Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسلم شریف میں حدیث ہے:’’جو مرا بغیر سردار کے، وہ جہالت کی موت مرا‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟

  نقیہ کاظمی

امارت کی اہمیت اور اس کی شرائط
سوال: مسلم شریف میں حدیث ہے جو مرا بغیر سردار کے، وہ جہالت کی موت مرا اس کا کیا مطلب ہے اور سردار غیر قریش بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ سردار ہونے کے لیے کن کن اوصاف کی ضرورت ہے اور سردار کے ساتھ کیسی عقیدت رکھنا چاہیے؟
جواب: صحیح مسلم میں حدیث اس طرح پر ہے
ومن مات ولیس في عنقہ بیعۃ،مات میتۃ جاھلیۃ۔
(صحیح مسلم،رقم الحدیث: 1851)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص امامِ وقت کے ہوتے ہوئے اس کی بیعت نہ کرے اور بلا بیعت کے مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا، یعنی گمراہی پر مرا۔ اس سردار کا قریشی ہونا ضروری ہے، جو امامِ وقت اور امیر المؤمنین ہو، یعنی تمام مسلمانوں کا انتظام جس کے اختیار میں ہو۔ ایسا سردار قریشی کے ہوتے ہوئے غیر قریشی نہیں ہو سکتا۔ ایسا سردار، جو امامِ وقت اور امیر المؤمنین ہو، جب موجود ہو تو اسی کے ہاتھ پر ایک مسلمان کو بیعت کرنا ضروری ہے اور اس کی اطاعت، یعنی اس کا حکم ماننا واجب، بشرطیکہ اس کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہو۔ اگر اس کا کوئی حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اس کا حکم ماننا جائز نہیں۔ ایسے سردار ہونے کے لیے چند اوصاف کی ضرورت ہے، جن کا بیان کتبِ عقائد میں مفصل طور پر لکھا گیا ہے۔ از انجملہ یہ ہے کہ وہ عاقل بالغ مسلمان قریشی ہو اور دیندار ہو اور احکامِ اسلام کے نافذ اور جاری کرنے کی قابلیت رکھتا ہو، شرک و کفر و بدعت کا مٹانے والا ہو اور دینِ اسلام کو بلند کرنے والا ہو۔
ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم