Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تعزیہ داری میں شرکت اور تعاون کرنا اور اس کی زیارت کرنا


سوال: اگر مسلمان کوئی میلہ کریں جس کی مذہب میں کوئی اصل نہیں، جیسے تعزیہ داری، اور کافر، نہ اس لحاظ سے کہ میلہ کی تخریب ہو بلکہ اس لحاظ سے کہ مسلمانوں کو بحیثیتِ مذہب ہزیمت ہو مزاحم ہوں، تو ایسی صورت میں میلہ والے مسلمانوں کی شرکت دوسرے مسلمانوں کو جائز ہے یا نہیں؟

جواب: در صورت مرقومہ اربابِ فطانت و دیانت پر مخفی نہیں کہ مسلمانوں کو بحیثیتِ مذہب ہزیمت جب ہو کہ یہ میلہ تعزیہ داری کا مذہب و ملت یا ادنیٰ شعائر اسلام میں بھی داخل ہوتا، حالانکہ داخل نہیں، اور جب یہ میلہ مذکورہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہوا، بلکہ یہ میلہ بعض وجوہ سے میلہ فقیہ ہے اور بعض وجوہ سے میلہ شرکیہ ہے تو اس صورت میں مسلمانوں کو من حیث المذہب دینی و ملت یقینی کیونکر ہزیمت متصور ہو گی؟ یہ خیال خام بعض بلایان نافر جام ہے: وقول رب العالمین: يُوحِی بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا الخ۔ (سورۃ الانعام: آیت، 112)

اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ۝ (سورۃ الانعام: آیت، 116)

 مناسب حال و مقال بلایان بد خصال کے ہے، پس: فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ۝ (سورۃ الانعام: آیت، 112) ان کو اور ان کے بہتانوں کو چھوڑ دو۔ 

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ میلہ تعزیہ داری کا میلہ فسقیہ ہے بااعتبار اجتماع فساق تماش بین کے، اور یہ میلہ باعتبار بنانے والے اور تعظیم کرنے والے اور تقریب غیر اللہ چاہنے والے کے میلہ شرکیہ ہے۔ 

پس پہلی صورت میں تماشہ دیکھنا ان کے میلہ کا اور تماشہ دیکھنا تعزیہ کے میلہ کا دونوں برابر ہیں۔ زور و کذب وَمَا لَا یَنْبَغِی اور غیر مشروع ہونے میں بموجب اس آیتِ کریمہ کے:  

فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۝ (سورۃ الانعام: آیت، 68)

ترجمہ: یاد آجانے کے بعد ظالم قوم کے پاس مت بیٹھو۔ نیز بدلیل آیت سورة الفرقان وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ  الخ۔(سورة الفرقان: آیت، 72)

ترجمہ: جو بے ہودہ چیزوں پر حاضر نہیں ہوتے۔ 

ہر چند یہ آیت محتمل احتمالات کثیرہ کو ہے لیکن احتمال قوی یہی ہے کہ: یہ حاضر ہونا ہر اس چیز کو شامل ہے جو لائق و شائستہ نہیں، اس میں مشرکوں کی عیدیں اور فاسقوں کی مجالس بھی شامل ہیں۔ کیونکہ جو بد لوگوں کے پاس جائے گا، ان کے افعال کو دیکھے، ان کی مجلس میں حاضر ہو تو اُس نے ان کے گناہ میں شرکت کی۔ 

اور مدد دینا بنا بر تکثیر سواد اور اشاعت و رونق تعزیہ کی زیادہ تر سخت گناہ ہے حسبِ منطوق لازم الوثوق کے تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت، 2) 

ترجمہ: نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی میں مدد نہ کرو۔ 

و نیز مطابق فرموده آنحضرتﷺ من كثر سواد قوم فهو منهم جو آدمی کسی قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہی میں سے ہے۔ 

اور صورتِ ثانیہ میں یہ میلہ شرکیہ بلا ریب ہے، کیونکہ یہ تعزیہ منصوبہ فی ما نصب و عبد من دون اللہ: جو کھڑا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی عبادت کی جائے۔ میں داخل ہے كقوله تعالیٰ: کَاَنَّہُمۡ اِلٰی نُصُبٍ یُّوۡفِضُوۡنَ۝  (سورۃ المعارج: آیت، 43)

ترجمہ: گویا وہ اپنے بتوں کی طرف دوڑتے جارہے ہیں۔ نصب بضمتین: ہر وہ چیز جو کھڑی کی جائے، جیسے جھنڈا وغیرہ۔ 

پس تعزیہ بنانا اور ساتھ نشان توقیر و تعظیم کے چبوترہ یا کسی بلند مقام پر قائم کرنا اور رکھنا اور نذر و نیاز بتوقع حصولِ مطالب دنیاوی و امید حاجت روائی اور فراخی روزی و طلب اولاد و جاہ و منصب کے اس پر چڑھانا اور اس کی بے ادبی میں نقصان جان و مال کا اعتقاد رکھنا اور بہت عقیدہ واجب التعظیم کے سلام اور مجرا اور سجدہ اس کو کرنا، جیسا کہ رسم و رواج عرف و عادت تعزیہ پرستوں کی ہے، صریح بت پرستی ہے، کفار مکہ وغیرہ کی بت پرستی کی طرح۔

ایامِ جاہلیت میں کفارِ مکہ نے تقریباً تین سو بت گردا گرد خانہ کعبہ کے کھڑے کر رکھے تھے اور نذر و نیاز اور ذبح جانور بنابر تعظیم بتول کیا کرتے تھے۔ پس درمیان تعزیہ داران اور کفار بت پرستانِ مکہ مکرمہ وغیرہ کے کچھ فرق نہیں ہے، اس لئے کہ تعزیہ دار تعزیہ سے اعتقاد جلب منفعت و دفع مضرت کا رکھتے ہیں جیسے کفار بتوں سے معتقد حصول منافع و دفع مضار کے ہیں۔ الغرض جو معاملہ کفار اپنے بتوں کے ساتھ کرتے تھے وہی معاملہ تعزیہ دار تعزیہ سے کرتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ سارے مسلمانوں کو ایسے عقیدہ فاسدہ اور عملِ مذموم شرکی تعزیہ داری سے محفوظ رکھے، اور دین محمدی پر توفیق رفیق عطا فر مادے، اور جو لوگ خود نہیں بناتے، مگر مدد گار امور شرکیہ کے ہوتے ہیں ان کو بھی اس بلائے عظیم تائید شرکی سے توبہ نصیب کرے کہ امداد غیر مشروع سے باز آئیں۔ اور حسب توفیق فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۝ (سورۃ الانعام: آیت، 68) کے تعزیہ دار کی صحبت سے احتراز کرتے رہیں، کہ غضب الہٰی میں گرفتار نہ ہو۔

آنحضرتﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدعتی آدمی کا روزہ نماز صدقہ، حج عمرہ، جہاد نفل اور فرض کچھ قبول نہیں کرتے، اور وہ اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے آٹے سے بال۔ 

اور فرمایا: آنحضرتﷺ نے جو کوئی احداثِ بدعت کرے یا محدث کو جگہ دے یا اس کی تعظیم کرے اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کی نماز، روزہ، حج مقبول نہیں۔ 

اور فر مایا آنحضرت ﷺ نے کہ جو کوئی کسی قوم کی کثرت اور بھیڑ بھاڑ اس کی بڑھائے، یا تشبیہ کرے وہ اسی قوم سے شمار کیا جائے گا۔ 

اور جب تعزیہ پرست تعزیہ کے سبب ظالمین میں داخل ہوئے تو تعزیہ پرست مثل راون و کالی والوں کے ہوئے۔ تو اب دونوں کی شرکت و اعانت مساوی الاقدام ہوئی، بلکہ تعزیہ والوں کی اعانت بدتر ہے۔ کیونکہ بسببِ تعزیہ پرستی کے کفار اسلام پر بت پرستی کا الزام دیتے ہیں اور اکثر اوقات مسلمانوں میں تعزیہ پرستی کو دیکھ کر ہدایت سے باز رہتے ہیں۔ پس جس چیز کے سبب اسلام پر دھبہ لگے اور طریقہ ہدایت کا مسدود ہو، اس چیز کی شرکت و اعانت سراسر اسلام پر ظلم کرنا ہے اور کیوں ایسے امرِ فبیح کو مسلمانوں نے اختیار کیا جس کے سبب بمقابلہ کفار ہزیمت اٹھانی پڑے۔

پس ہر مسلمان پر فرض ہے کہ ان سب میلوں کی تخریب (خراب کرنے میں) برابر کوشش کرے، بلکہ تعزیہ داری کے اندر اس تخریب میں زیادہ کوشش کرے تا کہ اسلام پر الزام نہ آئے، اور ہدات کا راستہ مسدود نہ ہو، اور ہزیمت بھی نہ اٹھانی پڑے، اور نیز اس میں اہلِ بیتؓ کی توہین لازم آتی ہے، جیسا کہ ماہرینِ شریعت غزا پر مخفی نہیں ہے۔ پس پائے شگون پر ناک کٹانی عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ (فتاویٰ علمائے حدیث: جلد، 11 صفحہ، 403)