Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تعزیہ پرستی کرنے والے اسلام سے خارج ہیں، بانس و کاغذ وغیرہ سے تعزیہ بنانا اور اس کی زیارت کرنا لعنت کا موجب ہے محرم میں رافضیوں کے رسوم خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث اور جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہے، مسلمانوں کو ان اُمور بدعیہ سے پرہیز کرنا چاہیئے


سوال: بعض آدمی اہلِ سنت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سیدنا حسینؓ کی محبت کو وسیلہ بنا کر عشرہ محرم میں تعزیہ پرستی کرتے ہیں۔ اس کی کیفیت اس طرح ہے کہ پانچویں محرم کو کہیں سے دو مشت خاک لے آتے ہیں اور اس کو سیدنا حسینؓ کی لاش قرار دے کر اس کی تعظیم کرتے ہیں، اور چبوترہ رکھتے ہیں، پھر ہر روز اس پر شربت، فالودہ اور مٹھائی وغیرہ کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں، اس مٹی کو باعث نجات و مطلب برآری سمجھتے ہوئے سجدہ کرتے ہیں اور اس سے مال و دولت و اولاد وغیرہ مانگتے ہیں۔ پھر ساتویں رات کو طہارت کرتے ہیں، ایک پگڑی باندھتے ہیں اور اس پر پھولوں کا سہرا لٹکاتے ہیں، اور ایک چوکی پر جس کی دونوں طرف ہاتھ کی شکل کی ہوتی ہے وہ دستار بڑی عزت سے رکھ دیتے ہیں۔ آٹھویں رات کو اس چوکی کو مع دستار کے سر اُٹھا لیتے ہیں ڈھول بجتا ہے اور ماتم و سینہ کوبی کرتے ہوئے گلی کوچوں میں پھرتے ہیں۔ اور نویں رات کو اس دو مشت خاک کو کفن پہنا کر اس قبر میں جو تعزیہ کے اندر بنی ہوتی ہے دفن کر دیتے ہیں اور پھر اس کو کندھوں پر اُٹھا کر گریہ و زاری اور سینہ کوبی کرتے ہوئے ہائے حسین ہائے حسین کہتے ہوئے گشت کرتے ہیں۔ اور دسویں تاریخ کو چاشت کے وقت اس کفن میں لپٹی ہوئی مٹی کو بمعہ ساز و سامان کے روتے پیٹتے اپنے بنائے ہوئے کربلا میں لے جا کر دفن کر دیتے ہیں، اور اس کے بعد کئی چیزوں پر جن کو اپنے ہاتھ لے جاتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں، اور شام کو اس قبر پر چراغ جلاتے ہیں۔ 

اور ان لوگوں کے متعلق کیا حکم ہے جو سیدنا حسینؓ کی قبر کی شبیہ اپنی طاقت کے مطابق لکڑی، سونے چاندی سے بناتے ہیں، اس کو اپنے گھروں میں نہایت تعظیم سے رکھتے ہیں، اس کی پوجا کرتے ہیں، بعض لوگ ہاتھ وغیرہ کا علم بنا کر قبر کے ساتھ باندھ دیتے ہیں، اور ساتویں رات علَم کو صتعزیہ سے جدا کر کے گشت کیلئے لے جاتے ہیں اور دسویں دن علم مذکور کو سہرے وغیرہ پہنا کر تعزیہ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیتے ہیں۔ 

ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے جو محرم شروع ہوتے ہی پورے تکلفات سے کمروں کو آراستہ کرتے ہیں، آدمیوں کو بلا کر مرثیہ خوانی کرتے ہیں، کربلا کے واقعات سناتے ہیں مستورات کی بے عزتی کی داستانیں بیان کرتے ہیں اور ہائے حسین کہتے ہوئے ماتم کرتے ہیں، پھر شیرینی تقسیم ہوتی ہے۔ کیا یہ لوگ اہلِ سنت و الجماعت ہیں؟ اور کیا یہ کام جائز ہیں؟ یا کفر اور شرک ہے؟ یا گناہ کبیرہ یا صغیرہ ہے؟ 

جواب: اہلِ سنت و الجماعت وہ آدمی ہوسکتا ہے جو نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی راہ پر چلتا ہو، اور یہ تمام امور جو سوال میں مندرج ہیں نا مشروع حرکات ہیں حضور اکرمﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ایمان داروں کی یہ راہ نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہیں جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول کی نافرمانی کرے اور ایمان داروں کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے تو جدہر جاتا ہے جائے، ہم اس کو جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بدترین جگہ ہے۔ 

امام بیضاویؒ کہتے ہیں کہ اس آیت سے اجماع کی مخالفت کی حرمت معلوم ہوتی ہے اور ایسے لوگ اہلِ سنت ہونے کا دعویٰ کرنے میں بالکل جھوٹے ہیں، شریعتِ مطہرہ کے دائرہ سے خارج ہیں، ایسے لوگوں کی کوئی عبادت قبول نہ ہوگی۔

آنحضرتﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدعتی آدمی کا روزہ نماز صدقہ، حج عمرہ، جہاد نفل اور فرض کچھ قبول نہیں کرتے، اور وہ اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے آٹے سے بال۔

حضرت مولانا شاہ عبد العزیزؒ فرماتے ہیں کہ تعزیہ کو سجدہ کرنا بت کو سجدہ کرنے کے برابر ہے، کیونکہ لغتاً ہر وہ چیز جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے نصب (بت) ہے۔

شرح مواقف میں ہے کہ سورج کو سجدہ کرنا کفر ہے۔ اب خود ہی سوچو تعزیہ اور سورج میں کیا فرق ہے۔ مسلمانوں کو ان امور بدعیہ سے پرہیز کرنا چاہیئے، تاکہ صحیح مسلمان بن سکیں۔

ترمذی میں حدیث ہے کہ جب حضور اکرمﷺ غزوہ حنین کو نکلے تو راستہ میں ایک درخت آیا، جس پر مشرک لوگ اپنی تلواریں لٹکایا کرتے تھے، اس کو ذاتِ انواط کہتے تھے تو مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہﷺ ہمیں بھی ایک ذاتِ انواط بنا دیں۔ آپﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو قومِ موسیٰ علیہ السلام کی سی بات ہوئی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ ان کے خداؤں جیسا کوئی ہمیں بھی خدا بنا دیں۔ خدا کی قسم! تم یہود و نصاریٰ کی ضرور پیروی کرو گے۔ 

پس تعزیہ داری بھی ذاتِ انواط ہی کی ایک صورت ہے کہ لوگ اس پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، یہ لوگ پورے مشرک کافر ہیں، کیونکہ انہوں نے خدا کیلئے شریک بنا دیئے، جس کی مخالفت قرآن مجید کی آیت: فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا الخ۔  (سورۃ البقرہ: آیت، 22)میں ہے۔ 

باقی رہا سینہ کوبی اور نوحہ و شیون تو آنحضرتﷺ کی سنت کے بالکل بر خلاف ہے، اور یہ بانس و کاغذ وغیرہ سے تعزیہ بنانا اور اس کی زیارت کرنا لعنت کا موجب ہے، حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو کسی فرضی قبر کی جس میں کوئی مردہ دفن نہیں ہے زیارت کرے۔ 

پس ایسے لوگ جو محض اتباع ہوائے نفس کی بنا پر تعزیہ پرستی وغیرہ کرے اور سنت کی پرواہ نہ کریں، اہلِ سنت و الجماعت بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں، ایسے لوگوں کو شرک و بدعت چھوڑ کر توبہ استغفار کرنی چاہیے۔ 

(فتاویٰ علمائے حديث: جلد، 11 صفحہ، 395)