کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا حق دبا کر اپنے…

کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا حق دبا کر اپنے کسی قرابت دار کو کوئی عہدہ دیا؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کی خیر خواہی کے لیے کسی قسم کی کوتاہی روا نہ رکھی۔ اسی طرح انہوں نے اپنے خیال میں صرف باصلاحیت لوگوں کو ہی ذمہ دار عہدوں پر فائز کیا۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود وہ خود اور ان کے مقرر کردہ عمال و ولاۃ فتنہ پردازوں کے اتہامات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اسی طرح وہ ان بہت سارے مصنفین سے بھی محفوظ نہ رہ سکے جو اپنی کتابوں میں ان کے عہد خلافت کی غیر حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ خصوصاً ان نئے محققین سے جو چند واقعات کو لے کر بلا تحقیق احکام صادر کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر اصحاب قلم و قرطاس ضعیف یا شیعی روایات کی بنا پر خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں باطل اور ظالمانہ احکام صادر کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے چند نامور مؤرخین اور ان کی تالیفات کے نام درج ذیل ہیں:

نمبر شمار نام مؤلف نام کتاب

1۔ طہ حسین الفتنۃ الکبری

2۔ راضی عبدالرحیم النُظام الاداری و الحربی

3۔ صجی الصالح النظم الاسلامیۃ

4۔ مولوی حسین الادارۃ العربیۃ

5۔ صبحی محمصانی تراث الخلفاء الراشدین فی الفقہ و القضاء

6۔ توفیق الیوزبکی دراسات فی النظم العربیۃ و الاسلامیۃ

7۔ محمد الملحم تاریخ البحرین فی القرن الاوّل الہجری

8۔ بدوی عبداللطیف الاحزاب السیاسیۃ فی فجر الاسلام

9۔ انور الرفاعی النظم الاسلامیۃ

10۔ محمد الرّیِّس النظریات السیاسیۃ

11۔ علی حسن خربوطلی الاسلام و الخلافۃ

12۔ ابو الاعلی مودودی خلافت و ملوکیت

13۔ سید قطب العدالۃ الاجتماعیۃ

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 222، 232 )

اکثر مؤرخین نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اپنے قرابت داروں کے ساتھ محبت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عثمانی عہد خلافت میں حکومتی باگ ڈور انہی لوگوں کے ہاتھ میں تھی۔ ان مؤرخین کے خیال میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت سارے لوگوں کی ناراضی کا سبب یہی لوگ تھے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 159)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قرابت داروں میں سے سب سے پہلے جس شخص کو والی مقرر کیا گیا وہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما ہیں۔ دوسرے عبداللہ بن ابوالسرح، تیسرے ولید بن عقبہ، چوتھے سعید بن العاص اور پانچویں عبداللہ بن عامر ہیں۔ یہ پانچ لوگ ہیں جنہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مختلف علاقوں پر والی مقرر کیا اور ان تمام کا شمار ان کے قرابت داروں میں ہوتا ہے اور یہ ان کے نزدیک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے قابل اعتراض بات ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار جمع کریں تو معلوم ہو گا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں والیوں کی تعداد چھبیس تھی۔ کیا بنوامیہ میں سے ولایت کا استحقاق رکھنے والے پانچ اشخاص کا منصب ولایت پر فائز ہونا صحیح نہیں ہے اور خاص طور سے اس وقت جب ہمیں معلوم ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوامیہ کے افراد کو دوسروں سے زیادہ اس منصب پر فائز فرمایا تھا؟ یاد رہے کہ یہ پانچ لوگ ایک ہی وقت میں منصب ولایت پر فائز نہیں تھے۔ بلکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پہلے ولید بن عقبہؓ کو والی مقرر کیا پھر انہیں معزول کر کے ان کی جگہ پر سعید بن العاصؓ کو والی مقرر کر دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بنوامیہ کے صرف مندرجہ ذیل تین افراد اس عہدہ پر متمکن تھے: معاویہ، عبداللہ بن سعد بن ابوالسرح اور عبداللہ بن عامر بن کریز۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہؓ اور سعید بن العاصؓ کو معزول کیا، مگر کہاں سے؟ کوفہ سے جہاں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو معزول کیا تھا، وہ کوفہ جو کبھی بھی کسی والی سے راضی نہ ہوا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ان لوگوں کو ان کے عہدوں سے معزول کرنا ان کے لیے قابل اعتراض نہیں ہے بلکہ اس شہر کے ان شورش پسندوں کے لیے ہے جن کا انہیں والی مقرر کیا گیا تھا۔

(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 75)

بنوامیہ کو نہ صرف یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں عامل مقرر فرمایا بلکہ ان کے بعد یہ سلسلہ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی جاری رکھا جبکہ ان پر ان لوگوں کے ساتھ قرابت داری کی تہمت بھی نہیں تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے عمال میں سے بنو عبد شمس کے عاملین کی تعداد دوسرے تمام قریشی قبائل سے زیادہ تھی اور یہ اس لیے کہ ان کی تعداد بھی زیادہ تھی اور وہ شرف و سرداری میں بھی دوسروں سے بڑھ کر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید بن ابو العاصؓ کو مکہ مکرمہ کا عامل بنایا۔ سیدنا ابو سفیان بن حرب کو نجران کا اور خالد بن سعید کو بنو مدحج سے زکوٰۃ وصول کرنے کا مسؤل مقرر فرمایا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید کو بحرین کا عامل قرار دیا۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے صرف ان لوگوں کو ہی عامل بنایا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا تھا اور ان کے خاندان اور ان کے قبیلہ سے بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو شامی فتوحات کے لیے والی مقرر کیا اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بھائی معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو والی بنایا۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 175،176)

اس جگہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے اپنی منصبی ذمہ داریاں بانداز احسن پوری کیں یا نہیں؟ علمی حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے قرابت داروں میں سے جن لوگوں کو منصب ولایت پر فائز کیا تھا انہوں نے اپنے اپنے زیر نگیں علاقوں کے معاملات کی انجام دہی کے لیے اپنی صلاحیت و طاقت کا لوہا منوایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں بہت سارے شہر اور علاقے فتح کروائے اور انہوں نے اپنی رعیت میں عدل و احسان پر کاربند رہنے کا طریقہ اپنایا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 417)

صفحہ 2 از 3