امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نامعلوم باپ کا بیٹا تھا" حوالہ "انسانیت موت کے دروازے پر، اور شہادت حسین از ابوکلام آزاد")
مولانا ابوالحسن ہزاروی"امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نامعلوم باپ کا بیٹا تھا"
حوالہ "انسانیت موت کے دروازے پر، اور شہادت حسین از ابوکلام آزاد")
جواب اہلسنّت
1: انسانیت موت کے دروازے پر اور شہادت حسین دونوں کتابیں ابو کلام آزاد کی تصانیف ہیں ان دونوں میں ایک ہی جملہ ہے جس کی بنا پر یہ طعن کیا گیا ہم ارباب انصاف کی توجہ کے طالب ہیں ذرا غور فرمائیں قطع نظر اس کے کہ وہ واقعہ سچ ہے یا جھوٹ اور اس کی واقعاتی صورتحال کیا ہے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں یہ الفاظ قاتلانِ حسین کی نشاندہی کرنے اور دشمنان آل رسولؐ کی تلاش میں بڑے مفید اور بے حد مؤثر ہیں یہاں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان دشمنی ثابت کرنے والے کون لوگ ہیں ذرا ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے کربلا میں دو فوجوں کا آمنا سامنا ہوا ایک لشکری خاندان رسولؐ کے عظیم المرتبت نفوس قدسیہ پر مشتمل تھا جس میں 72 پاکبازوں کا پتہ دیا جاتا ہے علاوہ ازیں آسمان عفت کی تاجدار مقدسہ و مطہرہ عزت مآب خواتین بھی شریک قافلہ تھیں جبکہ دوسری جانب ہزاروں خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دینے والوں پر مشتمل کوفہ کے دعویدارانِ حُب آل رسولﷺ کا جمع غفیر تھا. (جس کی تفصیل: قاتلان حسینؓ کون؟؟ اور "شکست اعدائے حسینؓ" مشہور محقق مولانا اللہ یار خان رحمہ اللہ کے لکھے ہوئے کتابچہ سے معلوم کی جاسکتی ہے) انجام کار اس لڑائی کا یہ ہوا کہ جو آل رسولؐ کی جانب سے لڑ رہے تھے وہ تمام حضرات حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت شہید ہوگئے سوائے حضرت زین العابدین رحمہ اللہ کے جو کہ علیل تھے گویا خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس قافلہ میں شریک تمام حضرات شہید ہو گئے حضرت زین العابدین رحمہ اللہ اور رشک حوران جنت خواتین سادات زندہ بچیں اب یا تو حضرت زین العابدین رحمہ اللہ مقدسہ مطہرہ عزت مآب خواتین کے ساتھ اس میدان میں تھے یا پھر دشمنان آل رسول کربلا کے میدان میں کھڑے تھے اب سوال یہ ہے کہ یہ مذکورہ جملہ جو یہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نقل کیا ہوا موجود ہے ابو کلام آزاد تک کیسے پہنچا دوستوں نے بتایا دشمنوں نے؟ یہ جملہ سننے والے دو ہی طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں یا اپنے قافلے والے یا دشمن کے قافلے والے۔ جب دوستوں میں کوئی بھی باقی نہ رہا ایک ایک کر کے سب حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر فدا ہوگئے اور یہ بالکل واضح ہے کہ یہ جملہ کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نا معلوم باپ کا بیٹا ہے نہ حضرت زین العابدین رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا نہ ہی خاندان محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ومنزا عالی مرتبت رشک حوران جنت خواتین نے ارشاد فرمایا تو یہ جملہ جو منقول ہو کر آیا ہے لامحالہ دشمنوں نے ہی اسے نشر کیا ہوگا کیونکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی گفتگو سننے والے اب صرف قاتلانہ حسین بچے تھے جب یہ بات متعین ہو گئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ گالی ان قاتلان حسین نے دی تھی جو بدبخت و بدقماش ظالم تھے تو اس سے کئی سوال حل ہوگئے
(ا) جو قاتلان حسین تھے وہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ الزام عائد کررہے تھے
(ب) ایک طرف انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی جان تلف کی تو دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی عزت پر حملہ آور ہوئے اور نسبی الزام لگائے۔
(ج) جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے دشمن تھے وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے بھی دشمن تھے۔
(د) خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاتل جھوٹی روایات گھڑنے اور ان کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت آل رسول کی طرف منسوب کرنے میں ماہر تھے لہذا ہماری ان گزارشات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمن اور ان پر دو دو گز لمبی زبان دراز کرنے والے ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی جان کے دشمن تھے کیونکہ جن لوگوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ گالی دی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی انہوں نے ہی شہید کیا اگر کوئی مائی کا لال انصاف کا خون نہ کرے اور ہماری ان گذارشات پر سنجیدگی سے غور کرے تو جان لے گا کہ دور حاضر میں موجود کون لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد نے ہمارے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو اجاڑا تھا۔
2: اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس الزام کی حیثیت کیا ہے اور یہ کتنا ثابت اور محفوظ واقعہ ہے، ہم اہلسنت والجماعت عرض کر رہے ہیں کہ جملہ سراسر جھوٹ جھوٹے راویوں کا گھڑا ہوا کربلائی قصہ گو لوگوں کے کہاوت اور مجرمانہ حرکت ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں
3: ابوالکلام آزاد موصوف کوئی محتاط قلم کار نہیں بلکہ غیر محتاط رطب و یابس کے جمع کرنے والے غیر معتبر بزرگ ہیں کئی باتوں میں ان کے تفردات پائے جاتے ہیں جن کو اہلسنّت نے ہرگز قبول نہیں کیا یہ واقعات جو موصوف نے نقل کئے ہیں یہ بھی رافضی قلم کی ایجاد اور ان کے خیالات کی کمائی ہے جیسا کہ مذکورہ بالا گزارشات میں عرض کیا گیا ہے۔