چار آدمیوں نے حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کا باپ ہونے کا دعوی کیا" (ربیع الابرار)
مولانا ابوالحسن ہزاروی"چار آدمیوں نے حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کا باپ ہونے کا دعوی کیا" (ربیع الابرار)
جواب اہلسنّت
1: اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی نعمت دے رکھی ہو تو وہ بشرطیکہ پڑھنا جانتا ہوں تو اسی صفحہ پر لکھا ہوا پڑھ سکتا ہے لکھا ہے:
"ان هذا الخبر و الذي بعده موضوعان وضعہ الذين يكرهون بني اميه"
(عکسی صفحہ 551 حوالہ شیعہ کتاب تحقیقی دستاویز ص 953 حاشیہ سطر 1 کے آخر دو لفظوں سے) مطلب یہ ہے کہ بے شک یہ روایت اور اس کے بعد والی روایت یہ دونوں گھڑی ہوئی روایتیں ہیں جو لوگ بنی امیہ کے دشمن ہیں انھوں نے یہ من گھڑت روایتیں اڑائی ہیں۔
محترم قارئین! اندازہ لگائیں جھوٹی اور من گھڑت کہانی اڑا کر اور اپنے گھر کی مشین میں یہ کہانی تیار کر کے پھر اہلسنت کو الزام دیتے ہیں جبکہ کتاب پر صاف لکھا ہوا موجود ہے کہ یہ رافضی اور بنو امیہ کے دشمن ٹولوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔
2: علامہ زمخشری صاحب کے بارے میں ہم عرض کر چکے ہیں یہ صاحب فاسدالعقیدہ بزرگ ہیں ان کی کتاب سے اہلسنّت پر الزام قائم کرنا خالص دجل اور بدترین ظلم ہے
3: نسب کی بنا پر طعن کرنا ان کو بھی زیب نہیں دیتا جو خود محفوظ النسب ہو اور جس کے ہاں متعہ کے بغیر جنت کا داخلہ ہرگز ممکن نہ ہو اور اسی خاص عبادت کے حصول کے لئے شام غریباں اور مجلسِ عزا کا انتظام اہتمام کیا جاتا ہو وہاں پر کون کہہ سکتا ہے میرا خاندانی نسب پوری طرح محفوظ ہے اس کا حساب کسی کے پاس ہے کہ متعہ کا ثواب پانے کی دوڑ میں میراتھن ریس کے کتنے قلعے اس نے فتح کیئے ہونگے افسوس اپنا خاندانی نظام محض اپنی خرافات کی نظر کر کے عزت و آبرو کے خرمن کو آگ لگا کر دبے لفظوں میں اپنی بے بسی کا ایسے الفاظ میں ماتم کرتے ہیں جس میں اپنا درد سہ تو سکتے ہیں بتا نہیں سکتے لہذا اسلام کی عطا کردہ خاندانی شرافت و عزت کی حفاظت بےشک بڑی دولت ہے اور غیر تو آج تک اہل اسلام کے محفوظ نسب پر حسد کرتے آرہے ہیں اور دبے لفظوں میں اپنا دکھڑا اوروں کا نام لے کر سناتے ہیں
4.حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر ایسے لوگوں کے طعن کی کیا حیثیت جو اپنے عقیدے اور بتائے ہوئے خیال کی روشنی میں ہمیشہ ارزل اور خواری کی زندگی بسر کرتے رہے ہوں جبکہ آج کے دن تک پوری کرہ ارض پر مسلمانوں کی سب سے بڑی حکومت جو قائم رہی ہے وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انہوں کے زمانہ میں ہی قائم رہ سکی (بقول انگریز مورخ ایڈورڈگبن حضرت معاویہ نے نصف صدی میں نصف سے زیادہ دنیا فتح کی) بیس سال تک جس نے آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کی اس کو نسب کی گالی دینے کے لئے جھوٹی روایتیں گھڑ کر کتابوں میں رلا ملا دینے والوں کی حالت اس جولاہے سے زیادہ مختلف نہیں جو مامون الرشید حاکم وقت سے کہہ رہا تھا کہ یہ مامون میری نظروں سے گر گیا ہے (نحفۃ العرب) اب بھلا مامون کا ایک جولاہے کی نظر سے گرنا کیا حیثیت رکھتا ہے یہی حالت اِس جھوٹی روایت کے بل بوتے پر اعتراض کرنے والے کرم فرما کی ہے۔