آسودہ حالی اور اس کے معاشرہ پر اثرات
علی محمد الصلابیمال و دولت کی کثرت اور فتوحات اسلامیہ کی وجہ سے حاصل شدہ آمدن کے اثرات معاشرے پر مرتب ہونے لازمی تھے۔ اس سے معاشرے میں آسودگی آتی ہے اور لوگ دنیوی امور میں منہمک ہو جاتے ہیں نیز اس سے باہم مقابلہ بازی اور منافرت کا ماحول پروان چڑھتا ہے خاص طور ان لوگوں میں جن کے نفوس کو ایمان نے صیقل نہیں کیا ہوتا اور تقویٰ نے انہیں مہذب نہیں بنایا ہوتا۔ جیسا کہ بادیہ نشین، فتوحات کے دوران مسلمان ہونے والے لوگ اور ناز و نعمت میں پلنے والی اقوام کے نوجوان لوگ۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس بات سے بخوبی آگاہ تھے۔ آپ نے ایک دفعہ اس تبدیلی سے خبردار کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: دنیوی نعمتوں کا پورے طور سے میسر آنا، تمہاری لونڈیوں سے تمہاری اولاد کا جوان ہونا، بادیہ نشین اور غیر عرب اقوام کا قرآن پڑھنا۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 245)
پھر وہی کچھ ہوا جس کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ توقع کر رہے تھے، پہلے پہل تو اس تبدیلی کے آثار دولت اسلامیہ کے اطراف و کنار میں ظاہر ہونے لگے اور پھر آہستہ آہستہ خلافت اسلامیہ کا مرکز بھی اس کی زد میں آ گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا اس لیے دی ہے تاکہ تم اس کے ساتھ آخرت کو حاصل کرو۔ اس لیے نہیں دی کہ تم اسی کے ہو کر رہ جاؤ، یقیناً دنیا فنا ہونے والی ہے جبکہ آخرت باقی رہے گی۔ خبردار! فانی چیز تمہیں نہ تو قبول حق سے باز رکھے اور نہ باقی رہنے والی چیز سے تمہاری توجہ کو ہٹا دے۔ اپنی جماعت سے وابستہ رہو اور گروہ بندی سے اجتناب کرو۔
(احداث و احادیث الہرج: صفحہ 567)
پھر آپؓ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی:
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۞ وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 104)
ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔ اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
جب مسلمانوں کے لیے دنیوی نعمتوں کی فراوانی ہو گئی اور لوگ فتوحات کے بعد فارغ ہو کر بیٹھ گئے تو وہ اپنے ہی خلیفہ سے ناراض ہو کر ان سے حسد کرنے لگے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 362)
یہیں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آسودگی و خوش حالی نے خلیفۃ المسلمین کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں کیا کردار ادا کیا؟