تعزیہ بنانا گناہ کبیرہ ہے
سوال: تعزیہ بنانا کیسا گناہ ہے؟ یعنی کسی درجہ کا گناہ ہے؟
جواب: تعزیہ پر حکم لگانے سے پہلے بنانے والوں کی نیت اور کام کو جاننا ضروری ہے۔ بعض لوگ تعزیہ اس نیت سے بناتے ہیں کہ یہ سیدنا حسینؓ کی قبر کی نقل ہے اور اس کو کارِ ثواب جانتے ہیں، چونکہ شریعت نے اس کام کے کرنے کا حکم نہیں دیا، نہ اس کو کارِ ثواب بتایا ہے، لہٰذا یہ فعل بدعت موجب گناہ کبیرہ ہے۔ بعض لوگ تعزیہ کے آگے سر جھکاتے اور عرضیاں لکھ کر تعزیہ سے یا امام ممدوح سے حاجات مانگتے ہیں، ایسی صورت میں تعزیہ بنانا شرک ہے، اس کا گناہ اتنا بڑا ہے کہ بغیر توبہ کے نہ بخشا جائے گا: قال الله تعالیٰ: اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ الخ۔(سورۃ النساء: آیت، 116)
(فتاویٰ علمائے حديث: جلد، 10 صفحہ، 102)