رافضیوں کا غلو اور عبادات میں شرک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیوں کا غلو اور عبادات میں شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3
اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ۔وہ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں ، جو امی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، جو انھیں نیکی کا حکم دیتا اور انھیں برائی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان سے ان کا بوجھ اور وہ طوق اتارتا ہے جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔ سو وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی زبان پر وہ حقوق واضح کر دیے ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں ؛ اور وہ حقوق بھی بتادیے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿اِِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا (8) لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا﴾ (الفتح 8۔9) ’’ بے شک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری دینے والا اورڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس کی تسبیح کرو۔‘‘پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و توقیر؛ اور صبح و شام صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی تسبیح بیان کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَمَنْ یُّطِعْ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَخْشَ اللّٰہَ وَیَتَّقِیہِ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْفَائِزُوْنَ﴾ (النور52)’’ اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اوراللہ سے ڈرے اور اس سے بچے تویہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘پس اللہ تعالیٰ صرف اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت اور اپنے خوف و خشیت اور تقوی کا حکم دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وَ لَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ﴾[التوبۃ ۵۹]’’ اور کاش کہ واقعی وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے، جلد ہی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔ بے شک ہم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں ۔‘‘یہاں پر دینے کو اللہ اور رسول کے لیے بتایا گیا؛ کیونکہ یہ شرعی عطیہ ہے؛ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مباح ٹھہرایا ہے۔ بخلاف اس کے جو ملک خلق اور قدر کی وجہ سے دیاگیا ہو؛ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرے۔ بیشک ایسا انسان مذموم اور عقاب کا مستحق ہے۔ اگرچہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق و تقدیر سے دی ہے۔ مگر جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے پر راضی ہو؛ اور اس پر راضی ہو جو اللہ تعالیٰ اوررسول نے حلال کیا ہے؛ اور حرام میں سے کچھ بھی طلب نہ کرے؛ تووہ ان لوگوں کی طرح ہوگا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَا ھُمْ یَسْخَطُوْنَ O وَ لَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ’’ اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں ، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں ۔ اور کاش کہ واقعی وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے۔‘‘[التوبہ ]یہاں پر صرف حسبنا اللہ تعالیٰ کہا ؛ ورسولہ نہیں کہا؛ اس لیے کہ صرف اکیلے اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندے کو کافی ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ ﴾[الزمر۳۶]’’ کیا اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ﴾[آل عمران ۱۷۳]’’جن سے لوگوں نے کہا : بے شک لوگ تمھارے خلاف جمع ہو گئے ہیں ، سو ان سے ڈرو، تو اس بات نے انھیں ایمان میں زیادہ کر دیا اور انھوں نے کہا ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔‘‘اورپھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بتایا ہے کہ وہ یوں کہا کریں :﴿ ُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٗٓ .... ﴾[التوبۃ۵۹]’’ جلد ہی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔....۔‘‘یہ بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیتے ہیں ؛ اور یہ دیناصرف ایک اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کے فضل سے ہوتا ہے؛ اور یوں نہیں کہا: اپنے فضل سے اور اپنے رسول کے فضل سے؛ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا قول ذکر کیا ہے :﴿إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ﴾[التوبۃ] ’’بیشک ہم اپنے رب کی طرف راغب ہونے والے ہیں ۔‘‘اور یوں نہیں کہا : ورسولہ ۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَاِِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (7) وَاِِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ﴾[الم نشرح]’’ تو جب تو فارغ ہو جائے تو محنت کر۔ اور اپنے رب ہی کی طرف پس رغبت کر۔‘‘اورجو کچھ قرآن میں وارد ہوا ہے کہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے؛ اور صرف اسے پکارا جائے؛ صرف اس سے مدد مانگی جائے؛ اور اس کا خوف رکھا جائے۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ؛ مثلاً فرمان الٰہی ہے :﴿ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ﴾[الاحزاب۳۹]’’ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی ایک سے بھی نہیں ڈرتے۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ﴾ (النحل۵۱)’’اور مجھ سے ہی ڈرتے رہو۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَاِیَّایَ فَارْتَقُوْنِ﴾ (البقرۃ ۱۷۵)’’اور مجھ سے ہی تقوی اختیارکئے رہو۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴾[آل عمران ۱۷۵]’’ پس تم ان سے نہ ڈر؛ مجھ سے ہی ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ فَتَکُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ ﴾[شعراء۲۱۳]’’سو تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار، ورنہ تو عذاب دیے ہؤوں میں سے ہوجائے گا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا ﴾[النساء۳۶]’’اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کچھ بھی شریک نہ ٹھہراؤ۔‘‘اور محبت اوررضامندی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہوتی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ﴾[التوبۃ ۲۴]تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ وَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴾[التوبۃ ۶۲]’’ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے خوش کریں ، اگر وہ مومن ہیں ۔‘‘پس ہم پر واجب ہوتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں ؛ اور آپ کو راضی کریں ۔ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے:’’ تم میں سے کوئی ایک اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی اولاد ؛ اس کے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں ۔‘‘ [البخاری۱؍۸؛مسلم ۱؍۶۷؛مسند ۳؍ ۱۷۷ ]اور ایسے ہی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ﴾[النساء۸۰]’’جس نے رسول کی اطاعت کی ؛ یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ کے لیے اطاعت کی۔‘‘اور تمام کی تمام عبادات نماز؛ سجدہ؛ طواف؛ دعا؛ اور صدقہ اور قربانی جن کا صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کے لیے بجا لانا درست ہے؛ تو اللہ تعالیٰ نے مساجد کے علاوہ نماز کی ادائیگی کے لیے زمین کا کوئی کونہ خاص نہیں کیا؛ نہ ہی کوئی مقبرہ؛ نہ ہی کوئی درگاہ؛ اور نہ ہی کوئی چلہ کشی کی جگہ۔ اور نہ ہی کسی نبی کا مقام یا ٹھکانہ ؛ نہ ہی کچھ اور۔ اور ایسے مساجد کے علاوہ ذکر اور دعا کے لیے کوئی جگہ مختص نہیں کی؛ سوائے اس کے کہ حج میں مشاعر مقدسہ میں ذکر اور دعا کی جائے۔ نہ ہی کسی نبی یا ولی کی قبر ؛ اورنہ ہی کوئی دوسرا ٹھکانہ۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سمجھ کر روئے زمین پر حجر اسود کے علاوہ کی چیز کو بوسہ نہیں دیا جاسکتا۔ اور نہ ہی حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کو عبادت کی نیت سے چھوا جاسکتا ہے۔ رکنین شامیین[حطیم کی طرف]کا استلام بھی نہیں کیا جاسکتا؛ تو پھر کسی دوسری چیز کا کیا کہیں گے۔ حضرت ابن عباس اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہمانے بیت اللہ تعالیٰ کا طواف کیا ؛ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ارکان اربعہ [یعنی کعبہ کے چاروں کونے]کو چھونے لگے؛ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھوا کرتے تھے۔‘‘ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیت اللہ تعالیٰ میں کوئی بھی چیز چھوڑنے کے قابل نہیں ہے۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ آپ سچ فرماتے ہیں ؛ اور اپنی بات سے رجوع کرلیا۔‘‘[1] [1] ورد ہذا الأثر بِمعناہ فِی مواضِع کثِیرۃ فِی المسندِ أقربہا إِلی ما ذکرہ ابن تیمِیۃ فِی 3؍366 رقمِ 1877؛ وقال الشیخ أحمد شاکِر رحِمہ اللہ:’’ إِسنادہ صحِیح. وروی التِرمِذِی 2؍92 معناہ مختصرا بِِإسناد آخر عنِ ابنِ عباس. وانظرِ الأرقام: 2210، 3074۔عبادات کمال محبت کے ساتھ ساتھ کمال خضوع کو متضمن ہوتی ہیں ؛ پس جو کوئی مخلوقات میں سے کسی چیز سے ایسی محبت کرتا ہے جیسی محبت اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہیے؛ تو وہ مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ﴾[البقرۃ ۱۶۵]’’ اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو غیر اللہ تعالیٰ میں سے کچھ شریک بنا لیتے ہیں ، وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی محبت جیسی محبت کرتے ہیں ، اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اللہ تعالیٰ سے محبت میں کہیں زیادہ ہیں ۔‘‘صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ہاں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((أن تجعل لِلہِ نِدا وہو خلقک۔))’’کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے؟۔‘‘عرض کیا پھر کونسا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:(( أن تقتل ولدک خشیۃ أن یطعم معک۔))’’ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ کھانے میں تیرے ساتھ شریک ہو۔‘‘عرض کیا :پھر کونسا گناہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:(( أن تزانِی بِحلِیلۃِ جارِک ۔))’’یہ کہ تم اپنے ہمسائے کی عورت سے زنا کرو۔‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴾(الفرقان 68) اور وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا۔‘‘[1] [1] البخاری 6؍18 ؛ تفسِیر سورۃِ البقرۃ، باب: فلا تجعلوا لِلہِ أندادا؛ 8؍8 ؛ کتاب التوحِیدِ، باب قولِ اللہِ تعالی: فلا تجعلوا لِلہِ أندادا؛ مسلِم 1؍90 ؛ ِکتاب الإِیمانِ، باب کونِ الشِرکِ أقبح الذنوبِ؛ سننِ التِرمِذِیِ 5؍17 ؛ِ کتاب التفسِیرِ، تفسِیر سورۃِ الفرقان ؛ سننِ أبِی داود 2؍394 ؛ِکتاب الطلاقِ، باب فِی تعظِیمِ الزِنا ؛ سننِ النسائِیِ 7؍82 ؛ِکتاب التحرِیمِ، باب ذِکرِ أعظمِ الذنبِ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد میں عبادات کے بجا لانے کا حکم دیا ہے؛ اورباجماعت نماز کی فضیلت بتائی ہے اور اس کی ترغیب دی ہے۔آپ نے کسی نبی یا کسی نیک انسان کی وجہ سے کسی ٹھکانے کی طرف قصد کرنے کا حکم کبھی بھی نہیں دیا۔بلکہ ایسے مقامات کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ پس ایسے مقامات کا سفر کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ۔ یہ سب کچھ حقائق توحید کی بار آوری دین کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرنے کے لیے ہے۔ بعض حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا:کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کریں یا دور ہے کہ ہم اسے آواز دیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ﴾(البقرۃ ۱۸۶) ’’ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں ، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں ، تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘[تفسیر الطبری ۳؍۴۸۰] اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ، تو [سجدے میں ] تم بکثرت دعائیں کیا کرو۔‘‘[2] [2] مسلِم 1؍350ِکتاب الصلاِۃ، باب ما یقال فِی الرکوعِ والسجودِ؛ سننِ النسائِیِ [بِشرحِ السیوطِیِ] 2؍180 ِکتاب التطبِیقِ، باب أقرب ما یکون العبد مِن اللہِ عز وجل؛ سننِ أبِی داود 1؍320 ؛ ِکتاب الصلاِۃ، باب فِی الدعاِ فِی الرکوعِ والسجودِ۔صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہمارا پروردگار بلندو برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ،

صفحہ 2 از 3