رافضیوں کا غلو اور عبادات میں شرک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیوں کا غلو اور عبادات میں شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

ر بدبخت میں تقسیم کیا ہے؛ پس وہ انسان نیک بخت ہے جو اس پر ایمان لایا؛ اور اس کی اطاعت کی؛ اور بد بخت وہ انسان ہے جس نے اسے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ نجات اور سعادت مندی اسی سے بندھے ہوئے ہیں ۔ کوئی اور سبب ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر انسان اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پاسکے؛ اور دنیا اور آخرت کی کامیابی سمیٹ سکے۔ جن تک اس کتاب کی دعوت پہنچ گئی ان پر حجت رسالت قائم ہوگئی۔ سعادت تو اس پر ایمان لانے میں اور اس نور کی اتباع کرنے میں ہے جو اس کے ساتھ نازل ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں ۔‘‘[اس کی تخریج گزر چکی ہے]پس انبیائے کرام علیہم السلام لوگوں کو صرف ایک اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی عبادت بجا لانے ؛ اور اسی سے سوال کرنے اور اسی کو پکارنے کا حکم دیا کرتے تھے؛ اور لوگوں کو منع کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو نہ پکارا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ بیشک اللہ تعالیٰ کی نزدیک محبوب ترین جگہیں مساجد ہیں ؛ اور سب سے نا پسندیدہ بازار ہیں ۔‘‘ [1] [1] مسلِم 1؍464 ؛ ِکتاب المساجِدِ ؛ ومواضِعِ الصلاِۃ، باب فضلِ الجلوسِ فِی مصلاہ بعد الصبحِ، وفضلِ المساجِدِ . وفِی المسندِ ط. الحلبِی4؍81۔یعنی وہ ٹھکانے جو آپ کے شہر میں تھے۔اس وقت مدینہ میں کوئی کنیسا یا گرجا گھر نہیں تھا؛ اور نہ ہی کوئی شرک کرنے کی جگہ تھی۔ وگرنہ یہ مواقع بازاروں سے زیادہ برے ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان گرامی بھی ہے :’’ بیشک سب سے برے وہ لوگ ہیں جن پر قیامت آئے گی؛ اوروہ زندہ ہوں گے؛ اور وہ قبروں کو مساجد بنائے ہوئے ہونگے۔‘‘یہ تو اس وقت ہے جب کسی صحیح اور ثابت شدہ قبر پر درگاہ کے نام پر مسجد بنالی جائے؛ تو پھر اس وقت کیا عالم ہوگا جب بہت ساری درگاہیں جو کہ انبیائے کرام علیہم السلام صالحین رحمہم اللہ اورصحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کی قبروں پر بنائی گئی ہیں ؛ ان میں سے اکثر جھوٹ ہیں ۔ اور ان میں سے بہت ساری قبروں کے بارے میں اختلاف ہے؛ کسی بھی ثقہ کی روایت سے ان کی توثیق نہیں ہوسکی۔ جیسا کہ شام ؛ عراق اور خراسان وغیرہ کے علاقوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔ ان کو پوشیدہ رکھنے کا سبب اور ان میں کثرت کے ساتھ اختلاف ؛ بیشک یہ اس دین کی حفاظت کا ایک ذریعہ تھاجس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسول کو مبعوث فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾(الحجر۹) ’’بیشک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔‘‘ان ٹھکانوں [درگاہوں ]کو عبادت گاہیں بنانادین میں سے نہیں ہے۔ اسی لیے ان مقامات اور درگاہوں کی حفاظت نہیں کی گئی ۔ بلکہ یہ سارا معاملہ جہالت اورگمراہی پر مبنی ہے۔ بیشک یہ لوگ ان خوابوں پر بھروسہ کرتے ہیں جو شیاطین کی طرف سے بھی ہوسکتی ہیں ؛ یا پھر ایسی روایات کو بنیاد بناتے ہیں جو کہ جھوٹ ہیں ۔ یا پھر ایسے لوگوں سے مروی ہیں جن کی روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔شیاطین اپنے چیلوں کو اسی طرح گمراہ کرتے ہیں جیسے بتوں کے پجاریوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اور کبھی کبھار ان سے ہم کلام بھی ہوتے ہیں ۔ اور کبھی ان کے سامنے بھی آتے ہیں ۔ او ربعض اوقات ان کی کچھ ضرورتیں بھی پوری کرتے ہیں ۔ اور کبھی ایسے مقامات پر چیختے ہیں ؛اور ان زنجیروں کو ہلاتے ہیں جن میں قندیلیں بندھی ہوئی ہوتی ہیں ۔ اور کبھی بعض قندیلوں کو بجھا بھی دیتے ہیں ۔ اور کبھی اس طرح کے دوسرے ایسے کام بھی کرتے ہیں جیسے کام عرب میں بتوں کے پجاری کیا کرتے تھے۔ اور آج کل ایسی حرکتیں ترکستان ؛ چین اورسوڈان کے بتوں کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ تو [جاہل لوگ] یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ تو قبروالا میت ہی ہے؛ یا پھر فرشتے کو اس کی صورت میں بنادیا گیا ہے۔ حقیقت میں وہ شیطان ہوتا ہے جو ان شرک دھندوں پر لگا کر انہیں گمراہ کرتا ہے۔ جیسا کہ ان بت پرستوں کے ساتھ پیش آتا ہے جنہوں نے آدمیوں کی صورت میں بت تراش رکھے ہوتے ہیں ۔ یہ باب اپنی جگہ بہت وسیع ہے؛ اس کے احاطہ کا یہ موقع نہیں ہے۔


صفحہ 3 از 3