اہل قبرص کی طرف سے صلح کا مطالبہ
علی محمد الصلابیمسلمانوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے قبرص کے دار الحکومت ’’قسطنطنیہ‘‘ کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرے کو ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ وہ لوگ ان کے ساتھ صلح کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے جس کے لیے مسلمانوں نے چند شرائط رکھیں۔ جب کہ اہل قبرص نے یہ شرط رکھی کہ مسلمان ان پر کوئی ایسی شرط عائد نہیں کریں گے جس کی وجہ سے وہ اہل روم کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کسی مصیبت میں پھنس جائیں اس لیے کہ ہم میں نہ تو ان کا سامنا کرنے کی ہمت ہے اور نہ ان سے جنگ کرنے کی ہی طاقت۔ اہل قبرص کے ساتھ مسلمانوں کی شرائط کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ اگر جزیرہ کے رہائشی آمادہ جنگ ہوئے تو مسلمان اس کا دفاع نہیں کریں گے۔
2۔ جزیرہ کے باسی مسلمانوں کو ان کے دشمن رومیوں کی نقل و حرکت سے باخبر رکھیں گے۔
3۔ اہل جزیرہ مسلمانوں کو سالانہ سات ہزار دو سو درہم ادا کیا کریں گے۔
4۔ مسلمان ان کے راستے سے اپنے دشمن تک رسائی حاصل کریں گے۔
5۔ اگر رومی مسلمانوں سے جنگ کریں گے تو وہ ان کی نہ تو مدد کریں گے اور نہ مسلمانوں کے خفیہ معاملات سے ہی انہیں آگاہ ہی کریں گے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 261)
اہل جزیرہ کے ساتھ صلح کرنے کے بعد مسلمان شام واپس چلے گئے۔ اس حملہ نے یہ ثابت کر دکھایا کہ مسلمان رومیوں کے ساتھ جنگ کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں نیز اس دوران انہیں دشمن کے ساتھ اس قسم کی معرکہ آرائی کے لیے مشق کرنے کا موقع بھی میسر آیا جو اُن پر حملہ آور ہونے کے لیے کمربستہ رہتا ہے چاہے وہ حملہ بلاد شام پر ہو یا اسکندریہ پر۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 358، 359)