کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا حق دبا کر اپنے…

کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا حق دبا کر اپنے کسی قرابت دار کو کوئی عہدہ دیا؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

مثلاً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ولایت کے دوران لوگوں کے ساتھ بہترین رویہ اختیار کیے رکھا جس کی وجہ سے وہ آپ کے ساتھ بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے حکمرانوں میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، تم ان کے لیے دعاگو رہو اور وہ تمہارے لیے دعائیں کرتے رہیں، تمہارے حکمرانوں میں سے بدترین لوگ وہ ہیں کہ تم ان سے نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنتیں برسائیں۔‘

(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ: رقم الحدیث: 65)

قاضی ابن العربی نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس بات کا اثبات کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب مقرر فرمایا اور یہ اعزاز صرف انہی کے حصہ میں آیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی دولت اسلامیہ کے والی رہے اور آپ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین خلفاء راشدین کے بھی، صرف اسی پر بس نہیں بلکہ حضرت حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما نے بھی آپ کے ساتھ صلح کرنے کے بعد ان کی خلافت کو تسلیم کیا۔

 (العواصم من القواصم  صفحہ 82)


صفحہ 3 از 3