Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر اقرباء پروری کی تہمت

  علی محمد الصلابی

خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر شورش پسندوں اور خارجیوں کی طرف سے یہ تہمت لگائی گئی کہ وہ بیت المال میں ناجائز تصرف کرتے ہوئے اقرباء نوازی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس اتہام کو بنیاد بنا کر اعداۓ اسلام نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک زور دار پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی اور پھر یہ زہریلا مواد کتب تاریخ میں سرایت کر گیا۔ بعض مفکرین اور مؤرخین نے اسے حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا جبکہ حقیقتاً ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور اگر یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے بیت المال سے اپنے قرابت داروں کو کچھ دیا تو اس کا شمار ان کے مناقب میں ہوتا ہے نہ کہ ان کے عیوب میں۔

(عثمان بن عفان از صلابی: صفحہ 148)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بہت زیادہ مالدار تھے اور وہ بہت صلہ رحمی کرنے والے شخص تھے۔

(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 82)

اور وہ اس حوالے سے ان پر بڑی رقوم خرچ کیا کرتے تھے، وہ یہ سب کچھ اپنی جیب خاص سے کیا کرتے تھے جبکہ شرپسند لوگوں نے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ وہ یہ پیسہ بیت المال سے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے اس دعویٰ کا جواب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ دیا تھا: لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل بیت سے محبت کرتا اور انہیں مال و زر سے نوازتا ہوں۔ جہاں تک ان کے ساتھ محبت کا تعلق ہے تو میں نے ان کی محبت میں آکر کسی پر ظلم نہیں کیا بلکہ میں ان کو حقوق کی ادائیگی کے لیے پابند کرتا ہوں۔ رہا انہیں مال و زر سے نوازنا، تو یہ میں انہیں اپنے مالِ خاص سے دیتا ہوں۔ میں مسلمانوں کے مال کو نہ تو اپنے لیے جائز سمجھتا ہوں اور نہ کسی اور کے لیے۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ادوار میں بھی لوگوں کو اس وقت بڑے بڑے عطیات دیا کرتا تھا جب مجھے اس کی حرص بھی تھی اور شدید ضرورت بھی۔ اب جبکہ میں عمر کے آخری حصے میں ہوں تو ملحدین نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 356)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مال اور زمین بنوامیہ میں تقسیم کر دی تھی۔ اس دوران انہوں نے اپنی اولاد کو ان میں سے بعض کے برابر ہی حصہ دیا۔ آپ نے اس کا آغاز ابو العاصؓ کے بیٹوں سے کیا۔ آل حکم کے مردوں کو دس دس ہزار دئیے، اس طرح انہوں نے آپ سے ایک لاکھ وصول کیے۔ آپ نے اپنے بیٹوں کو بھی اتنا ہی دیا۔ آپ نے بنو العاص، بنو العیص اور بنو حرب پر بھی مال تقسیم کیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 356 )

یہ اور اس قسم کی دیگر نصوص آپ کے اعطاء مال کے حوالے سے بھی بڑی شہرت کی حامل ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے متعدد فضائل و مناقب کے بارے میں وارد صحیح احادیث ان کے بارے میں مشہور کردہ ان بے اصل اور خرافاتی روایات کی بیخ کنی کے لیے کافی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ عثمان ذوالنورین بیت المال کا زیادہ تر حصہ اپنے قرابت داروں پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔

.(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 83)

اپنے قرابت داروں کے بارے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا کردار اسلام کے کریمانہ و رحیمانہ پہلو کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ وَالۡمِسۡكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 26)

ترجمہ: اور رشتہ دار کو اس کا حق دو ، اور مسکین اور مسافر کو (ان کا حق) اور اپنے مال کو بےہودہ کاموں میں نہ اڑاؤ

ان کا یہ قابل تعریف رویہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے عملی پہلو کو اپنانے کی بھی اعلیٰ مثال ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے وہ دوسرے نہیں جانتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قرابت داروں کے ساتھ بڑی محبت کرتے، ان کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے اور ان پر احسان فرمایا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے مال آیا تو آپ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو دوسرے سب لوگوں سے زیادہ دیا۔

(بخاری کتاب الجزیۃ)

صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی نہیں بلکہ دیگر تمام مؤمنین کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہترین نمونہ ہیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 201 )

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ان کے مخالفین و معاندین کے اس الزام و اتہام کی تردید میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیت المال سے اپنے قرابت داروں کو بہت زیادہ مال دیتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے قریش کے چار لوگوں میں چار لاکھ دینار تقسیم کر دیے اور ایسے جْ مروان بن حکم کو لاکھوں روپے دے دئیے، مگر یہ محض الزام ہے اور یہ کسی بھی صحیح دلیل سے ثابت نہیں ہے۔ ہاں سیدنا عثمانؓ اپنے قرابت داروں کو بھی دیا کرتے تھے اور غیر قرابت داروں کو بھی۔ بلکہ آپؓ تو تمام اہل اسلام کے ساتھ حسن سلوک پر مبنی رویہ اپنایا کرتے تھے۔ مگر یہ کہنا کہ آپ اتنی کثیر مقدار میں لوگوں کو مال سے نوازا کرتے تھے تو اسے ثابت کرنے کے لیے صحیح اور ثابت شدہ دلیل کی ضرورت ہے، یہ ایک صریح جھوٹ ہے، اتنی بڑی رقم نہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی کو دی اور نہ خلفائے راشدینؓ میں سے کسی اور نے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 190 )