Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ کی امامت


سوال: ایک شخص کا جماعتِ اسلامی سے واسطہ ہے، وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ (نعوذ بالله) ظالم و جابر حکمران اور بدعتی تھے اور انبیاء کرام علیہم السلام کو غیر معصوم سمجھتا ہے۔ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب: یہ سب باتیں گمراہی کی ہیں سیدنا امیرِ معاویہؓ حضور اکرمﷺ کے جلیل القدر اور سچے صحابی تھے چہ جائیکہ (معاذ اللہ) ظالم اور جابر ہوں، حسب تصریح قرآن مجید:

وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ الخ۔(سورۃ الحدید: آیت، 10)

 سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جنت کا وعدہ فرمایا گیا ہے، اور رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ الخ (سورۃ التوبہ: آیت، 100)

كا سر ٹیفکیٹ انہیں دنیا میں ہی عطا فرما دیا گیا ہے۔ 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں ایسے الفاظ گستاخی ہیں، جن کے مرتکب کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کو معصوم سمجھنا اہلِ سنت و الجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے، اس سے انکار عقیدہ صحیحہ سے انحراف ہے۔ ایسے شخص کو ہرگز امام نہیں بنانا چاہیئے۔ 

و قال رسول اللهﷺ: اجعلوا اںٔمتكم خياركم۔

ترجمہ: امام ایسے شخص کو بناؤ جو تم میں (عقیدہ و عمل میں) سے بہتر ہو۔ 

(فتاویٰ علمائے حديث: جلد، 10 صفحہ، 78)