معاشرے کا پروپیگنڈہ سے متاثر ہونا
علی محمد الصلابیمخلوط قسم کا یہ غیر آہنگ معاشرہ اضطرابی کیفیت سے دوچار جھوٹے پروپیگنڈہ سے متاثر اور افواہوں پر کان دھرنے کا عادی بن چکا تھا۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 28 صفحہ 148)
یہی وجہ تھی کہ جب لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام میں عہد رسالت کے قریب اور ایمان و صلاح کے حوالے سے بڑی عظمت کے حامل اور ان کے ائمہ و حکمران اپنی ذمہ داری کو بانداز احسن نبھانے والے تھے تو ان میں کسی فتنہ نے سر نہیں اٹھایا تھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت کے دوران ایسے لوگوں کی کثرت ہو گئی جنہوں نے اگر کچھ نیک کام کیے تو ساتھ ہی ساتھ کئی گناہوں کے مرتکب بھی ہوئے، لہٰذا شہوت پرستی کا دور دورہ ہوا اور ایمان و دین کے ساتھ شکوک و شبہات کی آمیزش ہو گئی۔ یہ بیماری رعایا کے بعض لوگوں ہی میں نہیں بلکہ بعض حکمرانوں میں بھی سرایت کر گئی اور پھر اسی قسم کے لوگوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا جس کی وجہ سے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کا فتنہ کھڑا ہو گیا اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا اس کی وجہ طرفین میں اعلیٰ درجہ کے تقویٰ و اطاعت کا فقدان اور ان میں خواہش پرستی اور معصیت کی آمیزش تھی۔ ان میں سے ہر فریق تاویل کرتا اور یہ دعویٰ کرتا کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ یہ کہ وہ حق اور عدل کے ساتھ ہے۔ مگر ان کی اس تاویل میں نفسانی خواہشات کا بھی عمل دخل تھا۔ اگرچہ ان میں سے ایک جماعت دوسری سے زیادہ حق کے قریب تھی۔ ہمارے اس مؤقف کی وضاحت امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ایک پیروکار کے درمیان ان کی اس بات چیت سے ہوتی ہے، وہ آدمی کہنے لگا: مسلمانوں کو کیا ہوا کہ انہوں نے آپ کے بارے میں اختلاف کیا جبکہ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں اختلاف نہ کیا؟ اس کے جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مجھ جیسے لوگوں کے حکمران تھے جبکہ میں آج تم جیسے لوگوں کا حکمران ہوں۔
(التمہید و البیان: صفحہ 64 )
امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مسلم معاشرہ میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا بخوبی ادراک تھا۔ اسی لیے آپ نے امراء کے نام ایک خط میں لکھا: رعیت میں انتشار پیدا ہو رہا ہے اور وہ حریص اور لالچی ہو چکی ہے اور اس کی تین وجوہات ہیں: دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا، نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا اور دلوں میں بغض رکھنا۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 418)