Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کی فتوحات

  علی محمد الصلابی

بلاد شام پر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کے دوران حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کا شمار جہاد کے ممتاز امراء میں ہوتا تھا۔ جب خلافتِ عثمانی کے آغاز میں رومیوں نے شام کے مسلمانوں پر زبردست چڑھائی کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مدد کے حصول کے لیے خط لکھا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے والی کوفہ ولید بن عقبہ کے نام خط لکھا کہ میرا خط ملتے ہی آٹھ سے دس ہزار تک کے ایسے لوگوں پر مشتمل ایک لشکر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں جن کی شجاعت و بسالت اور اسلام سے وابستگی تمہارے نزدیک مسلمہ ہو۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 247)

خط پڑھتے ہی ولید بن عقبہؓ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے اس محاذ پر مسلمانوں کی بڑی اچھی آزمائش کی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ شہر واپس دلا دئیے ہیں جنہوں نے کفر کا ارتکاب کیا تھا اور کئی نئے شہر بھی فتح کروا دئیے ہیں اور انہیں مال غنیمت اور اجر و ثواب سے نوازتے ہوئے صحیح و سالم واپس لوٹا دیا۔ ہم اس پر اللہ رب العزت کے شکر گزار ہیں۔ امیر المؤمنینؓ نے ایک خط کے ذریعے سے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم میں سے آٹھ ہزار سے لے کر دس ہزار لوگوں پر مشتمل ایک بڑا لشکر شام بھیجوں تاکہ تم وہاں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کر سکو اور یہ اس لیے کہ رومی ان پر لشکر کشی کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ اس میں تمہارے لیے اجر عظیم بھی ہے اور اس کا فضل و کرم بھی تمہارے شامل حال رہے گا۔ اللہ تم پر رحم کرے۔ اٹھو اور سلیمان بن ربیعہؓ کے ساتھ روانہ ہو جاؤ۔ لوگوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور تین دن کے اندر اندر کوفہ سے آٹھ ہزار لوگ اس مقصد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر چند دنوں میں شام جا پہنچے۔ اہل شام پر مشتمل لشکر کی قیادت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ اور اہل کوفہ کے لشکر کی قیادت سلیمان بن ربیعہؓ باہلی کر رہے تھے اور انہوں نے آتے ہی سرزمین روم پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ جس کے نتیجہ میں بہت سارے قیدی اور مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا اور انہوں نے بہت زیادہ قلعے فتح کر لیے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 247، عثمان بن عفان از صلابی: صفحہ 181)

حبیب رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ جہاد جاری رکھا اور آرمینیہ اور آذر بیجان کے علاقوں میں پے درپے کامیابیاں حاصل کیں اور انہیں بزور بازو یا پھر صلح کے ذریعے فتح کر لیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 842)

حبیب فہری رضی اللہ عنہ کا شمار ان ممتاز کمانڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بینرنظی آرمینیہ کے ساتھ جنگ کی۔ اس دوران انہوں نے دشمن کے متعدد لشکروں کو نیست و نابود کرتے ہوئے بہت سے قلعے اور شہر فتح کر لیے۔

(الدولۃ الاسلامیۃ فی عہد الخلفاء الراشدین از محمدی شاہین: صفحہ 252)

اس طرح انہوں نے سرزمین روم میں عراقی جزیرہ کی سرحدوں سے متصل علاقوں میں موجود متعدد قلعوں پر بھی پرچم اسلام لہرانے کا اعزاز حاصل کیا۔ جن میں شمشاط اور ملطیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

(حروب الاسلام فی الشام فی عہرد الخلفاء الراشدین: صفحہ 577)