ خلیل: صفحہ 78)
ان کا مؤقف تھا کہ شارع علیہ السلام نے اس کی بادشاہت کی مذمت نہیں کی جو حق اور دین کے غلبہ کا فریضہ سر انجام دے اور عوام الناس کی مصالح کی نگہداشت کرے البتہ وہ بادشاہت یقیناً قابل مذمت ہے جس کے پیش نظر باطل کی سرپرستی کرنا اور لوگوں کو ذاتی اغراض اور نفسانی خواہشات کا اسیر بنانا ہو۔ اگر بادشاہ اللہ کے لیے مخلص رہ کر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور جہاد فی سبیل اللہ پر آمادہ کرنے کی ذمہ داری نبھائے تو اس میں سے کچھ بھی مذموم نہیں ہے۔
(ابن خلدون اسلامیاً از عماد اللہ خلیل: صفحہ 76) ص: ۷۶.
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا اس طرح ذکر فرمایا ہے:
قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَهَبۡ لِىۡ مُلۡكًا لَّا يَنۡبَغِىۡ لِاَحَدٍ مِّنۡ بَعۡدِىۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ۞ (سورۃ ص آیت 35)
ترجمہ: کہنے لگے کہ: میرے پروردگار! میری بخشش فرما دے، اور مجھے ایسی سلطنت بخش دے جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ہی ذات وہ ہے جو اتنی سخی داتا ہے۔
چونکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شاہانہ شان و شوکت کے شرعی اغراض و مقاصد تھے، لہٰذا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ جب ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انہوں نے بڑے خوبصورت الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 57)
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بہت زیادہ اعتماد حاصل تھا۔
(الدولۃ الامویۃ از حمدی شاہین: صفحہ 57)
پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کو ثابت کر دکھایا کہ انہیں نہ صرف یہ کہ سیاسی ضروریات کا گہرا ادراک حاصل ہے بلکہ وہ ماحول اور معاشرہ میں مثبت تبدیلیاں لانے کی صلاحیت سے بھی بدرجہ اتم بہرہ مند ہیں۔ الغرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے انہیں دولت اسلامیہ کے بڑے اہم صوبوں کی ولایت کے منصب جلیلہ پر فائز کیا بلکہ ان کی ولایت میں مسلسل اضافہ کرتے رہے اور انہیں کبھی ان کے منصب سے معزول نہ کیا حالانکہ انہوں نے اپنے عمال اور امراء کی کثیر تعداد کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذہانت و فطانت اور ان کی انتظامی صلاحیتوں کو بنظر استحسان دیکھا کرتے تھے اور اس کا برملا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک دن اپنے ہم نشینوں سے فرمایا: تم قیصر و کسریٰ اور ان کی شان و شوکت کا ذکر کرتے ہو جبکہ تمہارے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔ (تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 330 )