اللہ کے نافرمان اس کے نزدیک حقیر ترین ہیں
علی محمد الصلابیمذکورہ بالا غزوہ کے سیاق میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ جب انہوں نے رومی دشمن کے قیدیوں کی طرف دیکھا تو رونے لگ گئے اور پھر فرمایا: جب لوگ اللہ کے نافرمان بن جاتے ہیں تو اس کے نزدیک بے وقعت ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی طرف دیکھیں، یہ ایک غالب قوت تھے، لوگ ان کے زیردست تھے مگر جب انہوں نے اللہ کے حکم کو ترک کر دیا اور اس کی نافرمانی میں لگ گئے تو وہ ان ناگفتہ بہ حالات سے دوچار ہو گئے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 396)
دوسری روایت میں وارد ہے کہ جبیر بن نفیرؓ نے ان سے فرمایا: آپ رو رہے ہیں حالانکہ یہ ایسا دن ہے جس میں اللہ نے اسلام اور پیروان اسلام کو عزت و شان سے نوازا ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا: یہ غالب و زبردست قوم تھی اور ان کی اپنی بادشاہی تھی مگر جب انہوں نے اللہ کے حکم کو ضائع کر دیا تو اس نے انہیں ان برے حالات سے دوچار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا یہ حکم مسلط کر دیا کہ انہیں قیدی بنا لیا جائے اور جب قیدی ہونا کسی قوم کا حق ٹھہرتا ہے تو پھر اللہ کو ان کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا: جب بندے اللہ کے حکم کو ترک کر دیتے ہیں تو اس وقت اللہ کے نزدیک ذلیل ترین قرار پاتے ہیں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 159)
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی ان لوگوں پر ازراہ حسرت رو رہے ہیں جن کی بصیرتیں اللہ تعالیٰ نے سلب کر لیں اور انہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اس دردناک انجام سے دوچار ہوئے۔ بادشاہت اور عزت سے محروم کر دیے گئے اور ذلت و اطاعت گزاری کے لیے مجبور کر دیے گئے اور یہ اس لیے کہ وہ باطل کو اپنائے رکھنے پر مصر رہے اور دعوت حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کرتے رہے۔ اگر وہ لوگ عقل سے کام لیتے تو ان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے ان کا ملک بھی باقی رہتا اور ان کے گھر بار بھی آباد رہتے اور انہیں اسلام اور اہل اسلام کی نصرت و حمایت بھی حاصل ہو جاتی۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی یہ گہری بصیرت عطف و رحمت کا ایک مظہر ہے جس نے آپ کے آنسوؤں کا روپ دھار لیا جو اس عظیم انسان کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ یہ آنسو جو اُن میں پنہاں شفقت و رحمت کے جذبات کی تعبیر اور اس قوم کے انجام بد پر اظہار غم کے عکاس ہیں جس نے عزت پر ذلت و رسوائی، ہدایت و گمراہی اور ملک کے زوال کی صورت میں برے انجام کو پسند کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کو لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے کتنی خوشی ہوتی اور ان کے ذلت و رسوائی میں مبتلا رہنے سے کتنا دکھ ہوتا ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 397)