سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں
علی محمد الصلابیجب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت کا منصب سنبھالا تو اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے بیشتر علاقوں کے حکمران تھے، جس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یمن، بحرین، مصر اور دیگر صوبوں کے گورنروں کو ان کے مناصب پر برقرار رکھا تھا اسی طرح انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے عہدے پر برقرار رکھا بلکہ بعض مزید علاقے بھی ان کی عملداری میں دے دئیے۔ یہاں تک کہ وہ نہ صرف بلاد شام کے مطلق والی بن گئے بلکہ وہ دیگر والیوں کے مقابلے میں انتہائی طاقتور اور بڑے گہرے اثر و نفوذ کے مالک بھی بن گئے۔ سیدنا عثمانؓ کی خلافت کے ابتدائی ایام میں عمیر بن سعد انصاریؓ حمص کے گورنر تھے مگر جب وہ بیماری کی وجہ سے اس عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہ رہے تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے معذرت کر لی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی معذرت قبول کرتے ہوئے ان کی ولایت کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت کر دیا جس سے ان کے نفوذ میں مزید اضافہ ہو گیا۔
(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 155)
اس طرح فلسطین کے والی علقمہ بن محرز کی وفات کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ صوبہ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کر دیا۔ اس طرح سیدنا عثمان کے خلیفہ بننے کے دو سال بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سارے شام کے گورنر قرار پائے اور وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت تک بلاشرکت غیرے شام کے گورنر رہے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 443)
شام پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کا دورانیہ احداث و واقعات سے بھرپور رہا۔ اس دوران اس علاقہ کا شمار جہاد اسلام کے اہم ترین علاقوں میں ہوتا تھا۔
اگرچہ شام کے اندرونی حالات میں استحکام آ چکا تھا اور ہر طرف اسلام کا دور دورہ تھا، اور اس علاقہ میں رومیوں کی طرف سے بے چینی پھیلانے کی کوششوں میں نمایاں طور پر کمی آ چکی تھی البتہ اس کی سرحد سرزمین روم سے ملتی تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ ان علاقوں میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جہاد کے لیے میدان کھلا تھا جن کا سیاسی قد کاٹھ عثمانی خلافت کے اواخر میں خاصا بڑھ چکا تھا اس لیے کہ وہ ان والیوں میں شامل تھے جنہیں سیدنا عثمانؓ نے باہم مشاورت کے لیے اس وقت جمع کیا تھا جب فتنہ کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوئے تھے اس اجتماع میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کچھ خاص آراء کا اظہار کیا جنہیں بعد ازاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ اس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 176)