عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں اجتماعی تبدیلی کا مزاج
علی محمد الصلابیمسلمان معاشرے میں جو گہری تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ ایسی قوت اور خاموشی کے ساتھ روبعمل رہیں کہ اکثر لوگ ان کا احساس کرنے سے قاصر رہے، یہاں تک کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے نصف ثانی کے آغاز میں پرتشدد طریقہ سے کھل کر سامنے آ گئیں اور پھر وہ سرکشی کی اس انتہاء تک جا پہنچیں جس کا نتیجہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی شکل میں سامنے آیا۔
(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 166)
فتوحات اسلامیہ کی تحریک کے دوران جب دولت اسلامیہ کی حدود میں وسعت پیدا ہوئی تو معاشرے کی ترکیب میں بھی تبدیلی رونما ہوئی اور اس کی بناوٹ میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ اس لیے کہ دولت اسلامیہ کو جہاں رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے وسعت میسر آئی وہاں اسے اس وسیع و عریض رقبہ پر مختلف اجناس و الوان، لغات و ثقافات، عادات و اطوار، افکار و معتقدات، ادبی و عمرانی فنون اور متعدد دیگر مظاہر سے بھی پالا پڑا جس نے اسلامی معاشرہ کو غیر ہم آہنگ، غیر منظم اور مضطرب کر دیا، اور خاص طور سے مؤثر کردار کے حامل بڑے بڑے شہروں میں، مثلاً بصرہ، کوفہ، شام، مصر، مدینہ اور مکہ وغیرہ، یہ شہر اپنے محل وقوع اور اہمیت کی وجہ سے فتوحات کے لیے لشکر روانہ کرتے اور ان کی واپسی پر ان کا استقبال کرتے۔ جب موت یا قتل جیسی مختلف وجوہات کی بنا پر ان کی آبادی میں کمی آ گئی تو ان کی جگہ مفتوحہ علاقوں کے لوگوں نے لے لی، مثلاً فارسی، رومی، ترکی، قبطی، کرد اور بربر وغیرہ۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق فارس، نصاریٰ عرب اور یہودیوں سے تھا۔
(دراسات فی عہد النبوۃ: صفحہ 369)
ان شہروں کے زیادہ تر رہائشی عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور عام طور سے شرف صحابیت سے بہرہ مند نہ تھے، یعنی ان لوگوں کا شمار ان خوش قسمت افراد میں نہیں ہوتا تھا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کافی تربیت حاصل کی یا تو اس لیے کہ وہ فتوحات میں مصروف رہے یا پھر صحابہ کرامؓ کی تعداد میں کمی آ جانے کی وجہ سے وہ اس سعادت سے محروم رہے۔