Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلافت عثمانی میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بری محاذ پر

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ پورے طور پر رومی خطرات کا ازالہ صرف اس صورت ممکن ہے کہ انہیں مسلسل میدان جنگ میں الجھا کر رکھا جائے۔ شامی اور جزائری سرحدوں پر جہادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے کافی وقت صرف کیا اور عہدِ عثمان رضی اللہ عنہ میں اپنی ولایت کے دوران بڑی جدوجہد بھی کی۔ 25ھ میں انہوں نے جب شامی سرحدوں کا دور کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ انطاکیہ اور طرطوس کے درمیان موجود قلعے خالی پڑے ہیں تو اہل شام، جزیرہ اور قنسرین کے کچھ لوگ وہاں مقیم ہو گئے۔

(عثمان بن عفان از صلابی: صفحہ 205)

اس کے سال یا دوسال بعد انہوں نے اس مقصد کے لیے یزید بن حر عبسی کو روانہ کیا،

(فتوح البلدان: صفحہ 69)

دیگر ولاۃ بھی ایسی ہی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ 31 ھ میں انہوں نے مصیصہ کی طرف سے کارروائی کی اور درولیہ تک جا پہنچے(مصیعہ اور درولیہ شامی سرحدیں ہیں۔) پھر جب یہاں سے نکلے تو انطاکیہ تک ان کے سامنے جو قلعہ بھی آیا اسے گراتے چلے گئے۔

(فتوح البلدان: صفحہ 169)

اس دوران ان کی توجہ کا خصوصی مرکز جزائر کی سرحدیں رہیں۔ آپ نے اپنی اس ولایت کے ابتدائی ایام میں حبیب بن مسلمہ فہری اور صفوان بن معطل سلمی کو شمشاط بھیجا تو انہوں نے اسے فتح کر لیا۔ ملطیہ جو کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا اسے دوبارہ فتح کرنے کے لیے انہوں نے حبیب بن مسلمہؓ کو بھیجا تو انہوں نے بزور طاقت اسے دشمن کے ہاتھوں سے چھین لیا اور وہاں ایک عامل مقرر کیا جو مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہتا۔ اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بذات خود اعدائے اسلام پر حملہ کیا جس سے مقصود روم کے اندر تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ اس دوران جب ان کا گزر ملطیہ پر ہوا تو انہوں نے وہاں اہل شام، اہل جزیرہ اور دیگر علاقوں کے کچھ لوگوں کو چھوڑا تاکہ موسم گرما کے حملوں کے لیے یہ راستہ پُرامن رہے۔

اسی سال انہوں نے حصن المرأۃ پر چڑھائی کی اور مرعش نامی شہر تعمیر کر کے اس میں اسلامی لشکر کو آباد کیا۔

( تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 167، فتوح البلدان: صفحہ 189)

ان تمام شہروں اور قلعوں کا شمار جزری سرحدی مقامات میں ہوتا تھا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 187، تا 196)

ان کارروائیوں کے بعد جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی قوت سے مطمئن ہو گئے تو انہوں نے رومی سرزمین کے اندر تک جنگی کارروائیاں بڑھانے کا پروگرام بنایا، چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے 32ھ میں اپنے لشکر کی قیادت کرتے ہوئے اس کے اندر بہت دور تک چلے گئے یہاں تک کہ قسطنطنیہ کے درے تک جا پہنچے۔

(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 167 تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 304 اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ فی الدولۃ الامویۃ: صفحہ 69