شیعہ مذہب میں رائے؛ اجتہاد کی طرف عدم التفات کا دعوی - ردِ…

شیعہ مذہب میں رائے؛ اجتہاد کی طرف عدم التفات کا دعوی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

[شیعہ مذہب میں رائے؛ اجتہاد کی طرف عدم التفات کا دعوی][اعتراض]:.... شیعہ مصنف رقم طراز ہے: ’’ شیعہ ائمہ نے رائے اور اجتہاد کی جانب دھیان نہیں دیا اور قیاس اور استحسان کو حرام قرار دیا۔‘‘[جواب]:....اس کا جواب کئی وجوہ سے دیا جاسکتاہے: پہلی وجہ :.... جہاں تک قیاس و رائے کا تعلق ہے اس میں اہل سنت اور شیعہ برابر ہیں ۔ اہل سنت میں اہل رائے بھی ہیں ؛ اور وہ بھی جو حجیت قیاس کے قائل نہیں ۔شیعہ میں اس بارے میں نزاع ہے ۔ زیدیہ شیعہ حجیت قیاس و اجتہاد کے قائل ہیں ؛ اوروہ اس باب میں اپنے ائمہ سے مرویات نقل کرتے ہیں ۔[1] [1] زیدیہ کے اس بارے میں دو گروہ ہیں ۔ ایک گروہ قیاس کو مانتا ہے اور اجتہاد اوررائے کا انکار کرتا ہے۔ جب کہ دوسرا گروہ اسے تسلیم کرتا ہے۔ ان کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : اشعری کی کتاب ’’مقالات الاسلامیین ۱؍۱۴۱۔دوم : بہت سارے خواص و عوام اہل سنت قیاس کو نہیں مانتے۔ایسا نہیں ہے کہ جو کوئی بھی خلفاء ثلاثہ کی خلافت کا قائل ہوگا وہ قیاس کا بھی قائل ہوگا۔بلکہ بغداد کے معتزلہ قیاس کو حجت قرار نہیں دیتے۔[2] [2] ۔قال الآمِدِی فِی الإِحکامِ فِی أصولِ الأحکام ۴؍۶۔:وقالتِ الشِیعۃ والنظام وجماعۃ مِن معتزِلۃِ بغداد کیحیی الِإسکافِیِ وجعفرِ بنِ مبشِر وجعفرِ بنِ حرب بإِِحالۃِ ورودِ التعبدِ بِہ(القِیاسِ) عقلاً،وإنِ اختلفوا فِی مأخذِ الإِحالۃِ العقلِیۃِ۔‘‘ [اصول الدین لابن طاہر ۹۔] اہل ظاہر کے فقہاء جیسے داؤد بن علی[3] [3] علامہ ابن حزم ظاہری نے اس سلسلہ میں ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام ہے :’’ملخص ابطال القیاس والرأئی والإستحسان والتقلید و التعلیل۔‘ ‘اور یہ کتاب استاد سعید افغانی کی تحقیق کے ساتھ ۱۹۶۰ء میں دمشق سے چھپ چکی ہے۔ اس کی مزید تفصیل آمدی کی کتاب’’احکام الاحکام میں مل سکتی ہے۔ اور ان کے متبعین ؛ اہل بیت کا ایک گروہ اور صوفیاء کا ایک گروہ قیاس کو نہیں مانتے۔

صفحہ 1 از 2